bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

6 September 1965 Woh Satra Din چھے ستمبر ۱۹۶۵ء وہ سترہ دن

PKR 900.00

Author : Professor Syed Ameer Khokhar.

  • Description

Description

فتح کے پچاس سال
(عرضِ ناشر)

ستمبر کا سورج طلوع ہوتے ہی ہمارے ذہنوں میں 1965ء کے شہدا کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ آج 6ستمبر2015ء ہے، ٹی وی پر چیف آف آرمی سٹاف جناب جنرل راحیل شریف گرج دار آواز میں یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں، اس موقعے پرماضی کے قد آور جنرل ایوب خان یاد آ گئے، وہی لب و لہجہ، وہی مردوں کے ڈٹ جانے کا جذبہ، وہ ملی جذبہ، دُشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر مصلحتیں ایک طرف چھوڑ کر اللہ کے سچے سپہ سالار کا جذبہ جو مسلمانوں کی ازلی میراث ہے۔
جنرل راحیل شریف کا خطاب موجودہ حالات میں ہر محبّ وطن کے دل کی آواز نظر آ رہا ہے۔ ساری قوم آج جنرل راحیل کی قیادت میں مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی اعلیٰ کارکردگی کی معترف ہے۔ وہ گھڑیاں کس قدر رُوح پرور اور ایمان افروز تھیں جب ہمارے یہ عظیم سپہ سالار ان الفاظ سے ہمیں فخر و ناز کے ساتھ ساتھ اعتماد اور وقار کی سوغات بانٹ رہے تھے اور ہمارے جذبوں کی ترجمانی کرتے ہوئے فرما رہے تھے:
’’مجھے فخر ہے کہ میں جنگی اعتبار سے دُنیا کی سب سے بہترین اور تجربہ کار فوج کا کمانڈر ہوں۔ جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ افواجِ پاکستان تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، چاہے وہ روایتی جنگ ہو یا غیر روایتی، Hot Start ہو یا Cold Start ہم تیار ہیں۔ آخر میں، میں ایک بار پھر دفاعِ وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور شہدا کے بے شمار لواحقین کی موجودگی میں اس عہد کو دہراتا ہوں کہ ہم اپنے شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ‘‘
آج سے 50 سال قبل میجر عزیز بھٹی شہید نے بھارت کے دانت کھٹے کیے تھے، آج اسی خاندان کے بہادر جوان جناب راحیل شریف اسی مشن پر گامزن ہیں۔ جو اس عزم کے ساتھ وطن عزیز کے دفاع کے لیے شبانہ روز سرگرمِ عمل ہیں کہ دو نشانِ حیدر پہلے ہمارے گھر کی زینت ہیں اگر ایک اور نشانِ حیدر بھی ہمیں نصیب ہو جائے تو اس سے بڑی خوش قسمتی اور سعادت مندی کیا ہو سکتی ہے۔
16جون 1956ءمیں کوئٹہ میں میجر شریف کے گھر پیدا ہونے والے راحیل شریف نو سال کے تھے جب ان کے ماموں میجر عزیز بھٹی بھارت کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، پھر وہ پندرہ سال کی ہوئے تو اسی دشمن سے لڑتے ہوئے ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ان کے خاندان کو پاکستان سے شدید محبت تھی اور یہ اسی محبت کا تقاضا تھا کہ اس کے ماموں نے 1965ءاور بڑے بھائی نے 1971ءمیں نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے اور وہ مقام حاصل کیا جو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے۔ ان کی اسی بہادری کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز ’نشان حیدر‘ سے نوازا۔ یہ پاکستان کا واحد خاندان ہے جس کے دو افراد کو سب سے بڑے فوجی اعزاز دیے گئے۔ راحیل شریف نے اپنی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی اور خاندانی روایت برقرار رکھتے ہوئے 1976ءمیں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور مختلف عہدوں پر فائز رہے۔انہیں پاکستان ملٹری اکیڈیمی کی کمان بھی دی گئی اور وہ ترقی کرتے ہوئے کور کمانڈر بن گئے لیکن اب زمینی حقائق یکسر تبدیل ہوچکے تھے اور پاک فوج کو بھارت کے ساتھ ساتھ ایک ’ان دیکھے دشمن‘کا بھی سامنا تھا۔ انہوں نے پاک فوج کوقائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور باورکروایا کہ ہمارے وطن عزیز کو اس دشمن سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا بھارت سے ہے۔
دو نشان حیدر سمیت کئی دیگر اعزازات حاصل کرنے پر ان کی فیملی کو تمغوں والی فیملی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ راحیل شریف سیاست سے بیزار اور خالص پیشہ ور سپاہی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جو انہیںآرمی چیف کے عہدے تک لے گئی اور وہ اپنے دو سینئرز سے سبقت لیتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ منتخب ہوئے۔
1965ء میں بھی جب پوری قوم اُس وقت کے سپہ سالار جنرل ایوب کی ولولہ انگیز اور دشمن کے سامنے مردانہ وار ڈٹ جانے کے عزم پر ایک قوم بن کر متحد ہوئی تو اسلام دشمن، پاکستان دشمن قوتیں حیران وپریشان ہو گئیں کہ یہ کیا ہو گیا، مسلمان متحد ہو گئے، سیاست دان متحد ہو گئے، ہمارا یہ اتحاد، یہ جذبہ اُن کی راتوں کی نیندیں اُڑا کر لے گیا۔
ہندو یہودی عیسائی بھی آپس میں اختلافات رکھتے ہیں لیکن جب معاملہ مسلمان کا ہو تو یہ منافق اور سازشی مل بیٹھتے ہیں اور مل کر کسی نہ کسی طرح ہر مسلمان کی مخالفت اپنا قومی اور مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، اُن سب کو ماضی کی اپنی اپنی پٹائی اور اپنی شکستیں یاد آ جاتی ہیں کہ کیسے ماضی میں محمدبن قاسم نے سندھ فتح کیا تو ساتھ ہی علاقے کے لوگوں کے دل بھی فتح کر لیے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں نے کیسے یروشلم فتح کیا۔ بے تحاشہ طاقت کے نشے میں چُور رچرڈ کو کس طرح ملیامیٹ کیا اور صلاح الدین ایوبی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے عظیم ہیرو کا درجہ اختیار کر گئے۔
ہندو ہمارا ازلی دشمن ہے، یہ کبھی بھی کسی طور پر بھی ہمیں برداشت نہیں کرتا اور ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کسی طرح ہمیں ختم کر دے مگر جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔
ہم گناہگار سہی مگر اللہ اور اس کے رسولe کے نام لیوا تو ہیں اور پاکستان تو اسلام کا قلعہ ہے، اللہ تعالیٰ کبھی نہیں چاہے گا کہ اسلام کا یہ قلعہ شکست سے ریزہ ریزہ ہو جائے۔ اس کا ثبوت دُنیا نے 6ستمبر1965ء کو دیکھ لیا جب جنگ بدر کی طرز پر مسلمانوں سے تعداد میں کئی گنا زیادہ کفار پاکستان کی سرحدوں پر نقب زن ہوئے اور اللہ کی رحمت سے اتنے بے تحاشہ بھارت کی بزدل افواج کے سامنے ہمارے مٹھی بھر جوان سرخرو رہے۔ چونڈہ کے محاذ پر انسانی گوشت پوست کے مائوں کے لال دشمن کے دیوہیکل ٹینکوں کے سامنے بم باندھ کر کود گئے اور ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر کے ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں میں زندہ جاوید ہو گئے۔
آج سے تقریبا 800 سال قبل ایک مشہور و معروف صوفی با کمال بزرگ حضرت نعمت اللہ شاہ ولیa گزرے ہیں جن کے ہزاروں فارسی اشعار پر مشتمل دیوان کے علاوہ ایک قصیدہ بہت مشہور ہے جس میں اس برگذیدہ ولی اللہ نے آنے والے حوادث کی پیشین گوئیاں فارسی اشعار کی صورت میں کی ہیں، جو آج تک حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوتی چلی آرہی ہیں۔ انہی پیشین گوئیوں میں آپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ کی پیشین گوئی کر دی تھی اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ جنگ 17 دن کی ہو گی جس میں فتح مسلمانوں، یعنی پاکستان کی ہو گی۔ یہ اشعار واضح طور پر 6ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے!
شمشیر ظفر گیرند با خصم جنگ آرند
تا آنکہ فتح پابند از لطفِ آں یگانہ
ترجمہ: ’’یہ (پاک فوج) فتح والی تلوار پکڑ کر دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتح حاصل کر لیں گے۔‘‘
از قلب پنج آبی خارج شوند ناری
قبضہ کنند مسلم بر شہر غاصبانہ
ترجمہ: ’’پنجاب کے قلب سے ناری(جہنمی) لوگ بھاگ جائیں گے، مسلمان شہر (لاہور) پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
تشریح: ایک لحاظ سے لاہور کو پنجاب کا دل کہا جاتا ہے۔ 65ء کی جنگ میں دشمن کی فوجیں اچانک حملہ کر کے لاہور کے شالا مار باغ سے چند میل دور باٹاپور کے قرب و جوار تک پہنچ گئی تھیں۔ لیکن پاک فوج کی سخت مزاحمت سے وہ بی۔آر۔بی نہر کو عبور نہیں کرسکیں۔ بی۔آر۔بی پل کے ساتھ سڑک کے کنارے ان عظیم شہدا کی یاد گار کھڑی ہے جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے لاہور کا دفاع کیا۔ دوسرے معنوں میں یہ شعرواہگہ سرحد کے قریب ہندوستان کے اندر کھیم کرن شہر پر پاک فوج کے قبضہ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
از لطف و فضل یزداں بعد از ایام ہفدہ
خوں ریختہ و قربان دادند غازیانہ
ترجمہ: ’’سترہ روز کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلام کے غازی خونریزی کر کے اور قربانی دے کر کامیاب ہوں گے۔‘‘
تشریح: اس شعر میں ’’ایام ہفدہ‘‘ (17دن) کے الفاظ فرما کر حضرت نعمت اللہ شاہ ولیa نے 800سال قبل 6ستمبر1965ء کی پاک بھارت کی سترہ روزہ جنگ، نہ ایک دن کم، نہ ایک دن زیادہ کی بات کر کے اپنی پیشین گوئی کا لوہا منوایا ہے۔
پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح نے ان پیش گوئیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
جنگ ستمبر1965ء-ہماری فتح کو آج پچاس سال ہو گئے۔ اللہ کی رحمت اور ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی دن رات کی محنت سے آج پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ آج جنرل راحیل شریف کی قیادت میں مُلک کا بچہ بچہ ایک زبان ہو کر مُلک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے ایک قوم بن کر ایک بار پھر متحد ہے۔
اس عظیم الشان فتح کی مفصل تاریخ پر آج تک اُردو زبان میں کوئی قابل ذکر کتاب نہیں، جس کی \طلبا و اساتذہ کے حلقوں میں بالخصوص اور محبّ وطن قارئین میں بالعموم تشنگی محسوس کی جاتی ہے۔ یہ کتاب اس خلا کو پُر کرنے کی ایک بھرپور کوشش ہے۔
فتح کی 50سالہ گولڈن جوبلی کے موقع پر ادارہ بک کارنر یومِ دفاع پر لکھی گئی اصحابِ قلم و قرطاس کی خوبصورت تحریروں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہے۔ اُمید ہے کہ اس سنہری تاریخ اور یادداشتوں کو محبّ وطن پاکستانی عوام میں سراہا جائے گا اور یہ کتاب ملی حمیت، قومی غیرت اور وطن کی حفاظت کا جذبہ پیدا کرے گی۔
آج بھارت کی جانب سے پھر وہی جنگی حالات پیدا کیے جا رہے ہیں، آج ہمیں پھر سے 65 والے جذبے کی ضرورت ہے۔ ہم متحد ہو گئے تو دُنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔آئیے آج ہم مل کر عہد کریں کہ اس پاک سرزمین کا جان پر کھیل کر دفاع کریں گے اور ثابت کریں گے کہ ہم زندہ قوم ہیں، پایندہ قوم ہیں۔
آخر میں اللہ ربُّ العزت سے دُعا ہے کہ اے اللہ! ہم تیرے عاجز بندے تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ہمیں کفار کے سامنے شرم سار نہ کرنا، جیسے بھی ہیں ہم تیرے محبوب حضرت محمدمصطفیeکی امت سے ہیں۔ ہم سے جو حیلہ ہو گا ہم کریں گے آخری فیصلہ تو بہرحال تُو نے ہی کرنا ہے۔ تیری رحمت سے پُرامید ہیں کہ تُو ہمارے لیے بہتر فیصلہ کرے گا، تُو جو ستر مائوں سے زیادہ ہم سے پیار کرتا ہے اور اسلام دشمن،پاکستان دشمن ہندو حکمرانوں کو سبق سکھانے کا بہتر موقع فراہم کرے گا۔
سدا سلامت پاکستان
تاقیامت پاکستان
پاکستان زندہ باد

شاہد حمید