1984 (URDU) انیس سو چوراسی

1984 (Urdu)
<span dir='ltr' class='left text-left'>1984 (URDU)</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>انیس سو چوراسی</span>

PKR:   700/-

Author: GEORGE ORWELL
Tag: ABUL FAZAL SIDDIQUI
Pages: 320
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-309-0
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS

کلاسیک ناول ... کلاسیک ترجمہ

ایک قیامت تو خود ناول کا مصنف جارج آرول ہے۔ دوسری قیامت ابوالفضل صدیقی کو سمجھیے جنھوں نے اس کتاب کو اُردو میں پیش کیا ہے۔ صدیقی صاحب کا اصل افسوں تو ان کے افسانے ہیں، اس ترجمے کو زبان اور بیان کے اس سامری کی ادائے خاص جانیے۔

1984ء بڑا خطرناک ناول ہے، اس میں نام بھی ہیں، مقام بھی اور کہانی بھی... لیکن یہ سب مل کر انسان کے بنائے ہوئے ظالمانہ نظام کی نئی داستان سناتے ہیں۔ اس کی اصل تو اصل ہے، طرزِ ادا کا جواب مشکل سے نکلے گا۔ اسے پڑھ کر آپ کا ردِعمل کیا ہو گا، یہ بتانا ناممکن ہے، ممکن ہے کہیں آپ کو غصہ آئے کہیں محبت، کہیں خوف، کہیں نفرت... لیکن آپ اسے ختم ضرور کریں گے۔
جارج آرول نے یہ ناول 1949ء میں لکھا تھا۔ اس اکہتر برس کے عرصے میں اس ناول کی کئی لاکھ جلدیں صرف انگریزی میں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ دُنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔
ہم آپ کو اصل ناول سے دُور رکھنا پسند نہیں کرتے۔ وزارت الفت کے دلچسپ احکام، کمرہ نمبر 101 کے اسرار، ’’خیال خواں‘‘ مشین کے انکشافات، 4انگلیوں کو 5گننے کے طریقے، انشراح قلب کے تھانوں کا حال اس ذکر سے زیادہ دلچسپ ہے۔
اس ناول کو سچ پوچھیے تو عاشقانہ کہہ سکتے ہیں نہ حسرت موہانی کی زبان میں ’’فاسقانہ‘‘۔ اس کے تخیل اور تصور سے انکار نہیں ہو سکتا، اس کا سماجی اور سیاسی طنز بھی نمایاں ہے، کہیں نرم، کہیں گرم۔ مجموعی حیثیت سے یہ کتاب انسانی آزادی اور انسانی زندگی کا کیا تصور پیش کرتی ہے اس کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں اور یہی فیصلہ صحیح بھی ہو گا۔

---

ہمارے عہد کے جید ادیب ابوالفضل صدیقی نے کیسی بے مثال کہانیاں لکھیں، ان کے ناول پڑھیے اور اَش اَش کیجیے۔ انھوں نے جارج آرویل کا شہرۂ آفاق ناول 1984 ترجمہ کیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ ناول انھوں نے 1957ء میں ترجمہ کیا۔ اس وقت انہیں شاید گمان بھی نہ ہوا ہو کہ 1958ء میں یہ عذاب ہمارے یہاں بھی نازل ہو گا۔ مطلق العنان جمہویت کی اندھیریاں ہماری آنکھوں پر چڑھا دی جائیں گی اور ہم کولہو کا بیل بن کر یہ نعرے لگاتے رہیں گے کہ جنگ امن ہے! آزادی غلامی ہے! جہالت طاقت ہے! 1984ء گزر گیا ہے، جارج آرویل کا یہ ناول ایک برس میں چالیس لاکھ فروخت ہو گیا تھا۔ ہمارے ہاں کسی ناول کو دس برس میں ہزار خریدار میسر آ جائیں تو لکھنے والا خوش نصیب سمجھا جاتا ہے۔ تبھی ہمارے مقدر میں لکھا گیا کہ ہم اپنی رُوح فروخت کرتے رہیں، جہالت کی طاقت پر اینڈتے پھریں اور غلامی کو آزادی فرض کریں... یہ سمجھنے والوں کو غلامی مبارک ہو!

زاہدہ حنا
10نومبر 2020ء

---

ایرک آرتھر بلیئر جسے دُنیا جارج آرویل کے نام سے جانتی ہے، ایک انگریز صحافی، مضمون نگار اور ناول نگار تھا۔ 25 جون 1903ء میں بنگال کے شہر موتی ہاری میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہو گیا۔ اس نے ایٹن سکول سے تعلیم حاصل کی۔ انڈین امپیریل پولیس کی طرف سے برما میں پانچ سال (1922ء -1927ء) ملازمت کی۔ 1927ء میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر پیرس چلا گیا جہاں اس نے کتابیں لکھنا شروع کیں۔ 1929-1935ء کے درمیانی عرصہ میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتا رہا اور صحافت سے منسلک رہا۔ 1935ء واپس انگلستان آ گیا۔ کچھ عرصہ پولٹری فارم اور ہوٹل چلاتا رہا۔ پھر ایک سٹور پر کام کرنے لگا۔ 1936ء میں ایلین او شہوگنیسی نامی خاتون سے شادی کی اور سپین چلا گیا۔ ایک قاتلانہ حملے میں اسے گولی لگ گئی ۔ میڈیکلی اَن فٹ ہونے کی بنا پر دوسری جنگ عظیم میں نہ لڑ سکا۔ واپس انگلستان آیا اور بی بی سی انڈیا پر خبریں پڑھتا رہا۔ جنگ کے خاتمے پر وہ ادب میں دوبارہ واپس آیا۔ اس نے ’اینیمل فارم‘‘ اور ’1984‘ ایسے ناول لکھے جنھوں نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ 21 جنوری 1950ء میں 46سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اسے اس کی وصیت کے مطابق انگلستان کے ایک گاؤں کے چرچ میں دفن کیا گیا۔ 1949ء میں لکھے اپنے شہرۂ آفاق ناول ’’1984‘‘ نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس سے پہلے کسی نے بھی ہندسوں پر مشتمل کوئی ناول نہیں لکھا تھا۔ وہ آنے والے زمانوں کا قصہ لکھ رہا تھا۔ ایک ایسا شہرِ آشوب جوکروڑوں انسانوں کی زندگی کا سچ ہونے والا تھا۔ اس ناول میں آرویل نے ایسے کئی جملے لکھے جو دُنیا کے بہت سے سوچنے اور غوروفکر کرنے والوں کی زندگی کا سچ بن گئے۔ اس نے لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی اقتدار پر اس لیے قابض نہیں ہوتا کہ کچھ دنوں میں وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائے گا۔70ء کی دہائی میں اسے امریکی صدر نکسن اور اس سے جڑے ہوئے واٹرگیٹ اسکینڈل کے تناظر میں دیکھا گیا۔ اس زمانے میں یہ ناول امریکا میں خوب خوب بکا۔ 1984 کا سال آیا تو چونکہ اس ناول کا نام اس برس سے منسوب تھا، یہی وجہ تھی کہ اس ایک برس کے دوران امریکیوں نے اس کی 40 لاکھ کاپیاں خریدیں۔

---

ابوالفضل صدیقی اُردو کے صف اوّل کے افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔ 4ستمبر 1908ء کو عارف پور نوادہ، بدایوں، اترپردیش میں ایک معزز زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان 1857ء کی جنگِ آزادی میں مجاہدین کی مدد کرنے کی پاداش میں معتوبینِ حکومت میں رہ چکا تھا۔ اس خاندان کے علم و شائستگی کا اتنا چرچا تھا کہ زمینداری کا روایتی رعب داب ان کی حویلی کے دروازے پر ہی کھڑا رہتا تھا، زمینداروں کے مظالم کی جگہ شاعرانہ حساسیت نے لے لی تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کے مزارع اپنے مالکوں پر جان چھڑکتے تھے۔ ابوالفضل صدیقی مشن سکول میں دو سال گزارنے کے بعد سینٹ جارجز کالج مسوری میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے جو اس وقت ہندوستانیوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ وہاں سے سینئر کیمبرج کر کے واپس آئے تو اپنی زمینداری سنبھالی۔ شکار، زراعت، باغات اور جانوروں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا، غرض جنگل اور دیہات سے متعلق ان کا سارا علم کتابِ فطرت سے براہِ راست اکتساب کا نتیجہ تھا جو پھر ان کے لازوال افسانوں میں جھلکا اور ایک زمانے کو اپنا معترف بنا لیا۔ ابو الفضل صدیقی کا پہلا افسانوی مجموعہ 1945ء میں شائع ہوا۔ انھی دنوں برصغیر میں نفرت کا جوالا مکھی پھوٹ پڑا۔ ابوالفضل اور ان کا خاندان چونکہ مسلم لیگی مشہور تھا، گھرانا بھی مسلم روایت پسند تھا، پھر ان کی حویلی اطراف کے دیہاتوں میں پھوٹ پڑنے والے خونی فسادات سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کی پناہ گاہ بن گیا تو گویا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ سازشی سازشوں کے جال بننے لگے، لیکن ابوالفضل اتنے حوصلہ مند اور ذکی تھے کہ نہایت حکمت و بصیرت سے ان سازشوں کے تاروپود بکھیرتے رہے۔ لیکن جب تقسیمِ ہند کے بعد حکومتِ ہند نے تنسیخ زمینداری کا قانون نافذ کر دیا جس سے بڑے بڑے زمیندار معاشی طور پر بدحال ہو گئے تو ابوالفضل صدیقی کا جی اتنا برا ہوا کہ بالآخر 1954ء میں پاکستان ہجرت کر آئے اور کراچی میں جیکب لائنز کے دو کمروں کے کوارٹر میں رہنے لگے۔ کہاں ایکڑوں پر پھیلی ہوئی حویلی اور نوکروں کی قطاریں اور کہاں یہ دو کمرے! کوئی اور ہوتا تو ماضی کی یادیں اوڑھ کر لیٹا رہتا لیکن انھوں نے نہ صرف پامردی سے حالات کا مقابلہ کیا بلکہ ساتھ ساتھ قلم سے افسوں بھی پھونکتے رہے۔ ایک کے بعد ایک ان کی لازوال کہانیاں آتی گئیں۔ ان کے موضوع بہت منفرد تھے۔ 1957ء میں جارج آرویل کے عظیم ناول ’’1984‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا۔ ابو الفضل صدیقی کی علمی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے افسانہ ’’چڑھتا سورج‘‘ پر 1957ء میں ان کو یونیسکو کا بین الاقوامی انعام دیا گیا۔ ناولٹ ’’گل زمین کی تلاش میں‘‘ پر 1983ء نقوش صدارتی ایوارڈ دیا گیا اور ناول ’’ترنگ‘‘ پر نیشنل بک کونسل ایوارڈ برائے 1989ء دیا گیا۔ ابوالفضل صدیقی کی 16 ستمبر 1987ء کو کراچی میں وفات ہوئی اور کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

RELATED BOOKS