bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

Mulla Nasruddin ki Kehaniyan Vol: 2 ملّا نصر الدین کی کہانیاں

PKR 380.00

  • Description

Description

آپ نے ملّا ، خواجہ یا حکیم نصرالدین کا نام تو سنا ہوگا۔ جس نے مزاحیہ قصوں کے ساتھ ساتھ علم اور عقل کی باتوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ شخص ترکی کا ایک مذاقیہ کردار تھا۔ جس طرح ہمارے ہاں ملّا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملّا نصر الدین کے قصے بڑے مزے لے لے کر آج بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملّا نصرالدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر دُہرے ہو جاتے۔ خاص طور پر وہ کہانیاں جو مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اردگرد کے ممالک میں پڑھی یا لکھی جاتی کافی دلچسپ ہیں۔ ہر کہانی میں نصرالدین ایک نئی صورتِ حال، جو کہ کافی دلچسپ ہوتی ہے، سے روبرو ہو تا ہے اور وہ اپنے نکتہ نظر کیمطابق زندگی کے حقائق میں زبان چلاتا ہے مگر وہ ایک مزاح بن کر رہ جاتا۔ ملانصرالدین کی کہانیوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف مزاحیہ ہیں، بلکہ اخلاقی سبق سے بھی مالامال ہوتی ہیں۔ اسی طرح فلسفیانہ اور فکری لحاظ سے بھی یہ کہانیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔
ملّا نصرالدین ایک صوفی بزرگ تھے۔ ملّا کا دور تیرھویںصدی عیسوی تھا۔ عہد وسطی کے سلجک دور میں، شہر اسکسیہر اور قونیہ میں زندگی بسر کی۔ بہت سارے ممالک مثلاً افغانستان، ترکی، ایران، ازبک کا یہ دعویٰ رہا کہ ملّا نصر الدین کا تعلق ان کے ملک سے تھا۔
یونیسکو نے 1996-1997 سال کو ملّا نصرالدین کا سال اعلان کیا۔
:دیگر نام
نصرالدین کا نام مختلف تلفظات کے ساتھ استعمال میں دیکھا گیا ہے۔ نصردین، نصرالدین، نصریرالدین، نصرتین، نصرتن، وغیرھم۔ ان کا نام ان القاب کے ساتھ ساتھ ملتاہے، حوگزا، حودجا، حوجا، حودشا، حودزا، حوکا، حوگیا، وغیرہ۔ عرب ممالک میں، جحا، ضوحا، غیوفا، گوہا، آفندی، ملاہ، ملا، مولانا وغیرہ ناموں سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔
:نسب
نصرالدین نے اناطولیہ میں زندگی بسر کی۔ تیرھویں صدی عیسوی میں، اسکسہر کے سوریہسار گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اسکسہر کو قیام گاہ بنا لیا۔ ان کی وفات جون 1275ء کو ہوئی۔
:لطیفے اور کہاوتیں
جیسے جیسے دور گذرتا گیا، نئی نئی کہانیوں کا اندراج ہوتا گیا اور چند کہانیوں میں ردوبدل بھی ہوئی۔ یہ کہانیاں دُنیا کے کئی خطوں میں داخل ہوئیں۔ ان کہانیوں کا مرکزی خیال علاقائی کہاوتوں، روایتوں، محاوروں میںرائج ہوتا گیا۔ ان کی کہانیاں مختلف تہذیبوں کا ایک حصہ بن گئیں۔ ملّا نصرالدین کی کہانیوں کا سب سے قدیم نسخہ 1571ء میں دستیاب ہوا۔ آج کل ملّا کے لطیفے دُنیا کے مختلف علاقوں میں عام ہیں اور بہت ساری زبانوں میںترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ ملّا ، اسلامی تہذیب یا مسلمانوں کی تہذیب کا ایک حصہ مانے جاتے ہیں، اور ان کے قصے مسلم علاقوں کے ادبی گوشہ کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ صرف اسلامی تہذیب ہی نہیں بلکہ دیگر تہاذیب کے ادب میں بھی ان کے لطیفے، کہانیوں اور محاوروں کی شکل میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ان کے لطیفے عام انسان کی روزمرہ زندگی سے اچھا خاصہ رابطہ رکھنے کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ ملا کا نام ایک اہم کردار کے روپ میں، البینین، ازیری، بنگالی، بوسنین، بلغاریہ، یونان، ہندی، اطالوی، پشتو، ایرانی، رومانی، سربی، ترکی، اردو، دہقانی، وگنیٹی تہذیبوں میں مشہور ہے اور یونانی تہذیب میں بھی کافی مشہور ہے۔ چین میں ملا کے نام سے کئی کارٹون فلمیں اور ناول عام ہیں۔ شہر اکسہیر میں ہر سال جولائی 5-10 تواریخ کو ’’بین الاقوامی نصرالدین حجا جلسہ‘‘ منایا جاتا ہے۔

کتاب میں شامل ملا نصرالدین کی کہانیاں

بادشاہ کا خادم
حور کے پہلو میں لنگور
ایک جھوٹ
حساب برابر
شاعری کا شوق
یہ میرا پہلا رشتہ ہے
نصرالدین کا بچہ
ایک فلسفی
شرط
اُف یہ گرمی اور یہ سردی
کپڑوں کی خریداری
کل قیامت ہے
آگ کی شدت
مقام و مرتبہ
آج کا موضوع
پگڑی
یہ بڑا مشکل معاملہ ہے
تم بھی ٹھیک کہتی ہو؟
ملّا نصرالدین کی لکھائی
پڑوسی کا باغ
ہنستے ہنستے رونا
دہی کا تجربہ
درُست الفاظ کا انتخاب
جرمانہ
حاکمِ وقت نایاب ہے
گائوں کی تعمیر
ایک بازو اور پائوں
منحوس کون؟
ملّا اور ٹِپ
کلر بلائنڈ
ایک جنگجو شکاری
اخلاق
مہمانِ خصوصی
حاکم کا جنازہ
زندگی
سمرقند
چھتری اور بارش
شہرزاد کی بیوہ
موچی کی پہیلی
بلی
بچے کی پیدائش
بغیر درد کے دانت
ملّا نے کریم بنائی
حلال و حرام
ملّا نے جیتی شرط
گائوں میں میلہ
پھلوں سبزیوں کے نام
ملّا کے سوال
کُشتی
ناریل کا درخت
اے چاند! تُو تو باز آ جا
نئی نسل کا چیتا
ہلاکو خان کا برتن
تین سال بڑا
ملّا کی مونچھیں
غیر مسلم لڑکی
دھاندلی
اگلی دنیا
تہذیب
حکمت کی بات
بچوں کی پہنچ سے دُور
قافلے
جمعہ کا خطبہ
یاد ہے نا
نصرالدین کا سِرکے کا اصول
قیادت
ملّا کی ذہانت
ملّا اور انجیر
ملّا نصر الدین کی تقریر
ملّا نصر الدین نے شکار کیا
تلافی
احتیاط