bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

Kulyat e Hali کلیات حالی

PKR 1,800.00

  • Description

Description

پیش لفظ

یہ بھی اُردو شعر و ادب کی نا قدری ہے کہ اس کے مشاہیر شاعروں، ادب کے عظیم ترین محسنوں اور معماروں کی قدر دانی جیسے ہونی تھی ویسے ہو نہ سکی۔ الطاف حسین حالیؔ، غالبؔ اور شیفتہؔ کے شاگرد، سر سید کے فرماں بردار، محمد حسین آزؔاد، شبلیؔ نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد، صدر یار جنگ شیروانی اور چراغ علی کے مصاحب، علی گڑھ کالج اور تحریک کے اکابرین کے وفا دار، حیدر آباد، رام پور، پٹیالہ کے حکمرانوں روسا اور انگریز حکومت کے مدح شعار ممتاز شاعر تھے۔ وہ اگرچہ ترقی پسند شاعر، تنقید کے بنیاد گزار اور جدید نظم کے پیشوا تھے جنہوں نے تنقید اُردو شعر و ادب میں مقدمۂ شعر و شاعری، نثری کارناموں میں حیات جاوید، یاگار غالبؔ اور حیات سعدیؔ کے علاوہ اُردو، فارسی اور عربی میں تقریباً ساڑھے نو ہزار اشعار چھوڑے ہیں جو ان کے ہم عصروں کے مقابل سب سے زیادہ وسیع اور تقریباً ہر صنف سخن پر محیط ہیں لیکن ان کا اصلی کارنامہ شعر و ادب میں جدت، مقصدیت اور زندگی کی قدروں کو شامل کرنا ہے۔ چناں چہ انہوں نے اگر مرثیۂ غالب سے یادگار غالب تک شعری، علمی، تہذیبی اور تنقیدی قدروں کو روشناس کروایا تو حیاتِ جاوید، مسدس، حقوقِ نسواں اور اولاد کے ساتھ علی گڑھ تحریک کی نظموں سے برصغیر کی قوم اور خوابیدہ ملت میں تعلیمی، سماجی، اقتصادی، اخلاقی اور ملی شعور کو بیدار کر کے ایسی فضا بنائی کہ اس میں آگے چل کر علامہ اقبالؔ، سر راس مسعود، ابوالکلام آزاد، ظفر الحسن، عبدالحق غلام سیدین جیسے معنوی شاگردوں نے ایک پسماندہ اور بے حس ملت کو دنیا کی دوسری ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں پہنچا دیا۔ اس لیے اگر حالیؔ کو اُردو شعر و ادب کا مجدد کہا جائے تو اس میں اعتراض کی گنجائش نہیں۔ حالیؔ کا کلام قومی ادبی اور ملی سرمایہ ہے چناں چہ جب تک قوم اور ادب باقی ہے اس کی اہمیت بھی باقی رہے گی۔ حالی کا کلام جتنا مقبول اور موثر کل تھا آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ حالی شناسی پر راقم کی درجن بھر کتابیں اسی جذبے کے تحت ان کی سو سالہ برسی کے موقع پر پیش کی جا رہی ہیں جس کا ڈول ہم نے کئی سال قبل اُردو کے اندھے کنویں میں ڈال کر چلو چلو پانی جمع کر کے جام سخن میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے لیے ہم کسی تحسین اور صلے کے منتظر اس لیے بھی نہیں ہیں کہ ع
ہر بڑے کام کی تکمیل ہے خود اس کا صلہ
دِلّی اور لاہور میں حالی کی غزلوں، نظموں، قطعوں، رباعیوں اور بعض شخصی مریثوں سے لوگ واقف تھے جنہیں حالی مشاعروں، محفلوں اور جلسوں میں پڑھتے تھے۔ ان کے کلام کے بعض نمونے اُس دور کے گلدستوں، تذکروں، اخباروں اور رسالوں میں گاہے گاہے چھپتے رہے۔ حالیؔ کی بعض نظمیں علاحدہ علاحدہ مختلف مقامات پر شائع ہوتی رہیں جن میں مناجات بیوہ، مثنوی حقوق اولاد، شکوۂ ہند، تحفۃ الاخوان، فلسفۂ ترقی اور چپ کی داد وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن باقاعدہ طور پر حالیؔ کی زندگی میں مسدس حالی اور تین مجموعے کلام شائع ہوئے۔
مسدس حالی: 1879ء ضمیمہ مسدس حالی: 1886ء مجموعہ نظم حالی: 1890ء میں اور دیوان حالی معہ مقدمہ شعر و شاعری 1893ء میں۔ حالی نے اپنی زندگی کے آخری سال یعنی 1914ء میں اپنی فارسی اور عربی نظم و نثر کا مجموعہ ’’ضمیمۂ اردو کلیاتِ نظم حالی‘‘ مرتب کر کے شائع کیا لیکن افسوس زندگی نے وفا نہ کی چناں چہ ضمیمہ تو چھپ گیا مگر کلیات کی ترتیب اور طباعت نہ ہو سکی۔
حالی کے انتقال کے بعد اگرچہ حالی کے نواسے نے حالی پبلشنگ ہائوس سے حالی کی مختلف اہم تصانیف کو عمدہ طریقے پر شائع کیا لیکن کلیات نظم حالی کی طباعت میں مشکلات اس لیے رہیں کہ حالی کی بعض نظموں کے حقوقِ اشاعت بعض قومی اداروں اور تاجروں کو حالیؔ نے دے رکھے تھے اور وہ ان نظموں کی کلیات میں شمولیت پر راضی نہ تھے۔ چناں چہ اسی وجہ سے مختلف مقامات اور مختلف چھاپہ خانوں سے حالیؔ کی تصانیف جن میں علاحدہ علاحدہ رباعیات حالی، قطعات حالی، مسدس حالی اور حالی کی دیگر نظمیں شائع ہوتی رہیں۔
1922ء میں شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے حالیؔ کا غیر مدون کلام یعنی باقیاتِ حالی کا مجموعۂ ’’جواہرات حالی‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ ’’جواہرات حالی‘‘ کی پذیرائی سے متاثر ہو کر شیخ اسماعیل پانی پتی نے ’’کلیات نظم حالی‘‘ کو چار جلدوں میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے پہلی اور دوسری جلد میں ’’دیوان حالی‘‘ مطبوعہ 1893ء اور ’’جواہرات حالی‘‘ 1922ء میں شائع شدہ کلام کو اصناف وار ترتیب دے کر کلیات 1924ء میں پیش کیا۔ افسوس ہے کہ جلد سوم اور چہارم کبھی شائع نہیں ہوئیں۔ تقریباً چالیس سال بعد افتخار احمد صدیقی نے دو جلدوں میں کلیات نظم حالی کے عنوان سے حالی کا سارا کلام مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع کیا جو حالی کے کلام کے موجودہ نسخوں میں معتبر کلیات ہے۔ حالی کے کلام کی کمیابی اور پرانی کتابت کی غلطیوں سے بھرے ہوئے نسخوں کی طباعت حالی شناسی میں خلل انداز ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ چالیس پچاس سال میں حالی پر کوئی خاص کارآمد تحقیقی اور تنقیدی کام نہ ہو سکا۔ کچھ عمدہ مقالے، تبصرے اور تجزیے مقدمہ شعرو شاعری پر ہر دور میں ہوتے رہے اور یہ صدائیں بھی دو تین دہائیوں سے خاموش ہو گئیں۔ راقم نے حالی شناسی کے فروغ کے لیے حالیؔ کے کلام کو صرف نصاب میں شامل ضروری نہ جانا بلکہ عوام میں بھی اس کے چرچے کو لازم جان کر اس کی فراہمی کا منصوبہ بنایا جس میں اکیسویں صدی کے اُردو ماحول میں حالی کا کلام جدید علمی تحقیقی اور تنقیدی زاویوں پر استوار کر کے تجزیے اور تشریح کے ساتھ ایسی ترتیب اور تدوین کے ساتھ پیش کیا جائے کہ عالم اور عامی اس سے مستفید ہو سکیں۔ چناں چہ حالی کے کلام کے ہر حصے پر دقیق دیدہ ریزی اور مستند حوالوں کی آبیاری سے گلشن تجزیے اور تشریح کو سنوارا گیا۔ کلیات حالی دو جلدوں میں، حالی فہمی، مسدس حالی، حالی کی نظمیں، قطعات حالی، رباعیات حالی، حالی کی غزلیں، حالی کی نظمیں، حالی کے شخصی مرثیے، قصاید حالی، حالی کی نعتیہ شاعری، بچوں کے حالی اور دیوان حالی فارسی اسی گلشن کے پھول ہیں جن کو جدا جدا گل دانوں میں سجایا گیا ہے۔ حالی کے منظوم کلام کی تشریح اور تدوین کے لیے مطبوعہ نسخوں سے استفادہ کیا گیا کیوں کہ حالی کا قلمی غیر مطبوعہ کلام سب کچھ فسادات میں ضائع ہو گیا۔
حالی کی پوتی مشتاق فاطمہ کی صاحبزادی صالحہ عابد حسین اپنے مکتوب بنام ڈاکٹر رفیق حسین مرتب مقدمہ شعر و شاعری میں لکھتی ہیں۔ ’’فسادات کے بعد حالیؔ مسلم ہائی اسکول جو حالی کے بیٹے خواجہ سجاد حسین نے ان کی یادگار کے طور پر قائم کیا تھا ختم کر کے اُسے جین ہائر سکنڈری اسکول بنا دیا گیا تھا جو اب ڈگری کالج ہو گیا ہے۔ ان کا مکان کسٹو ڈین کے قبضے میں گیا۔ کتب خانہ ان کا تو پہلے ہی اسکول کو دے دیا گیا تھا۔ میرے والد اور چچا کا بہت بڑا کتب خانہ تھا جس میں نادر اور بیش بہا کتابیں تھیں وہ بھی فسادات کی نذر ہوا۔‘‘
حالی کے مطبوعہ کلام کے کئی نمونے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہم نے کلام میں جہاں اختلاف پایا وہاں حالی کی زندگی میں شائع شدہ کلام کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ دیوان حالی، مسدس حالی، مجموعہ نظم حالی، ضمیمۂ کلیاتِ حالی اور مختلف معروف نظمیں جو شائع ہو چکی تھیں ان سے استفادہ کیا گیا۔ ’’جواہرات حالی‘‘ اور دیگر نسخوں کو دوسری کتابوں کے حوالوں سے دیکھا گیا ہے حالی کے قدیم کلیات میں جو مسائل تھے جہاں کئی الفاظ ملا کر لکھے جاتے تھے اور بعض نسخوں میں یاں‘ واں‘ ترے‘ مرے کو یہاں‘ وہاں‘ تیرے‘ میرے لکھا گیا جس سے شعر وزن سے ساقط ہو گیا تھا اس کلیات میں ان نقائص سے اجتناب کرنے کے لیے کلیات نظم حالیؔ کی دونوں جلدوں سے بھر پور استفادہ کیا گیا جن کو ڈاکٹر افتخار صدیقی نے مرتب کیا اور ضروری حاشیے درج کیے۔ ڈاکٹر افتخار صدیقی کا کلیات موجودہ نسخوں میں سب سے عمدہ اور نقائص سے پاک ہے۔ ہم نے ان کے بعض حاشیوں کو شامل کر کے (ا ص) کی علامت کا نشان رکھا ہے۔ حالی کے تمام حاشیوں کو درج کیا ہے جنہیں بعض ناشرین نے کار اضافی جان کر نکال دیا تھا۔
حالی وہ ممتاز شاعر ہیں جنہوں نے روایتی اور جدید شاعری کی ہے۔ جہاں تک حالی کی غزلیات کا تعلق ہے انہوں نے قدیم غزلوں کے نمونۂ کلام کو اپنے دیوان میں رکھا تاکہ قدیم اور جدید کا فرق ظاہر ہو۔ چناں چہ قدیم روایتی غزلوں پر ’’ق‘‘ کا نشان دیوان میں لگا دیا جس کو کئی ترتیب اور تدوین کرنے والوں نے چنداں اہمیت نہ دی۔ اس کلیات میں ڈاکٹر افتخار صدیقی کے نسخے کی روش اختیار کی گئی ہے۔ تاکہ آیندہ قدیم اور جدید غزلیات میں خلط ملط نہ ہو چنان چہ قدیم اور جدید غزلیات علاحدہ علاحدہ ترتیب دی گئی ہیں۔ ناظرین حالی کی قدیم عشقیہ شاعری اور جدید مقصدی شاعری کو ان علامات کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں۔ حالی اس فکری انقلاب کے بارے میں دیوان کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’غرض کہ ایک مدت تک یہ حال رہا کہ عاشقانہ شعر کے سوا کوئی کلام پسند نہ آتا تھا بلکہ جس شعر میں یہ چاشنی نہ ہوتی تھی۔ اس پر شعر کا اطلاق کرنے میں بھی مضائقہ ہوتا تھا … مگر جب آفتاب عمر نے پلٹا کھایا اور دن ڈھلنا شروع ہوا… جس شاعری پہ ناز تھا اس سے شرم آنے لگی۔‘‘
حالی نے اُردو اور فارسی میں رباعیات کہی ہیں۔ اُردو اور فارسی کی عمدہ رباعیات کے سامنے حالی کی رباعیات معمولی اور پھیکی معلوم ہوتی ہیں۔ حالی کی رباعیات کے مجموعے کئی شائع ہوئے لیکن سب سے اچھا مجموعہ جس میں حالی کی سب سے زیادہ رباعیات ہیں شیخ محمد اسماعیل پانی پتی کا ترتیب شدہ ہے جو انہوں نے حالی کی سو سالہ ولادت کی سالگرہ پر شائع کیا تھا۔ اس کلیات اور مجموعہ رباعیات میں ہم نے اسی نسخے سے استفادہ کیا جسے افتخار صدیقی نے نظم کلیات حالی میں شامل کیا ہے۔ حالی کی اُردو رباعیات کی تعداد (120) اور فارسی رباعیات کی تعداد (20) ہے۔ شیخ اسماعیل کے مرتبہ رباعیات کے مجموعے میں کتابت کی غلطیاں اور بعض الفاظ کا املا غلط درج ہونے کے باعث مصرعے وزن سے خارج ہو گئے تھے وہ تصحیح کر کے شامل کر لیے گئے اور مزید ایک قطعہ جو غلطی سے رباعیوں میں شامل تھا خارج کر دیا گیا ہے جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے۔
موتی ہزار قصر سمندر میں ہوں نہاں
حالی منکسر المزاج تھے انہیں واعظ اور ناصح بننے میں حیا آتی تھی۔ خود لکھتے ہیں:
’’بعض رباعیوں اور قطعوں میں اخلاقی مضامین پیش کیے گئے چنان چہ شاعر کو پندو نصیحت کا پیرایہ اختیار کرنا پڑا۔ مگر یہاں شاعر ناصح سے اِس لیے مختلف ہے کہ وہ آپ بیتی بیان کر رہا ہے جب کہ پاک ناصح جگ بیتی کا ذکر کر رہا ہے۔‘‘
ہم نے حالی سے منسوب ’’نعتیہ خمسہ‘‘ کو جیسے شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے جواہرات یعنی مجموعۂ باقیاتِ حالی میں شامل کیا تھا اور ’’خستہ‘‘ حالی کا تخلص بتایا تھا اس کلیات میں الحاقی کلام بتا کر شامل نہیں کیا۔ یہ نعتیہ خمسہ فارسی میں ہے اور اس کا سن طباعت 1856ء ہے جب حالی کی عمر مشکل سے اٹھارہ برس ہے۔ افتخار صدیقی مرتب ’’کلیات نظم حالی‘‘ بھی اس کو حالی کا کلام نہیں مانتے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اِسے شامل کیا ہے۔ ہم نے پورا تحقیقی مضمون اس ضمن میں ’’حالی فہمی‘‘ میں ناظرین کی سہولت کے لیے شائع کیا ہے۔
حالی کی زندگی میں جو ان کے فارسی اور عربی کلام کے نظم و نثر کا مجموعہ بنام ضمیمۂ اردو کلیات شائع ہو اتھا اُس سے نثر کے حصے کو چھوڑ کر فارسی عربی کا منظوم کلام یہاں شامل کیا گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ حالیؔ نے سر سید کی تحریک پر مسدس لکھا۔ مسدس کا سب سے پہلا ایڈیشن جون 1879ء میں شائع ہوا جس کو پڑھ کر سرسید نے جو مکتوب لکھا تھا ہم نے اس کو اس دستاویز کا جز بنایا ہے۔ سرسید کا یہ کہنا کہ بارگاہ ایز دی میں خالی ہاتھ نہیں آیا بلکہ مسدسِ حالی لکھوا کر لایا ہوں اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ سرسید مسدسِ حالی کے گرویدہ تھے۔ چناں چہ سرسید نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ جلد 1880ء میں پورا مسدس چھاپا۔ حالی کے مسدس کا پہلا ایڈیشن سال بھر میں ختم ہو گیا۔ دوسرا ایڈیشن بھی ایک ہی سال میں ختم ہوا تو مسدس کے تیسرے ایڈیشن میں حالیؔ نے مسدس پر نظر ثانی کی، کئی مصرعوں کو بدلا، بندوں میں اضافہ کیا اور ضمیمہ کا بھی اضافہ کر کے مسدس کے چھے سال بعد 1886ء میں شائع کروایا۔ حالیؔ کے مسدس میں (294) بند ہیں اور ضمیمہ میں (164) بند ہیں اس طرح کل بندوں کی تعداد (458) ہے حالی کے سو سالہ ولادت کی سالگرہ پر 1935ء میں ڈاکٹر عابد حسین کے مقدمے کے ساتھ مسدس کا صدی ایڈیشن بڑے اہتمام سے شائع ہوا۔ ہم نے یہاں اسی صدی ایڈیشن کے نسخے سے استفادہ کیا۔
حالی نے اپنے کلام بالخصوص مسدس اور بعض نظموں میں پسماندہ بے حرکت مسلمان قوم کے اسلاف اور اکابرین کے کارناموں کو بیان کر کے یہ تلقین کی ہے کہ تم اب بھی یہ کام کر سکتے ہو اس طرح ان کا کلام مسلمانوں کی غیرت کی رگ کو پھڑکتا اور سوئی ہوئی قوم کے لیے ایک تازیانہ کا کام کرتا ہے کہ بیدار ہوں اور فلاکت و ہلاکت سے نجات حاصل کرو۔
حالی نے اپنے نظموں کے پہلے مجموعے میں چودہ نظمیں شائع کیں جس میں مدو جزر اسلام، مناجات بیوہ، حقوق اولاد اور شکوہ ہند کو اس لیے شامل نہیں کیا کہ وہ پہلے اور مسلسل شائع ہو رہی تھیں۔ حالی دیباچے میں لکھتے ہیں کہ اس مجموعے میں 1874ء تک کی نظموں کو شامل کیا گیا ہے۔ 1874ء میں جب محمد حسین آزاد کی تحریک اور کرنل ہال رایڈ کی تائید سے ایک مشاعرے کی بنا ڈالی گئی جس میں مصرعہ طرح کے بجائے موضوع دیا گیا تاکہ اُردو شاعری کو فرسودہ عشقیہ اور مبالغہ آمیز مضامین سے نجات دلوائی جائے تو انہوں نے بھی جو نظمیں پڑھیں یعنی برکھارت، نشاط امید، حب الوطن اور مناظرہ رحم و انصاف کو اس مجموعہ کا حصہ بنایا۔ حالی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ انہیں اگرچہ مغربی شاعری کے اصولوں سے واقفیت نہیں لیکن انہیں مبالغہ اور اغراق سے نفرت ہے جس کا ثبوت خود ان کا کلام ہے۔ حالی نے بتایا ہے کہ سائنٹیفک سوسائٹی کے اخبار اور 1872ء کے جاری شدہ تہذیب الاخلاق کے علاوہ مغربی لٹریچر کی ترجمہ شدہ کتابوں نے مسلمانوں کے ذہنوں میں لٹریچر کا انقلاب برپا کر دیا تھا جس کی وجہ سے مغربی طرز کی نظموں کی پذیرائی ہونے لگی۔ حالی کہتے ہیں:
’’میں اپنے قدیم مذاق کے دوستوں اور ہم وطنوں سے جو کسی قسم کی جدت کو پسند نہیں کرتے، معافی چاہتا ہوں کہ اس مجموعے میں ان کی ضیافت طبع کا کوئی سامان مجھ سے مہیا نہیں ہو سکا اور اُن صاحبوں کے سامنے جو مغربی شاعری کی ماہیت سے واقف ہیں، اعتراف کرتا ہوں کہ طرز جدید کا حق ادا کرنا میری طاقت سے باہر تھا۔ البتہ میں نے اُردو زبان میں نئی طرز کی ایک ادھوری اور ناپائدار بنیاد ڈالی ہے۔ اس پر عمارت چننی اور اس کو ایک قصر رفیع الشان بنانا ہماری آیندہ ہونہار اور مبارک نسلوں کا کام ہے، جن سے امید ہے کہ اس بنیاد کو نا تمام نہ چھوڑیں گے۔
پارۂ در خاک معنی تخم سعی افشاندہ ام
بو کہ بعد از ماشود ایں تخم نخل بار دار‘‘
یعنی میں نے دنیائے معانی کی خاک میں کوشش کے بیج بوئے ہیں تاکہ ہمارے بعد اس کے پھل دینے والے درخت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔
حالی نے دیوان کے دیباچہ میں لکھا: ’’کچھ نظمیں قوم کی حالت پر لکھی گئیں۔ بعضوں نے پسند کیں اور بعضوں نے نا پسند مگر چوٹ سب کے دل پر لگی۔ کہانی بے مزہ تھی مگر آپ بیتی اور باتیں اوپری تھیں مگر پتے کی۔ پہلا کلام جو عالم جہل و نادانی یا خلاصہ زندگانی کی نشانی ہے وہ بھی کسی قدر تلف ہو جانے کے بعد جس قدر بچا ہے اب تک محفوظ ہے۔ انسان کی طبیعت کا تقاضا ہے کہ جو کام اس کی تھوڑی یا بہت کوشش سے انجام ہوتا ہے عام اس سے کہ اچھا ہو یا برا اور پسند کے لائق ہو یا نہ ہو اس کو بڑے فخر کے ساتھ پبلک میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہے اور خاص و عام سے اپنی کوشش کی داد چاہتا ہے۔ان نظموں کو جو پہلے شائع ہو چکی ہیں دیکھ کر ناظرین کو یہ خیال پیدا ہو کہ ان میں نئی بات کون سی ہے۔ نہ خیالات ہی اچھوتے ہیں جو کسی کے ذہن میں نہ گزرے ہوں اور نہ طرزبیان میں کوئی ایسی جدت ہے جس سے کبھی کان آشنا نہ ہوئے ہوں۔ پس ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے کہ بے شک طرز ادا جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا وہ بہت کم فرق پائیں گے مگر خیالات میں ذرا بھی غور فرمائیں گے تو ان کو ایک دوسرا عالم نظر آئے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ گو محمل نہیں بدلے مگر محمل نشین بدل گئے اور گو پیالے وہی ہیں مگر شراب اور ہے۔‘‘
حالی نے یہ بھی بتایا کہ انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ کسی چیز کو عدم سے وجود میں لا سکے۔ نئے خیالات سے مراد وہی عام خیالات ہیں جن کو شاعروں نے ترک کر دیا تھا اور معمولی خیالات سمجھ کر چھوڑ دیا تھا جب کہ انہی خیالات میں زندگی کے راز چھپے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ نظموں میں اسلاف کے اقوال واقعات اور حکایات کو بھی بیان کیا گیا۔ طوالت و تکرار حالی کی نظموں کا سب سے بڑا عیب ہے۔ مثلاً: مناجات بیوہ جو حالی کی بہترین نظم ہے اس میں طوالت اور تکرار نے اسے کم اثر کر دیا ہے۔ اگر اس کے بعض حصوں کو نکال بھی دیا جائے تو نظم پر کوئی منفی اثر نہیں پڑ سکتا۔ حالی کو اگر موقع ملتا تو شاید ان نظموں کی تکرار اور طوالت پر نظر ثانی کرتے۔ ہم مطمئن ہیں کہ نسل آیندہ اس کا انتخاب کرے گی۔
جہاں تک کلیات کی ترتیب اور تدوین کا تعلق ہے جو کم از کم تین طرح سے مرتب کیا جا سکتا ہے یعنی اصنافی ترتیب، موضوعاتی ترتیب یا زمانی ترتیب۔ حالی کے پہلے کلیات کو شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے اُردو کے قدیم اور مروجہ اسلوب یعنی اصناف سخن کے اعتبار سے جمع کیا۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی نے کلیات نظم حالی کو موضوعاتی اعتبار سے تقسیم کر کے ہر صنف میں زمانی دور کو بھی ملحوظ رکھا۔ راقم نے بھی کلیات حالی میں اصنافی ترتیب دے کر جہاں منظومات کے سنین کا تعین ہو سکا انہیں تاریخوں کے اعتبار سے مرتب کیا ہے۔ راقم بک کارنر پبلشرز کے رُوحِ رواں جناب امر شاہد کی کاوشوں کا ممنون ہے جنہوں نے حُسنِ یوسف کو بازارِ مصر میں پیش کرنے کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ آخر میں ڈاکٹر بیدار بخت اور کرنل انور احمد کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے وہ تمام کتابوں کا بندوبست کیا جو میری لائبریری میں نہیں تھیں۔

خیر اندیش
ڈاکٹر سید تقی عابدی