bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

Mei Sahir Hoon میں ساحر ہوں

PKR 800.00

  • Description

Description

عرض ناشر

دُنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

’’تاج محل‘‘، ’’چکلہ‘‘، ’’کبھی کبھی‘‘، ’’میرے گیت‘‘، ’’جانے وہ کیسے لوگ‘‘ اور ’’فن کار‘‘ جیسی شاہکار نظموں کا خالق ساحر لدھیانوی جو پَل دو پَل کا شاعر ہی نہیں بلکہ ہر پَل کا شاعر ہے۔ جس نے بے تُکی فلمی شاعری کو بامقصد شاعری سے آشنا کیا۔ اس کی شاعری اس کے ذاتی حالات، افکار و تجربات کا پَر تو ہے جس میں اس کا درد و کرب واضح جھلکتا ہے۔ ساحر ایک محبت کا شاعر تھا جسے سرحد کے اِس پار بھی اور اُس پار بھی … جو بھی دیکھتا اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا… شخصیت کا سحر، سرکشی کا سحر یا شاعری کا سحر… کیا کہیے بس جان لیوا تھا لیکن ساحر کے لیے نہیں بلکہ اُس کے جادو سے گھائل ہو جانے والوں کے لیے… پھر وہ ساحر کی پہلی محبت لدھیانہ کی ایشر کور ہوں، نامور گلوکارہ لتا منگیشکر ہوں، حقوقِ نسواں کی علمبردار ہاجرہ مسرور ہوں، گلوکارہ سدھا ملہوترا ہوں، بےباک افسانہ نگار واجدہ تبسم ہوں یا پھر عظیم شاعرہ و ادیبہ امرتا پریتم ہوں … سبھی ساحر کے انقلابی، بے لگام اور عشقیہ خیالات سے جیسے جڑ چکے تھے۔ ساحر کو کئی ناقدینِ ادب نے خارج کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آج بھی نئی نسل کے مقبول ترین شاعر ہیں اور بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی کتابیں اُردو اور ہندی میں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ 25اکتوبر 1980ء کو اس البیلے شاعر کا ممبئی میں انتقال ہوا۔ چندر ورما اور ڈاکٹر سلمان عابد کی بدولت ساحر لدھیانوی کی درد بھری آپ بیتی اور جگ بیتی آپ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی، بلاشبہ یہ کتاب ساحر کے چاہنے والوں پر ایک احسانِ عظیم ہے۔
(امر شاہد)