bookcorner  info@bookcorner.com.pk
Hot

Safarnama Ibn e Batuta سفرنامہ ابن بطوطہ

PKR 1,200.00

  • Description

Description

ابن بطوطہ کا سفر
(پیش لفظ)

سیّاح عالم ابن بطوطہ کا پورا نام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد بن ابراہیم تھا۔ وہ 14رجب المرجب 703 ھ بہ مطابق 25 فروری 1304ء میں مراکش کے شہر طنجہ میں پیدا ہوا۔ ابن بطوطہ نے 22سال کی عمر میں حرمین شریفین کی زیارت کا ارادہ کر کے سفر کا آغاز کیا۔ یہ جون 1325ء کی بات ہے، شاید ابن بطوطہ کو خود بھی اس بات کا یقین نہ تھا کہ اس کا یہ سفر حج افریقہ، ایشیا اور یورپ کے ایک کروڑ مربع کلومیٹر علاقے کی سیاحت پر اختتام پذیر ہو گا۔
جس قافلے کے ساتھ ابن بطوطہ عازم سفر ہوا، اس کے لوگ اس کے علم و فضل اور زہدوتقویٰ سے ازحد متاثر ہوئے اور یہی وجہ تھی کہ اہل قافلہ نے انہیں اپنا قاضی مقرر کر لیا۔ یہ قافلہ سکندریہ اور قاہرہ کے راستے جدہ جانا چاہتا تھا۔ اسکندریہ میں ابن بطوطہ کی ملاقات برہان الدین سے ہوئی۔ اس ملاقات نے ان کے دل میں چین اور ہندوستان کی سیاحت کا شوق پیدا کر دیا۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے بحیرہ احمر کو عبور کرنا ضروری تھا لیکن ابن بطوطہ کے پاس اس سے بہ حفاظت گزرنے کا انتظام نہ تھا لہٰذا شام کے علاقے سے گزرتے ہوئے وہ مکہ مکرمہ پہنچے۔
یہاں مناسک حج ادا کیے۔ حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ابن بطوطہ اپنے شوقِ سیاحت کی بنا پر پھر سے دُنیائے مشرق و مغرب کو سَر کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ ابن بطوطہ کی اگلی منزل عراق اور فارس تھی۔ موصل اور دیاربکر سے ہوتا ہوا وہ ایک بار پھر مکہ مکرمہ آیا اور مناسک حج ادا کرنے کے بعد وہ دو سال تک یہیں مقیم رہا۔ 1330ء میں جنوبی عرب یمن اور عدن سے ہوتے ہوئے، جنوبی افریقہ، عباسیہ اور مشرقی افریقہ جا پہنچا۔ وہاں سے واپس آتے ہوے عمان کی طرف آ نکلا اور یہاں سے تیسری بار سعادت حج کے لیے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوا۔
ابن بطوطہ کا چوتھا سفر مصر اور شام کے راستے ایشیائے کوچک(ترکی) کی طرف تھا۔ ابن بطوطہ جہاں کہیں گیا، اسے تحائف و وظائف حاصل ہوتے رہے۔ وہ اکثر و بیشتر جگہ شاہی مہمان کی حیثیت سے رہتا۔ ایشیائے کوچک میں اس کی ملاقات سلطان محمد سے ہوئی اور وہ وہاں سے قسطنطنیہ پہنچا۔ وہاں قیصرسوم سے اس کی ملاقات ہوئی۔
قسطنطنیہ سے ابن بطوطہ ہندوستان کے لیے عازمِ سفر ہوا۔ وہ دریائے دولگا سے گزر کر خوارزم بخارا اور خراسان سے ہوتا ہوا ربیع الثانی 743ھ بہ مطابق ستمبر1333ء میں کوہ ہندوکش کے راستہ ہندوستان پہنچا۔ اس وقت دہلی میں محمدتغلق تختِ سلطنت پر براجمان تھا۔ تغلق نے اس کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا اور بڑی آئوبھگت کی، حتی کہ اس کی علمی وجاہت، فقہی قابلیت اور فکری بصیرت کے پیش نظر ہندوستان میں مالکی مسلک کا قاضی مقرر کیا۔
اگلے دو برس تک ابن بطوطہ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کی سیر کی اور یہاں کے احوال و آثار اور رسوم و رواج کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا۔ 1342ء میں محمدتغلق نے اسے ہندوستان کا سفیر بنا کر چین روانہ کیا، مگر باوجود بسیار کوشش کے ابن بطوطہ مالابار کے ساحل سے آگے نہ جا سکا۔ جزائر مالدیپ کے سلطان نے اسے وہاں کے قاضی کا عہدہ پیش کیا۔ ایک برس تک وہاں رہنے کے بعد لنکا پہنچا اور اس چوٹی کو دیکھا جہاں حضرت آدمu کے قدم کے نشان محفوظ ہیں۔
1345ء میں ابن بطوطہ لنکا سے بنگال، سلہٹ اور کمبوڈیا کے راستے پیکنگ جا نکلا۔ واپسی پر سماٹرا، مالابار، ظفار، عمان، جنوبی فارس اور بغداد سے ہوتا ہوا 748ھ بہ مطابق1347ء میں وہ چوتھی بار حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے سوئے حرمین طیبین روانہ ہوا۔ تب اسے علم ہوا کہ اس کے والد کے انتقال کو 15سال ہو چکے ہیں البتہ والدہ ابھی بقیدحیات ہیں۔ چناںچہ وہ شام اور مصر کے راستے گھر کی طرف روانہ ہوا اور 25شعبان المعظم 750ھ بہ مطابق 8نومبر1349ء میں چوبیس(24) سال کے بعد اپنے آبائی شہر طنجہ پہنچا۔
وہاں پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کی والدہ بھی راہی ملکِ عدم ہو چکی ہیں۔ ابن بطوطہ کی سیماب فطرت نے اسے وہاں زیادہ دیر چین نہ لینے دیا اور 754ھ بہ مطابق 1352ء میں اپنے آخری اور طویل ترسفر پر روانہ ہوا۔ تیونس اور الجزائر کے علاقوں سے گزرتے ہوئے وہ ٹمبکٹو، مالی اور اگدیز کے سبزہ زاروں اور جنگلوں کی سیر کرتا ہوا 3 ذی الحجہ 756 ھ بہ مطابق 1354ء میں واپس مراکش پہنچ گیا۔ یوں تقریباً اٹھائیس(28) سالہ طویل سفر ختم کر کے ابن بطوطہ نے رختِ سفر کھولا۔
فارس(مراکش) کے حکمران ابوعنان سے جب ابن بطوطہ کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے تین براعظموں کے اس قدر دشوار گزار طویل سفر کی روداد بڑے انہماک اور اشتیاق سے سنی۔ ابن بطوطہ نے مختلف ممالک، تہذیبوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بارے میں اپنے مشاہدات، تجربات اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے ابوعنان کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ یوں اس نے ابن بطوطہ سے درخواست کی کہ وہ اپنے اس تاریخی، علمی اور دل چسپ سفر کی روداد کو بالترتیب لکھے۔ اس سلسلے میں اس نے اپنے دربار سے وابستہ عربی مؤرخ، جغرافیہ دان اور ادیب محمدبن محمدبن جزی کو حکم دیا کہ وہ اس سیّاحِ عالم کی رودادِ سفر کوتحریری شکل دے۔
ابن بطوطہ کا یہ سفرنامہ عربی زبان میں تھا اور اس کا مکمل نام ’’تحفۃالنظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار‘‘ جبکہ مختصرطور پر اسے ’’رحلہ‘‘ کہتے ہیں۔ یہی وہ رودادِ سفر ہے جسے ’’سفرنامہ ابن بطوطہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ابن بطوطہ کا یہ سفرنامہ اس دَور کا ہے جب موجودہ دَور کی سفری سہولتوں میں سے کچھ بھی موجود نہ تھا۔ اس زمانے میں دُور دراز کا سفر جان جوکھوں کا کام تھا۔ سمندری، صحرائی اور میدانی سفر کسی بھی حوالے سے خاطر سے خالی نہ تھا۔ جگہ جگہ پر ڈاکوئوں اور لٹیروں کا پڑائو ہوا کرتا تھا لیکن یہ عرب مسلمان سیّاح اپنے جذبۂ سیاحت اور شوقِ سفر کی بنا پر کسی چیزکو بھی خطرے میں نہ لاتا اور 28سال تک سمندری موجوں سے لڑتے، صحرائوں سے گزرتے، جنگلوں کو عبورکرتے، بیابانوں اور برفستانوں کی مسافتیں طے کرتے بالآخر ایک کروڑ مربع کلومیٹر کا سفر مکمل کر کے رہا۔
اس طویل اور متنوع سفر میں چار مرتبہ ابن بطوطہ نے حرمین طیبین کی خاک کو سرمہ چشم بنایا، یہ بار بار کا سفر حرمین طیبین ان کی مراکزِ اسلام سے والہانہ عقیدت کا پتا دیتا ہے۔ اس سفرنامہ کے مطالعہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ابن بطوطہ یمن کے دشوار گزار رستوں کو طے کرتا ہوا مصر، بغداد، شام، عراق، ایران، ترکستان، ماوراء النہر، بلخ، بخارا، بدخشاں، افغانستان، آذربائیجان اور عیسائیوں کے مرکزِ ثقافت قسطنطنیہ اور ترکوں کی مملکت کی سیروسیاحت کر رہا۔ وہ جہاں کہیں بھی گیا؛ اس نے وہاں کے سیاسی، معاشرتی، ثقافتی، مذہبی اور علمی ماحول کو دقت نظر سے دیکھا اور اپنے مشاہدہ کو مختلف ذرائع سے محفوظ کر کے بالآخر اپنے سفرنامے کا حصہ بنا دیا۔ دورانِ سفر اسے بادشاہوں کے درباروں تک بھی رسائی رہی اور عوام الناس کے رویوں سے بھی واسطہ پڑا۔ تہذیب و تمدن اور رہن سہن کو جس بصیرت و بصارت سے ابن بطوطہ نے دیکھا اور بیان کیا؛ وہ اسی کا ہی حصہ ہے۔
ابن جزی نے جب اس سفرنامے کی تلخیص مرتب کی تو ایک عرصہ دراز تک یہ لائبریریوں کی بند الماریوں کی زینت رہا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں اس کے ترجمے کی طرف مغربی دانشور متوجہ ہوئے اور یوں پیرس سے پہلی مرتبہ اس کا فرانسیسی ترجمہ شائع ہوا۔
اس سفرنامہ کا انگریزی ترجمہ(تلخیص) 1829ء میں ڈاکٹرسموئیل لی نے کیا جبکہ مکمل متن کی پہلی جلد پروفیسرگب نے 1958ء میں کیمبرج سے شائع کیا۔ اُردو میں سب سے پہلے ڈاکٹر نوازش علی خان نے ڈاکٹرسموئیل لی کے انگریزی ترجمے سے اس کا ترجمہ کیا۔ اس کے دیگر اُردو تراجم میں سیّد محمد حیات الحسن نے جلد اوّل کا جبکہ مولوی محمدحسین نے جلد دوم کا اُردو ترجمہ مکمل کیا۔ ایک ترجمہ ’’خلاصہ تحفۃ النظار‘‘ کے نام سے مولوی عبدالرحمن خان نے کیا لیکن اب تک کا سب سے معتبر، مستند اور رواں ترجمہ نامور مؤرخ اور صاحب طرز ادیب علامہ رئیس احمدجعفری نے کیا۔ چوںکہ جعفری صاحب عربی و اُردو زبان و ادب میں یکساں دسترس رکھتے تھے، اس کے ساتھ ساتھ وہ تاریخ اور جغرافیہ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے، لہٰذا ان کے ترجمہ کا شمار اُردو کے بہترین تراجم میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس تاریخی دستاویز کو اُردو کے قالب میں ڈھالتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیا اور مزیدبرآں انہوں نے متن کے بعض تفصیل طلب مقامات کی حواشی میں مختصر مگر جامع وضاحت بھی کر دی جس نے اس سفرنامے کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے ۔
’’سفرنامہ ابن بطوطہ‘‘ کے اس اُردو ترجمہ کو زندہ کرنے کی تحریک و تشویق بنیادی طور پر ادارہ بک کارنر کے رُوح رواں جناب شاہدحمید اور ان کے صاحبزادگان گگن شاہد، امرشاہد کا وہ علمی و ادبی جذبہ ہے، جس کی بنا پر وہ آئے روز شائقین علم و ادب کے ذوق کو تسکین فراہم کرتے رہتے ہیں۔ سفرنامہ ابن بطوطہ اس ادبی سلسلے کی ہی ایک زریں کڑی ہے۔ اس ترجمے پر قدامت کے کچھ اثرات بہرحال تھے، راقم الحروف نے اصل عربی متن سے اس ترجمے کا مقابلہ و موازنہ کیا اور جہاں کہیں ترمیم و اضافہ کی ضرورت محسوس کی، کر دیا گیا۔ اب یہ ترجمہ قارئین کرام کے ہاتھوں میں ہے۔
اس اشاعت کی خاص بات یہ بھی ہے کہ ابن بطوطہ نے مختلف ممالک کے جن اہم مقامات کا مشاہدہ کیا اُن کا تصویری البم شروع میں لگا دیا گیا ہے جو یقینا قارئین کے لیے سفر نامہ کو دلچسپی سے پڑھنے اور سمجھنے میں از حد مفید ہو گا۔ یہ وہ خاصیت ہے جو ادارہ بک کارنر کی شائع شدہ کتابوں کی علمی، ادبی اور فنی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی افادیت بڑھا دیتی ہے۔ خوش کن خبر یہ ہے کہ ادارہ قبل ازیں سفرنامہ ابن جبیر اور سفرنامہ یوسف خان کمبل پوش بھی شائع کر چکا ہے۔ دیگر نادر و کم یاب سفرناموں کی اشاعت کا یہ حسین سفر جاری رہے گا۔

پروفیسر سَیْد امیر کھوکھر