bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

Aalmi Sab Rang Afsanay عالمی سب رنگ افسانے

PKR 2,400.00

Category:
  • Description

Description

دل کی کہانی —

دل کی کہانی کہتے کہتے
رات کا آنچل بھیگ چلا تھا
(ناصرکاظمی)

سرد دھوپ ہے، میں اپنے من کی بوسیدہ حویلی کے دِیوار و دَر دیکھ رہا ہوں۔ جسم کی ہڈیوں کے شہتیر بوسیدہ نظر پڑے ہیں۔ دماغ کے محلول میں یادداشت کے رنگین نقشہ جات پر نسیان کی دیمک دیکھنے کو ملی ہے۔ موت کی چوکھٹ پر بیٹھ کر تخلیق کار آگہی کا عذاب جھیلتا ہے۔ میں دھوپ سمیٹ کر کتابوں کے کمرے میں آیا۔ ہزاروں کتب، جراید، رسائل، مطالعہ، عمررواں کے ساتھ عہد رفتہ دست و گریباں! خیال کے بھنور میں سر بہ زانو، میں بیٹھا سوچنے لگا۔ کتاب نوردی میں عمر گزری، وہ مطالعہ، تخلیقی جڑی بوٹیوں کا عرق، کیا سب خزینہ میرے ساتھ ایک روز لحد میں اُتر جائے گا—؟ میں خوشہ چینی کے سفر پر نکلا اور چالیس برس کی مسافت مطالعے کی پگڈنڈی پر طے کی۔ کرئہ ارض کے مشاہیرادبا کے در پر دستک دی۔ مترجمین کے ساتھ نشست رہی۔ قطرہ قطرہ صراحی بھرتی چلی گئی۔ میری زندگی کے چالیس برس کا مطالعہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ عالمی افسانوں کا انتخاب نہیں — میرے ذاتی مطالعے کا عرق ہے۔
اس میں سب، رنگ آپ کو ملیں گے — اٹلی، افغانستان، امریکہ، رُوس، برازیل، عراق، مصر، ایران، شام، ترکی — اور بھی رنگ سِوا اِن کے، شامل ہیں فہرست میں!
ہم نے سب، رنگ چنے ہیں اور کتاب کا نام ’’عالمی سب رنگ افسانے‘‘ تجویز کیا ہے۔ اسے سنوارا ہے، نکھارا ہے، کس کے لیے؟ — آپ کے لیے!!
یہ وہ افسانے ہیں جو آج بھی میرے وجود میں دھڑکتے ہیں۔ سانس لیتے ہیں، جنہیں دست قضا نہیں چھو سکا۔ دعویٰ کرنا بہت مشکل ہے، بہت مشکل! لیکن یہ میرا ایقان ہے کہ قاری اس توشۂ خاص کو جہاں سے جی کرے، کھول لے، افسانہ پڑھ ڈالے۔ افسانہ اس کی روح میں تحلیل ہو جائے گا۔ یہ افسانے شوقِ نام وری میں جمع نہیں کیے گئے اور نہ ہی میرے دوست گگن شاہد / امرشاہد نے انہیں کاروباری پیمانوں پر جانچا ہے۔ بس سادہ سی کھری سچی بات ہوئی۔ میں نے عرض کیا۔ یہ میرے پسندیدہ چنیدہ وہ افسانے ہیں جو عالمی ادب میں امر ہیں۔ امر افسانوں کو امرشاہد نے امر کر دینے کی حامی بھر لی۔ دونوں بھائیوں نے کتاب کو بے پناہ تزئین و اہتمام کے ساتھ شائع کیا اور سب رنگ سرورق کے ساتھ ساتھ بیچ میں دی گئی تخلیق کاروں کی تصاویر سے روشناس کرایا ہے، یوں یہ حسین اور دلکش کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
میں قاری اور تخلیق کے درمیان حائل ہونے کا قائل نہیں ہوں۔ بس چند لمحے! یہ تحقیقی دستاویز نہیں کہ کتابیات ترتیب دی جائے— مترجم کا نام ہی اعتبار اور کتابیات ہے۔ کیوںکہ سینکڑوں رسائل، جرائد، ڈائجسٹ، کتابیں زیرمطالعہ رہی ہیں۔ ان میں سے جو افسانے میری رُوح کو چھو گئے وہ میں نے قاری کے سامنے سجا دیے ہیں۔ اس کٹھن خوشہ چینی میں عم زاد بشارت احمد ملک، سیّد زبیر شاہ، خاقان ساجد، گگن شاہد، امرشاہد اورسعدیہ امیر کی مشاورت، لفظ بینی کی محنت کا شکریہ ادا کرنا فرض عین ہے۔ اللہ کریم ان سب کو تادیر سلامت اور خوش رکھے۔ انسان کی تکریم فرض عین ہے۔ سیّدمبارک شاہ مرحوم کا شعر یاد آیا……

آدم کی کسی رُوپ میں تحقیر نہ کرنا
پھرتا ہے زمانے میں خدا بھیس بدل کے

محمدحامدسراج