FALSAFA UROOJ O ZAWAL E AQWAM فلسفہ عروج و زوال اقوام

Falsafa Urooj o Zawal e Aqwam Falsafa Urooj o Zawal e Aqwam
<span dir='ltr' class='left text-left'>FALSAFA UROOJ O ZAWAL E AQWAM</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>فلسفہ عروج و زوال اقوام</span>

PKR:   400/-

علم و مذہب، تہذیب و تمدن، ملک و سلطنت، ہر مہذب قوم کا سرمایہ حیات ہیں اور انھیں چیزوں کی ترکیب و امتزاج سے ہر قوم کا تاریخی مواد تیار ہوتا ہے۔ اس بنا پر ہر متمدن قوم اپنا تاریخی سرمایہ اپنے ساتھ لاتی ہے اور اپنے وجود کے ساتھ ساتھ اس کو محفوظ رکھتی ہے۔ وہ اپنے مواد کی تیاری اور پختگی میں کسی مؤرخ کی ممنونِ احسان نہیں ہوتی بلکہ خود مؤرخ اس قوم کا گراںبارِ منّت ہوتا ہے۔ البتہ اس مواد کی موزوں ترتیب اس کا مکمل نظام اور اس کے ابتدائی اور انتہائی سلسلوں میں توفیق و تطبیق، غرض اس کے تمام ارتقائی مدارج کی تفصیل و توضیح ایک مؤرخ کا کام ہے اور اس حیثیت سے تاریخ کی نہایت سادہ، مختصر، عام فہم اور جامع تعریف ”مجموعہ ارتقائے اقوام“ کی ترکیب اضافی کے ساتھ کی جاسکتی ہے جو گستاؤ لی بان کی کتاب کے نام کا پہلا جزو ہے۔ لیکن یہ جزو اس کتاب کی ایک جنس مشترک ہے جو تاریخ کی ہر کتاب پر صادق آ سکتی ہے۔ کتاب کی فصل ممیّز جو اس کو تمام تاریخی کتابوں سے ممتاز کرتی ہے اس کا دوسرا جزو یعنی ’’ارتقائے اقوام کے قوانین نفسی ‘‘ ہے اور انھی قوانین کی تفصیل اس کتاب کا موضوع اور گستاؤ لی بان کا اصلی کارنامہ ہے۔
عبدالسلام ندوی

RELATED BOOKS