Almi Nasri Adab | 3 Volumes Set | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

ALMI NASRI ADAB | 3 VOLUMES SET عالمی نثری ادب | 3 جلدیں

Inside the book
ALMI NASRI ADAB | 3 VOLUMES SET
Inside the book

PKR:   3,600/- 2,700/-

★★★★★
★★★★★

✍️ مدیر کا نوٹ:
زیر نظر انتخاب کو ایک ذاتی انتخاب سمجھا جانا چاہیے۔ بیشتر تراجم مطبوعہ ہیں لیکن ان میں سے کچھ غیر مطبوعہ بھی ہیں۔ دوسری زبانوں سے اردو میں ترجمہ ہونے والے نثر پاروں کی فہرست کافی طویل ہے جس کی ببلیوگرافی تو بنائی جا سکتی ہے لیکن انھیں ایک جگہ اکٹھا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ لہٰذا، ہم زیر نظر انتخاب کو ترتیب دیتے ہوئے اس کی لگام کو اپنی گرفت میں رکھنے پر مجبور تھے۔
ہمیں یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ بہترین عالمی نثری ادب اس انتخاب کا حصہ ہیں۔ بلاشبہ بہت سے نام چھوٹ گئے ہیں اور بہت سے نثر پارے تنگیٔ صفحات کی نذر ہو گئے۔ بہرحال ہم نے اس انتخاب کو ترتیب دیتے ہوئے ناموں کی بجائے مختلف لسانی خطوں کو ترجیح دی اور کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں ، زبانوں اور ان سے وابستہ ثقافتوں کی نمائندگی ممکن ہوسکے۔ اس لحاظ سے اس انتخاب کا جواز فنی سطح پر بھی ہے اور سماجی و ثقافتی سطح پر بھی ہے۔ یوں تو ان ممالک کی صنعتی ترقی اور ان کے معاشرتی رجحانات پر عمرانیات اور دیگر علوم کے ماہرین کے تجزیے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ناول اور افسانے میں انسان کے اندرونی احساسات اور مختلف تناظر میں انسانی ردعمل کی جو صورتیں دکھائی جاتی ہیں، وہ تجریدی اصطلاحات کے مقابلے میں زندگی کی تپش کا زیادہ احساس دلاتی ہیں۔ لہٰذا اس انتخاب میں ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ فکشن کے حوالے سے ان ممالک کی معاشرتی زندگی، ان میں انسانی تعلقات کی نوعیت ، قدیم و جدید کے تصادم و اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کی جامع تصویر بھی قارئین کو دکھائی جائے۔ ہم اپنے اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں، اس کا فیصلہ تو اصحاب الرائے ہی کرپائیں گے۔
اس انتخاب پر کام کرتے ہوئے سینکڑوں کتابیں، رسائل، ویب سائٹس، اخباروں وغیرہ میں سے نثر پارے منتخب کیے گئے تھے لیکن اگر ان تمام کو شامل اشاعت کرلیا جاتا تو شاید دس جلدیں بھی ناکافی ہوتیں، لہٰذا سخت ترین انتخاب کے اصولوں کو وضع کرنے کے بعد جو کچھ ہے، وہ آپ کے سامنے حاضر ہے۔
ظاہر ہے زیر نظر شمارہ انتخاب پر مشتمل ہے، چنانچہ اس میں نئے ، پرانے اور بہت پرانے ترجمے بھی شامل اشاعت ہیں۔ مطبوعہ تراجم کا لازمی مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ تمام قارئین کی نظروں سے گزرے بھی ہوں، چونکہ ہندوستان میں چھپنے والے بیشتر تراجم کی رسائی پاکستانی قارئین تک نہیں ہو پاتی اور اسی طرح پاکستان میں شائع ہونے والے تمام تراجم ہندوستانی قارئین تک نہیں پہنچ پاتے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ اپنے ہی ملک میں شائع شدہ تمام تراجم بھی ہمارے زیر مطالعہ رہے ہوں۔
ہم نے کوشش کی ہے کہ اس انتخاب میں مصنفین کے علاوہ مترجمین کے بھی مختصر تعارف پیش کیے جائیں کہ انھی کے توسط سے ہم تک دنیا بھر کی زبانوں کے نثر پارے پہنچتے رہے ہیں، ان کے اس احسان سے زبانوں کے علاوہ ثقافتیں بھی ثروت مند ہوتی ہیں اور ہم سب ان کے ایک طرح سے مقروض ہیں۔ پھر بھی کچھ مصنّفین اور مترجمین کا تعارف ہمیں نہ مل سکا ، لہٰذا ہم کوشش کے باوجود بے بس نظر آئے۔
ہم ان تمام اداروں، کتابوں، رسائل، بلاگس، اخباروں وغیرہ کے بھی شکرگزار ہیں جہاں سے ترجمے حاصل کیے گئے۔ اس کے علاوہ میں ان مترجمین کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں نے میری درخواست پر اس انتخاب کے لیے منتخبہ نثر پاروں کے ترجمے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے پورا کیا۔
ہم ’بک کارنر‘ جہلم (پاکستان) کے امرشاہد اور گگن شاہد صاحبان کے ممنون ہیں کہ انھوں نے پاکستان میں اس کی اشاعت کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ (اشعر نجمی)

USER RATINGS

RATE THIS BOOK

Tell others what you think

Reviews

I

Ishratullah Qureshi (Hyderabad,Sindh)

Excellent


B

BILAL KHALID (Khudian khas opposite Sadiq school khursheed town district Kasur)


N

Naeem ur Rehman (Karachi)

پاکستان کے بہترین پبلشر بک کارنر سے ’’اثبات‘‘ کا ’’عالمی نثری ادب نمبر‘‘ تین جلدوں میں اشاعت پذیرہواہے۔ ہر جلد سات سو چار صفحات پرمشتمل ہے اور اس کی قیمت بارہ سو روپے فی جلد عمدہ طباعت و کتابت کی مجلد کتاب کے لیے انتہائی مناسب ہے۔ ’’اثبات‘‘ کے ’’عالمی نثری ادب‘‘ کی تین جلدوں میں اشعر نجمی نے دنیا کے بہترین ادب کو یکجا کردیا ہے۔ اس خصوصی شمارے میں نوے ممالک کی سو سے زیادہ زبانوں کی ایک سو چوراسی منتخب تحریریں شامل ہیں۔ جو بے شک دنیا کا بہترین ادب نہ ہو، لیکن یہ سات براعظموں کے نوے ممالک کانمائندہ ادب ضرور ہے اور اس کے ذریعے پہلی مرتبہ اردو قارئین کو دنیاکے اتنے ممالک کی مختلف زبانوں کی منتخب تخلیقات ایک جگہ پڑھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ جس میں کئی نوبل انعام یافتگان ادیبوں کی تحریریں شامل ہیں۔ عالمی تراجم، نوبل انعام یافتہ تراجم کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ لیکن اشعر نجمی نے جس طرح اردو قاری کو ’’عالمی نثری ادب‘‘ ایک ساتھ پڑھنے کا موقع دیاہے۔ وہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوسکا۔


M

Mohsin ALi Khan

بارلے مُلک کی کہانیاں
| تحریر: محسن علی خاں |
انسان زندگی جینے کے لیے جتنی سانسیں لیتا ہے اس سے نصف سانسوں میں تو صرف خواب ہی دیکھتا ہے۔ گہری نیند کا خواب، کچی نیند کا خواب، ادھ کھلی آنکھ سے دیکھا خواب، جاگتے ہوۓ خواب، پہلی محبت کا خواب، دوسرے عشق کا خواب، تیسرے پیار کا خواب، شادی کا خواب، بیوی کا خواب، بچوں کا خواب، امیر ترین ہونے کا خواب، جن بھوت چڑیلوں کے خواب، پریوں کے خواب، ایویں اُلٹے سیدھے خواب، کبھی کبھی سب کچھ چِھن جانے کا خواب، مال و دولت، عیش و عشرت، رنگ بازی کا خواب، مرنے مارنے کا خواب، نورانی و روحانی خواب، اپنے ہی متعلق شیطانی خواب، محبوبہ کسی اور کی ہونے لگی جیسا ظالم خواب، یعنی کہ اتنے زیادہ خواب ہیں کہ اگر تفصیل سے لکھنے بیٹھ جائیں تو دس بیس سال صرف خوابوں کے متعلق ہی لکھتے گزر جائیں (ویسے یہ کچھ زیادہ ہی گپ لگ گئی ہے، چلیں کوئی بات نہیں، اب میں نے لکھ دی ہے۔ اب مٹانی نہیں ہے، آپ کو اختیار ہے اس کو اگنور ماریں)۔
ہم سب نے ایک خواب ضرور دیکھا ہے۔ وہ ہے بلندی سے گرنے کا خواب، لیکن گرتے ہی ایک دم جب آنکھ کُھلتی تو دل کی دھڑکن سے یہی لگتا کہ پلوٹو نامی سیارے سے زمین پر گرے ہیں۔ شایدہی کوئی ایسا ہو جس نے بلندی سے گرنے والا خواب نہ دیکھا ہو۔ میں تو یہ خواب ہزاروں بار دیکھ چکا ہوں۔ میں ویسے اکثر جہاز سے گرتا تھا۔ شاید اسی لیے پائلٹ نہیں بن سکا اور اب اس تحریر میں آپ کا قیمتی وقت لے رہا ہوں۔
پوری توجہ کے ساتھ لکھ رہا تھا کہ بیگم نے شک سے بھرا میزائل مارا کہ کس کو اتنا لمبا میسج لکھ رہے ہو۔ انتہائی ادب کے ساتھ اپنے دل میں عرض کیا کہ جناب والا، جب تک آپ جاگ رہی ہوں ایسا ممکن ہی نہیں۔ لیکن زبان سے یہ ادا کیا کہ“ سپر ہٹ تحریر لکھنے لگا تھا، جو نزول ہوا تھا، وہ آپ کے بولنے سے ختم ہو گیا”۔
انہوں نے کہا پھر لگتا لڈو کھیل رہے ہو۔ فوراً سے پہلے موبائل سکرین ان کی طرف کر کے دکھائی کہ تحریر لکھی جا رہی ہے اور پڑھ کے بھی سنا دی۔
بیگم نے کہا کہ سب ادھورے خوابوں کا ذکر کیا ہے اپنے اصلی خواب کا تو لکھا ہی نہیں۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، کہ لگتا میری جوانی والے ناکام خواب پکڑے گئے۔ لیکن پورے اعتماد کے ساتھ پوچھا کون سا خواب۔ جواب سُن کر شکر کیا کہ بچ گیا۔
جواب تھا“ بارلے مُلک جانے والا خواب“۔
بارلے ملک جانے والا خواب تو ہمارا قومی خواب ہے۔ جی سی یونیورسٹی، فیصل آباد میں پڑھتے ہوۓ جو جگری دوستوں کا گروپ بنا تھا اس میں ایک انتہائی ذہین اور محنتی دوست نفیس بٹ تھا۔ 2002ء میں شروع ہونے والی دوستی آج بھی قائم ودائم ہے۔ کُل پانچ دوستوں کا گروپ تھا۔ دو ہی ٹھکانے تھے، یونیورسٹی کے باغ و کوریڈور اور بٹ کا گھر۔ اپنے گھروں کو بس اتنا ہی جاتے تھے جتنا کہ کلاس روم میں۔ یوں سمجھ لیں صرف حاضری لگوانے، اپنے منہ دکھانے، گھر والوں کو اور اساتذہ کو یقین دلانے کہ ہم زندہ ہیں۔
امتحانات کے دِنوں میں تو اوڑھنا بچھونا بٹ کا گھر ہی ہوتا تھا۔جب کہ یونیورسٹی اپنے گھر سے صرف چار منٹ کی دُوری پر تھی اور بٹ کے گھر سے پچیس منٹ، پھر بھی ہوا کا گھوڑا اُس طرف ہی تیار رکھتے۔ اس کی بڑی وجہ پڑھائی نہیں تھی، بلکہ چٹ پٹے مصالحہ دار کھانے تھے۔ صبح کا ناشتہ پراٹھے، دہی، انڈے کے ساتھ کر کے سستی چڑھ جاتی تھی۔ بٹ پڑھنے بیٹھ جاتا باقی ہم چاروں پنجابی والا لمبے پے جاتے۔ دوپہر تک فرمائشی ڈش دال چاول بن جاتی تو اس عزم کے ساتھ اُٹھتے کہ بس اب رات تک پڑھیں گے۔ کھانے کے بعد بٹ کو بھی اپنے ساتھ کچھ دیر آرام کرنے کا کہتے۔ بس پھر باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔
وہ باتیں کم اور خواب زیادہ تھے۔ بس ایک ہی خواب کہ ڈگری مکمل ہوتے ہی بارلے ملک چلے جانا۔ روز کسی بھی ایک ملک کو پکڑ لینا، اس کا پوسٹ مارٹم کرنا، ڈائری سے اس ملک کا نقشہ دیکھ کر دو گھنٹے اس ملک کے متعلق غلط اندازے لگاتے رہنا۔ دنیا تو ایسے تھی جیسے ہاتھ میں لکیریں، کہ جب چاہو مُٹھی کھولو اور اس ملک میں انٹری ڈال دو۔ مغرب تک اسی خواب کے سہارے جینا۔ پھر نفیس بٹ کے والد صاحب نے آکر پاس بیٹھ جانا اور پوچھنا آج کتنی تیاری کی۔ چاروں دوستوں نے یک زبان ہو کر کہنا کہ پورا کورس ختم کر لیا ہے بس اب رویژن (نظر ثانی) کرنے لگے ہیں۔ پھر جب تک انکل نے بیٹھے رہنا بٹ نے ہمیں امتحان کی تیاری کروانی۔ ڈگری کے اختتام پر جب بٹ نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا اور گولڈ میڈل کا حقدار ٹھہرا تو ہم دوستوں نے احسان جتایا کہ ہماری وجہ سے ملا ہے۔
اشعر نجمی صاحب اس وقت نہ صرف انڈیا و پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک منفرد اسلوب کے حامل مصنف ہیں۔ اپنے اثبات پبلیکیشن کے دائرے کو اب وسیع کر دیا ہے۔ نجمی صاحب نے لگتا ہمارے زمانہ طالبعلمی کے خواب کو پورا کرنے کی ٹھان لی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ جو منصوبہ ہم بٹ کے گھر بیٹھ کر بناتے تھے، کیوں نہ اس کو عملی جامہ پہنایا جاۓ۔ ہمیں بٹ کے گھر کی طرح اب بھی بیٹھے بیٹھے دُنیا کی سیر کروائی جاۓ۔ اور یہ سیر نہ صرف ادبی ہو بلکہ تاریخی، سماجی و معاشرتی پہلو بھی لیے ہوۓ ہو۔ دنیا کے سفر کو آسان بنانے کے لیے اشعر صاحب نے بک کارنر شو روم کے تعاون سے تین جلدوں پر مشتمل " عالمی نثری ادب" شائع کیا ہے۔ اگر آپ کو نوبل انعام یافتگان ادیبوں کی کہانیاں، افسانے وغیرہ گھر بیٹھے ہی مل جائیں تو جناب آپ کی علمی لاٹری نکل آئی ہے۔ خوش نصیب ہیں آپ جو دنیا کہ سو ممالک کے مایہ ناز ادیبوں کے قلم سے نکلنے والے الفاظ ان تین جلدوں میں موتی بن کر آپ کی بُک شیلف کو روشن کر رہے۔ اور کیا باقی رہ جاتا ہے۔
یہ تین جلدیں اب آپ کو عالمی افسانوی ادب و عالمی تراجم کی بیٹھک میں مار نہیں کھانے دیں گی۔ دنیا کے سات براعظموں کے چوٹی کے مصنف اور ان کی کہانیاں آپ کی فنگر ٹپس پر ہوں گی۔ عالمی نثری ادب پڑھ کے آپ کا قد ایک دم بڑھ جاۓ گا۔ اب کوئی لے کر تو دکھاے کسی مصنف کا نام آپ کے سامنے، آپ نے آگے سے اُس کا افسانہ چھیڑ لینا تو مقابل کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہنا۔ اب یہاں اگر ان کتابوں میں موجود کہانیوں کا ذکر چھیڑ دوں تو تحریر بہت لمبی ہو جانی ہے۔ بس اتنا ضرور کہوں گا کہ کسی بھی عظیم مصنف کا نام سوچ لیں پھر آنکھیں کھولیں تو اس کو آپ ان کتابوں میں پائیں گے۔ اب آپ کو کہانیاں و افسانے پڑھنے کے لیے کسی بارلے ملک نہیں جانا پڑے گا بلکہ دنیا بھر سے مصنفیں خود آکر آپ کو اپنی کہانیاں سنائیں گے۔ ان کتابوں کو اپنی بُک شیلف پر سجائیں اور اپنی قسمت پر ناز کریں۔


A

Ashar Iqbal (Dubai)

اتوار کو ہمارا ہفتے کا پہلا ورکنگ ڈے ہوتا ہے اور دو چھٹیوں کے بعد کافی بوجھل اور بھاری لگتا ہے صبح صبح موبائل پہ آنے والی کالز ریسیو کرنے کا دل نہیں کرتا کل اتوار کی صبح بھی جب فون بجا تو بڑی بے دلی سے کال ریسیو کی اور جب کال کرنے والے نے بتایا کہ میں سنٹرل پوسٹ آفس دبئی سے بات کر رہا ہوں آپ کے لیے پاکستان سے پارسل آیا ہوا ہے تو دل خوش ہو گیا کیونکہ پارسل بک کارنر جہلم سے گگن بھائی نے بھجوایا تھا اور صرف 6 دنوں میں ملنے کی امید بھی نہیں تھی۔ اتوار کا دن اچھا لیکن طویل ہو گیا شام میں چھٹی ہوتے ہی سیدھا پوسٹ آفس کا رخ کیا اور کتابوں کا کارٹن لے کر ہی گھر واپسی ہوئی کتابوں کی پیکنگ ہمیشہ کی طرح لاجواب تھی بک کارنر سے چھپی ہوئی کتابیں پڑھنے لائق تو ہوتی ہی ہیں آپ انہیں چھُو کر ہاتھوں میں پکڑ کر بھی لطف اندوز ہوتے ہیں آپ نے اگر ابھی تک یہ تجربہ نہیں کیا تو ضرور کیجیے گا۔
اشعراقبال
جہلم/دبئی


A

Ahmad Bilal

میری چھوٹی سی کلیکشن میں خوبصورت اضافہ۔۔
بہت شکریہ : بک کارنر جہلم


RELATED BOOKS