BALZAC WORKS: TRANSLATION BY RAUF KLASRA بالزاک کے مشہور ناول: مترجم: رؤف کلاسرا

Balzac Works: Translation by Rauf Klasra
<span dir='ltr' class='left text-left'>BALZAC WORKS: TRANSLATION BY RAUF KLASRA</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>بالزاک کے مشہور ناول: مترجم: رؤف کلاسرا</span>

PKR:   1,500/- 1,350/-

📕 تاریک راہوں کے مسافر
بالزاک کا شاہکار ناول Eugénie Grandet کا اُردو ترجمہ
مترجم: رؤف کلاسرا
ناشر: بک کارنر، جہلم (پاکستان)
ضخامت 304 صفحات | اعلی کوالٹی آرٹ پیپر
قیمت 900 روپے

جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا، وہ میں اپنے قلم سے کروں گا۔ (بالزاک)
- - - - - - - - -
دُنیائے ادب کے عظیم فرانسیسی ناول نگار بالزاک (1799-1850ء) کی ایک عظیم تخلیق جو انقلابِ فرانس کے بعد فرانسیسی معاشرے میں ابھرنے والے نئے رحجانات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ بالزاک اس وجہ سے بھی خوش قسمت ادیب کہلا سکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں میں انقلاب کی سُرخی لیے پیدا اور جوان ہوا۔ اگر نپولین ایک عام سپاہی سے ترقی کر کے فرانس کا مالک بن سکتا ہے تو پھر ہر شخص کچھ بھی کر کے ترقی کرسکتا ہے۔ اس سوچ نے فرانسیسی معاشرے کی شکل اور رُوح بھی بدل کر رکھ دی اور اسی انقلاب نے ایک بڑی ٹریجڈی کو جنم دیا۔ ایک خوبصورت، حسین، شرمیلی اور دیہاتی دوشیزہ یوجین کے عشق لاحاصل کی داستان جسے ایک روز پیرس سے آئے اپنے لٹے پٹے کنگال کزن سے محبت ہوگئی۔ یوجین نے ایک ایسی اذیت بھری زندگی کا انتخاب کیا جو ہر عاشق کی قسمت ہوتی ہے۔ ایک لڑکی کی کہانی جو برسوں اپنے گائوں کی حویلی میں اپنے محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ ہر شخص کی کڑوی باتیں برداشت کرتی رہی۔ باپ کے طعنے سنتی رہی۔ پورا گاؤں اس کے خلاف زہر اُگل رہا تھا لیکن یوجین محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ سات برس بعد جب یہ جان لیوا انتظار ختم ہوا تو ایک ٹریجڈی یوجین کی منتظر تھی۔اس ناول میں جہاں آپ کو فرانسیسی معاشرے کے غلیظ، لالچی اور کنجوس کردار ملیں گے جن سے آپ نفرت محسوس کریں گے وہیں مادام گرینڈ، یوجین گرینڈ اور نائے نن جیسے خوبصورت کردار بھی ملیں گے جن کے لیے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں رُک سکیں گے۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ بالزاک کے اس دعوے کومان لیں گے کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا وہ میں ا پنے قلم سے کروں گا۔

------

بالزاک کے شاہکار ناول The Girl With the Golden Eyes کا اردو ترجمہ
کتاب: سنہری آنکھوں والی لڑکی
مصنف: ہنری ڈی بالزاک Honoré de Balzac
مترجم: رؤف کلاسرا
ناشر: بک کارنر
شاہکار ناول، بے مثال طباعت
قیمت 600 روپے

اس ناول میں بالزاک نے جس بے رحمانہ طریقے سے پیرس کا پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ اپنی جگہ کلاسیک ہے۔ پیرس کے بے رحم لوگوں کا جو نقشہ بالزاک نے کھینچا ہے اس سے آپ کو خوف آنے لگتا ہے۔ آج کے جدید دَور کا انسان لرز جاتا ہے کہ دو سو سال پہلے پیرس واقعی ایسا تھا جہاں غربت، لالچ، حسد، اس سطح پر پہنچے ہوئے تھے کہ بالزاک نے پیرس کو ایک جہنم قرار دے دیا۔ بالزاک کی ایک اور خوبی دیکھیں وہ اپنی تحریروں میں جج، جیوری یا جلّاد بننے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ ہر کردار کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود کو جیسے چاہے کہانی کے پلاٹ میں لے کر چلے۔ بعض اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ بالزاک خود ایک تماشائی کی طرح اپنی کہانی کے کرداروں کو چپ چاپ بیٹھا انجوائے کر رہا ہے۔ وہ کردار خود ہی اپنی کہانی لکھتے ہیں، خود ہی سازشیں کرتے، آپس میں لڑتے جھگڑتے یا محبّت کرتے ہیں۔ بالزاک صرف اپنے ہاتھ استعمال کرتا ہے، باقی سب کچھ کردار خود ہی کرتے ہیں۔ یہ ناول انسانی جذبات، حسد، شک، فریب اور محبّت کی کہانی ہے جس میں فرانس کے ایک امیرزادے ہنری کو ایک سنہری آنکھوں والی لڑکی ’پاکٹویا‘ سے محبّت ہو جاتی ہے لیکن درمیان میں وہی شک اور حسد، نفرت کے بیج بو دیتے ہیں اور ایک المیہ جنم لیتا ہے یہ ناول اسی ٹریجڈی کی کہانی ہے۔
(رؤف کلاسرا)

RELATED BOOKS