bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

Mayya میّا

PKR 380.00

  • Description

Description

’’میّا‘‘ کے مطالعے سے گزرنے کے بعد میں ہفتوں سو نہیں پایا____ وہ رات بےقراری کی رات تھی۔ میں بالکنی پر آگیا۔ دیر تک ٹہلتا رہا۔ ہاتھوں میں سگریٹ مچلتا رہا۔ ایک کے بعد ایک____ سامنے آسمان کھلا تھا۔ ستاروں کی چادر تنی تھی۔ مگر میں کیا دیکھ رہا تھا۔۔ بہت سے چمکتے، ننھے منے ستاروںمیں سے، کسی ایک ستارہ میں، کس کی جھلک دیکھنے کو بیتاب تھا____ اندر کسی گوشے میں چپکے سے ایک آواز تھرائی____ ماں۔۔
ڈئیر حامد سراج!
میں تو فکشن لکھتا تھا____
تم نے میّالکھ دی ____ ماںکبھی فکشن، نہیں ہوتی۔ ماں تو بس ماں ہوتی ہے۔ صدیاں گزرجانے کے بعد بھی ____
مومن کا زمانہ ہوتا تو کہتا____ ’’میرا سارا دیوان لے جائو۔ مجھے میّادے دو۔‘‘
حامد سراج تم نے اردو فکشن کی تاریخ میں ’میّا‘ لکھ کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جو اِس سے قبل کسی بھی قلم کار کے حصے میں نہیں آیا تھا۔ میّا فکشن نہیں ہے۔ ایک ایسی درد بھری سچائی ہے، جس سے گزرنا بھی جگر والوں کا ہی کام ہے۔
حامدسراج ____
تم نے تو میّا میں ’صدیاں‘ رکھ دیں____
تم نے میّا کو فکشن کی لازوال بلندیوں پر پہنچادیا____
حامدسراج ____ اتنا تو بتادو ____کہ تم نے لکھا کیسے؟ ____ کوئی بھی فنکار ماں کو کیسے لکھ سکتا ہے۔ ماں تو فکشن ہی نہیں ہے____ اور سچی بات تو یہ ہے کہ ماں کبھی مری ہی نہیں، تم نے تو میّا کو ہمیشہ کے لیے امر کردیا ہے____

مشرف عالم ذوقی

دہلی، ہندوستان