Darhi Wala | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

DARHI WALA داڑھی والا

Inside the book
DARHI WALA

PKR:   700/- 525/-

Author: HUSNAIN JAMAL
Pages: 368
Year: 2021
ISBN: 978-969-662-351-9
Categories: SHORT STORIES COLUMNS ESSAYS
Publisher: Book Corner
★★★★★
★★★★★

حسنین جمال پچھلے چند برسوں میں سامنے آنے والے اُردو کے کالم نگاروں میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حسنین نے اتنے تواتر کے ساتھ ایسی عمدہ تحریریں لکھی ہیں، جن کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ سو فی صد یا چلیں تھوڑا محتاط تخمینہ لگاتے ہیں، پچانوے ستانوے فیصد اچھے کالم لکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ میں نے حسنین جمال کی بیشتر تحریریں پڑھی ہیں، ان کے دو تہائی سے زیادہ کالم بلاگ ایسے ہیں جن پر رشک آیا۔ یہی خیال آیا، کاش اس موضوع پر مَیں لکھ پاتا، مگر پھرسوچا کہ جس لطافت، بے ساختگی اور دلکشی سے حسنین جمال نے لکھا، وہ انھی کا خاصا ہے۔ حسنین جمال کی تحریر میں ایک خاص انداز کی ندرت اور اچھوتا پن ہے۔ ان کی نثر میں کمال درجہ بےساختگی ہے، یوں لگتا ہے جیسے مصنّف سامنے بیٹھا اپنے مخصوص چہکتے انداز میں گُل فشانی کر رہا ہو۔ حسنین نے کالم نگاری کی روایتی، پرتکلّف زمین میں نئے تجربے کیے۔ انھوں نے بلاگ اور کالم کی درمیانی دیوار گِرا کر ان کا حسین امتزاج بنایا۔ ڈکشن ان کی اپنی ہے، بہت سے ایسے الفاظ اور جملے بھی استعمال کر لیتے ہیں جو ہم عام طور پر بولا کرتے ہیں، لکھتے نہیں۔ مجھے حسنین جمال کے یہ لسانی تجربے، نت نئے موضوعات کا انتخاب، انوکھے خیالات اور پھر ان پر نہایت عمدگی سے لکھی تحریریں بہت پسند ہیں۔ ان میں سے بعض سے مجھے اختلاف ہے ، مگر جس سلیقے اور شائستگی سے حسنین نے انھیں بیان کیا، وہ متاثر کن ہے۔ خواہش تھی کہ حسنین جمال اپنی تحریروں کا مجموعہ شائع کرے کہ ان میں سے بہت سوں کے تراشے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ کتاب کی شکل میں یہ سرمایہ محفوظ ہوگیا۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ کسی بھی صاحبِ ذوق کی لائبریری کا حصّہ بن سکے۔

عامر خاکوانی

حسنین جمال کی شکل کارل مارکس سے اتنی ملتی ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ ان کو دیکھا تو لگا کہ میرے سامنے مارکس ہی بیٹھا ہے۔ خیالات بھی موصوف کے ویسے ہی انقلابی ہیں۔ تحریروں میں البتہ ٹھہرائو اور چاشنی ہے۔ زیرِنظر کتاب کے بیشتر مضامین میں نے اسی وقت پڑھ لیے تھے جب یہ ویب سائٹ پر شائع ہوئے تھے۔ ایک تحریر تو اب تک نہیں بھولتی ’’محرّم تو سب کا ہوتا تھا‘‘۔ حسنین جمال نے قلم توڑ دیا تھا۔ پڑھ کر بےساختہ فون کیا اور داد دِی۔ حسنین منکسرالمزاج ہے، شرماتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا، ’’یہ نو مضامین کی سیریز کا حصہ ہے جو محرّم کے حوالے سے مختلف موقعوں پر لکھے۔ کبھی محرّم پر لکھنے بیٹھتا ہوں تو حسنین جمال کی یہ تحریر یاد آ جاتی ہے، خدایا اس سے بہتر اب کیا لکھا جائے گا۔ یہ مجموعہ الگ سے شائع ہو گا۔‘‘ کتابوں کے سرورق پر رائے عموماً مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے مگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ حسنین جمال نوجوان لکھنے والوں میں صف اوّل کے لکھاری ہیں۔ صرف اِن سے ایک گلہ ہے کہ اپنی تحریر میں بعض اوقات غیرضروری طور پر انگریزی کے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، شاید یہ آج کے دَور کی ضرورت ہو، مگر میں اس ’کارل مارکس‘ کو یہی مشورہ دوں گا کہ اس سے اجتناب کرے اور اگر کہیں انگریزی کا لفظ لکھنے کی ضرورت ہو تو اسے یوں استعمال کرے جیسے یار لوگ بادل نخواستہ مانع حمل کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔

یاسر پیرزادہ

مجھے حسنین جمال کا مکمل قاری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تصنع سے عاری، دو ٹوک تحریر ان کا خاصا ہے اور سب سے بڑی بات کہ انھیں اپنی بات کے ابلاغ پر مکمل عبور حاصل ہے۔ ان کی تحریر کا حُسن وہ بظاہر چھوٹے چھوٹے معاشرتی موضوعات ہیں جن کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ وہ ملتانی مٹّی سے اُبھرے ہیں اسی لیے ان کی تحریر اور گفتگو دونوں سوندھی سوندھی خوشبو سے لبریز ہیں۔

گل نو خیز اختر

حسنین جمال اُردو نثر کی تازہ امید ہیں، لفظ کا احترام کرتے ہیں اور خیال کا تعاقب، لکھتے رہے تو بہت دُور تک جائیں گے۔

وجاہت مسعود

USER RATINGS

RATE THIS BOOKS

Tell others what you think

Reviews

S

Syed Muhammad Tajeel Mehdi (Faisalabad)

کتاب چھپ گئی تو شدت کے ساتھ انتظار شروع ہوگیا. آج دوپہر میں ایک فون آیا کہ آپ کا پارسل آیا ہے. بھاگم بھاگ پہنچا اور پارسل وصول کیا. دل باغ باغ ہو گیا. انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بالآخر جناب حسنین جمال کی "داڑھی والا" دستخط اور مہر کے ساتھ موصول ہوگئی.
سر آپ کا نہایت شکر گزار ہوں.
مولا سلامت رکھے اور مزید عزتوں سے نوازے آمین ثم آمین.
اس سارے سلسلے میں گگن شاہد، امر شاہد اور ان کے بک کارنر کی کاوشیں قابل صد تحسین ہیں.


Z

Zeeshan (Lahore)

Dear Book Corner Showroom, Amar Shahid, Gagan Shahid, Husnain Jamal
Received your love and found myself humbled 💕
May ALLAH's Kind Grace Bless you with The Choicest of His Countless Blessings. Aameen!
Regards!


Z

Zaara Mazhar (Islamabad)

"داڑھی والا " مل گیا ۔
کوئی پانچ برس پرانی بات ہے ہم اپنا ٹوٹا پھوٹا کہیں بھی لکھنے کے لئے ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے لیکن کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی تھی کہ سرکل کہاں سے ڈھونڈیں ۔ تب نہ تو اتنے لوگ یہاں لکھ رہے تھے نہ سرکل بڑا تھا ۔ جو لکھ رہے تھے فیس بک پہ لکھنے کی بس بنیاد ہی ڈال رہے تھے ۔ ہم اپنے بچوں کو سلیبس پڑھا پڑھا کے چار بار جونئیر ماڈل امتیازی نمبروں سے پاس کر چکے تھے ہماری چھٹکی والی بھی گود سے نکل چکی تھیں اور ہم گارڈننگ کےمعجزات سے فیض یاب ہو رہےتھے ۔ وہیں ایک گروپ میں حسنین جمال اپنے خوبصورت کیکٹسز کو چھت پہ جھاڑتے پونچھتے مل گئے بلکہ گروپ نے ان کا ایک بہت ہی خوبصورت آرٹیکل جو کیکٹسز کی بنیادی معلومات پہ تھا گروپ میں شئیر کر رکھا تھا ۔ ہم نے اپنی پوری ادبی صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے کمنٹ کیا اور ساتھ ہی اپنے گھر والوں سے ڈرتے ڈرتے ریکویسٹ سینڈ کردی جو چند ہی گھنٹوں میں مقبول ہو گئی ۔۔۔ ہمیں حسنین جمال کی وال تک رسائی مل گئی حسنین جمال تب بھی تواتر سے لکھ رہے تھے تقریباً روزانہ ہی ان کا ہر بلاگ جو ہم سب پہ شائع ہوتا ہمیں مل جاتا ۔ ہم مزے سے پڑھتے اور طول طویل کمنٹ کرتے کیونکہ حسنین جمال جو کچھ لکھتے تھے ہمیں لگتا ہمارے گھر کی ہمارے بچپن کے زمانے کی کہانی لکھ رہے ہیں ۔ یہ جب بھی کچھ لکھتے ہم خیالوں میں اپنے میکے پہنچ جاتے ۔ ان کا وہ بلاگ بے حد دلچسپ تھا جس میں انہوں نے وی سی آر کرایے پہ لا کے موویز دیکھنے کی تاریخ قلم بند کی وہ کہانی بھی ہمارے گھر کی تھی ہم پھڑک گئے ۔ ایک بلاگ کفایت شعاری کے حوالے سے تھا کہ پہلے لوگ لپٹن چائے کے ڈبے تک کی چھپٹیاں کاٹ کے رکھ لیتے تھے جو ایک جلتے چولہے سے دوسرے چولہے کو جلانے کے کام آتیں ۔اللہ اللہ یہ پھر ہمارے گھر کی داستان تھی ۔ نوے کی دہائی کے ڈراموں بلکہ زمانے کی خوبصورتی پہ شائد حسنین جمال نے سب سے پہلے لکھا اتنی رواں نثر لکھتے تھے کہ حیرت ہوتی بندہ سامنے بیٹھ کے ہمکلام ہے یا ہم اس کا لکھا پڑھ رہے ہیں کوئی بھی موضوع پکڑتے اور اسے شاہکار بنا ڈالتے ۔ انکی تحریروں پہ ہمارے کمنٹس طویل سے طویل ہوتے گئے یوں ہمیں پہلے جملہ لکھنے اور پھر پیراگراف ترتیب دینے پہ دسترس حاصل ہوتی گئی ۔۔ ہم فخریہ طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ داڑھی والا چپ چاپ ہمارے روحانی استاد کے درجے پر فائز ہوگیا ۔ اب ہم جہاں بھی کمنٹ کرتے پڑھنے والے پوچھتے آپ لکھتی ہیں ؟ ہم پورا دن چھلانگیں لگاتے رہتے کہ واہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں ۔ رفتہ رفتہ یوں ہوا کہ اب جب بھی حسنین جمال کا بلاگ یا وال سامنے آتی ہم حیرت سے منہ میں انگلیاں داب لیتے کہ یہ تو ہم بھی لکھ سکتے ہیں بلکہ یہ تو ہمیں لکھنا چاہئے تھا اور کبھی یہ احساس کہ کاش یہ ہم نے لکھا ہوتا ۔۔ ایک روز ہم نے جمال سے پوچھا کہ آپ تو نوے کی دہائی کے ڈراموں کے بارے رطب اللسان رہتے ہیں جو عین ہماری طالب علمی کا زمانہ تھا یہ تو ہمارے زمانے کی بات ہوئی پھر کیا وجہ ہے کہ آپکی بٹیا اتنی چھوٹی ہیں اور ہماری اتنی بڑی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ خوبصورت ڈرامے تو انہوں نے یو ٹیوب پہ دیکھے ہیں بابا جی کی عمر کا عقدہ حل ہوگیا ۔۔
اب گاہے اردو پوائنٹ پہ یا انکی وال پہ انکی تحاریر مل جاتی ہیں ۔ خوبصورت اور جامع لکھتے ہیں ۔ قاری اور لکھاری میں من و تو کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ چھوٹے بھائی اور ابا بھی خوب لکھتے ہیں ۔ حسنین جمال کو دیکھیں تو اپنی دنیا میں مست ملنگ رہنے والے کوئی سادھو سنت لگتے ہیں جو پہاڑوں سے اتر کر گیان بانٹنے میدانوں پہ اتر آیا ہو جدید زمانے کے گیان بھی تو اپ ٹو ڈیٹ ہو گئے ہیں ۔ جو ایک بار حسنین کو پڑھ لے اسکی محبت میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ لگتا ہے چلتے چلتے اپنی جیب سے ایک واقعہ نکالا ہے اور کھٹاکھٹ ٹائپ کر کے قاری کے حوالے کر دیا ۔ بڑا سٹیمنا اور سپیڈ ہے بھئی ۔۔ ہم گال پہ انگلی رکھ کے سوچا کرتے ۔ انکی وہی ننھی منی بٹیا اس قدر خوبصورت گاتی ہیں یوں جیسے ندیا کی اوپری اوپری سطح پہ سنہری سی پروا یا کوئی ننھی سی چڑیا بڑے جذب سے ندی کے پانی کو ہلائے بغیر اٹھکیلیاں کرتی ہو ۔۔
مجھے یقین ہے کتاب میں وہ تمام بلاگز بھی بند ہوں گے جنہوں نے ہمیں بری طرح مسمرائز کیا تھا ۔ ہم سوچتے تھے آنلائن لکھا شائد ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے لیکن فزکس کے کسی اصول کے تحت آپ کا لکھا , بولا اور سنا سب دنیا کی چار دیواری میں محفوظ رہتا ہے بس سنبھالنے کی سائنس معلوم ہونی چاہئے ۔۔۔
چند ماہ پہلے جس روز حسنین جمال کو پہلی بار بک کارنر جہلم میں دیکھا ہم سمجھ گئے اب انکی کتاب آوے ہی آوے ۔۔ لیکن اتنی جلدی صاحبِ کتاب بن جائیں گے ہم نے سوچا نہیں تھا ۔ اللہ انکی جھولی کامیابیوں سے بھر دے ۔ حسنین کی کتاب کا پہلا قطرہ گر گیا ہے اب بارش ہوگی پھر برسات بس ہم بھیگنے کا اہتمام رکھتے ہیں ۔ گگن و امر شاہد کو نہ سراہنا زیادتی ہوگی ۔ ادب کی دنیا کے پارس ہیں جس کے ساتھ ہاتھ ملا لیں صاحبِ کتاب بنا ڈالتے ہیں ۔ کمال ہے ناں ۔ دعا ہے یہ تمام روشن ستارے ادب کے افق پہ جگمگاتے , جھلملاتے رہیں ۔
سب کے لئے نیک خواہشات ۔۔۔


S

Syed Salman Hussaini (Karachi)

اگر آپ اس دھرتی پر موجود فانی چیزوں سے محبت کرنے والے بے وقوف ہیں اور انہیں گلے سے لگا کر رکھتے ہیں تو آپ خسارے میں ہیں۔ اور اگر آپ میں ایسی کوئی فنی خرابی نہیں تو صاحب بسم اللہ، نیا گھر مبارک!!
ایسے نکھرے ستھرے جملوں سے مزین مختلف موضوعات پر لکھتے بولتے Husnain Jamal کی نثر اور تبصروں کے ہم ہمیشہ منتظر رہے, بہت خوشی ہوئی "داڑھی والا" دیکھ کر
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
ایک بات Gagan Shahid صاحب اور بُک کارنر کے احباب کے لئے
کل سہ پہر 3:30 بجے آرڈر بک کیا, محض ایک منٹ بعد واٹس اپ پر رابطہ ہوا, 4 منٹ بعد TCS کی بکنگ سلپ واٹس اپ پر مل گئی اور ساتھ ہی ای میل پر بھی, صبح سحری میں TCS سے کنفرمیشن میسج آیا کہ آپ کا پارسل آج کسی وقت گھر پہنچے گا اور سہ پہر 3:30 بجے ابو جان نے فون پر بتایا کہ آپ کو پارسل موصول ہو گیا ہے.
دل خوش ہو گیا صاحب. جئیں اور دلجمعی کے ساتھ اچھی اچھی کتابیں قارئین تک پہنچائیں ❤❤❤


A

Ahmad Rizwan (Toronto)

کون ہے یہ داڑھی والا؟ کیا کرتا ہے یہ داڑھی والا؟
یہ جمال گفت و شنید کا پیروکار،حسن و حسین کا مرید، جمیل بھی ہے جمال بھی ہے، باکمال بھی ہے ۔ حرف یوں پروتا ہے کہ سیدھے دل میں اترتے جاتے ہیں ۔ پہلی کتاب بھی پہلوٹھی اولاد کی طرح پیاری ہوتی ہے ۔ بہت بہت مبارک برادر۔ کتاب موصول شد۔


H

Hassan Jamil Sandhu (Gujranwala)

Book Corner Showroom ,thank you for yet another masterpiece....
Husnain Jamal ...good to see something different sir...
More power to you


M

Muhammad Usman Aziz (Kharian)

آج کی ڈاک سے حسنین جمال صاحب کی کتاب "داڑھی والا" وصول ہوئی. وہی عمدہ پیکنگ. وہی بروقت ترسیل کا ایک اور خوشگوار تجربہ. کتاب کے ساتھ گگن بھائی کی وہی محبت اور اپنائیت بھی وصول ہوئی حسنین جمال صاحب کے دستخط اور "ایک سو گیارہ" کا نمبر مجھے عطا کیا گیا. ان کہی محبت اسی کو تو کہتے ہیں. کتاب دکھنے میں جمال ہے پڑھنے میں کمال ہو گی. سلامت رہیں اور ایسی بہت سی کتب کی شاندار طباعت و اشاعت کرتے رہیں. بہت نوازش


A

Aamna Ahsan (Karachi)

واہ
ایک اور دوست صاحب کتاب
ایک اور دوست کی کتاب اپنے ہاتھ میں ۔۔۔
خوشی ہوتی ہے دوستوں کو انکے خواب پورے کرتے دیکھتے ہوے ۔۔
یاد ہے حسنین ریڈنگز میں بیٹھ کر خاصی بحث ہوئی تھی کہ کتاب آنی چاہیے
اور بھائی آگئی کتاب وہ بھی اچھی خاصی بھاری بھرکم 😁
سر ورق میں تو بابا جی لگ رہے ہو کاش کہ لوگ جان سکیں کتاب کے اندر کتنے قسم کے پکوان ملنے والے ہیں ۔۔۔
پڑھنے والو۔ ۔۔۔
کتاب فقط 700 کی ہے اور worth reading ہیں ۔۔ منگوا لو اس سے پہلے کہ اسٹاک مک جاۓ ۔۔
بک کارنر جہلم تو ہے ہی کتابوں کی جنت ۔۔۔گگن ، امر مبارک باد ۔۔اچھی کتاب چھاپی ہے 💓


S

Sufyan Sabir (Gujrat)

آج دن کو کال آئی کہ آپ کا پارسل آیا ہے ۔وہی شاندار پیکنگ اور بر وقت ترسیل
شکریہ گگن بھائی


O

Omair Mahmood (Lahore)

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
صاحبو! بالکل وہی صورت حال ہوئی پڑی ہے۔
بھائی حسنین جمال کی کتاب وصول کیے کتنے ہی دن گزر گئے۔ جب اس کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہوں، زیست کا چکر چکرا دیتا ہے۔ آج اٹھے ہی لیٹ اور بھاگے دفتر کی جانب۔ آج سونے سے پہلے پڑھنے پر کمر باندھی لیکن نیند سے بوجھل پلکوں نے اجازت نہ دی۔ آج دن بھر الجھے رہے اور الجھ سے گئے۔
یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ناس ہو ایسی مصروفیت کا۔ کیوں کہ یہ ہے تو زندگی بے ڈھب ہی سہی، چل تو رہی ہے نا۔
لیکن گھر آئی کتاب کے ساتھ کوئی ایسا کرتا ہے کیا؟ ہائے اس میں موجود کیسی کیسی خوب صورت تحریریں شکوہ کناں نظروں سے مجھے دیکھتی ہوں گی۔ کتاب کی پیکنگ تک اتارنے سے ڈرتا ہوں کہ پھر اس عشوہ پرداز کے وار کیسے سہہ پاؤں گا۔
جان کشمکش میں ہے یارو! لیکن اس بے چینی کا بھی لطف لے رہا ہوں۔ کتاب الحمد للّٰہ تصرف میں تو آ ہی گئی، دو ایک دن میں بانہوں، میرا مطلب ہے ہاتھوں میں بھی ہو گی۔
شاعرانہ ملاوٹ پر جان کی امان پاؤں تو کہوں گا
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ 😊


N

Noman Khalid

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی آغوش میں سر رکھ کر ہم دنیا اور ان کی بکھیڑوں سے بے خبر سارے دکھ درد بھول جاتے ہیں اور کچھ لوگ یہ کام اپنے جادوئی لفظوں سے کرتے ہیں۔
مجھے جب جب ٹیس پہنچا ہے گنتی کے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی طرف بے اختیار میرے قدم بڑھ گئے ہیں ان ہی میں داڑھی والا بھی ہے۔
اور ایک بار پھر میں داڑھی والا کی طرف گامزن ہوں ایک امید کے ساتھ ۔۔۔
داڑھی والا لکھتے ہیں "اور جب تم ہنسی کی حقیقت جان لو گے اور جب اندھیرے کی روشنی تم پر جا کھلے گی۔ افسوس تب یہ علم تم کسی کے حوالے نہیں کرسکو گے۔
موت اندھیرا نہیں ہے اندھیرا زندگی ہے اور موت روشنی ہے۔ روشنی جو اندھیرے سے پھوٹتی ہے مگر جسے تم فاتح قرار دیتے ہو۔ موت روشنی ہے کہ بعد اس کے تمھارے لیے ہر چیز کو ثابت ہے، اندھیرا زندگی ہے کہ تمھارا اگلا پاؤں جانتے بوجھتے ہوئے تم کس گڑھے میں اتار دو، تم نہیں جانتے اور تم روشنی کو پسند کرتے ہو؟ روشنی جو تمہیں ہنسی کے رنگ دکھا کے پرچا لیتی ہے؟"
داڑھی والا لکھتے ہیں "جسے رات اپنا بنا لے وہ پھر روشنیوں میں کسی کام کا نہیں رہتا۔ رات اپنے کالے بالوں میں اس طرح اسیر کرے گی کہ دن کے اجالوں میں تمھارا دم گھٹنے لگے گا۔ تمہیں سانس لینا دشوار ہو جائے گا۔ تم رات ڈھونڈو گے مگر وہ اپنے وقت پر آئے گی۔ ہر رات دوسری سے الگ ہو گی لیکن ایک مکمل رات ہوگی۔ کوئی پچھلی رات تمہیں کسی اگلی رات کے جیسے نہیں دکھے گی لیکن ہر اگلا دن پچھلے دن کے جیسا اور ہر پچھلا دن کئی اگلے منحوس دنوں کے جیسا لگتا رہے گا۔"
بے شمار محبتیں میرے حسنین جمال ❤️


K

Kausar Islam (Swabi)

کل ٹی سی ایس کی طرف سے میسج آیا کہ آپ کا پارسل آیا ہے..... میں حیران و پریشان..... کہ میں نے تو کچھ منگوایا بھی نہیں...
آج صبح پارسل وصول کیا..... تو اس میں سے گگن بھائی کی وہی پر خلوص محبت بر آمد ہوئی....
گگن بھائی نے جب سے داڑھی والا کا اشتہار دیا تھا اس وقت سے اس کا شدت سے انتظار تھا. آج یہ انتظار ختم ہوا...... کتاب ہمیں مل گئی اور وہ بھی مصنف کے ہاتھ سے دستخط شدہ کاپی...


A

Adil Hasan (Karachi)

زندگی کی راہوں میں بہت سے لوگ ملتے ہیں کچھ یاد رہتے ہیں کچھ بھول جاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ لوگ نہیں ملتے صرف فون پر ہی بات ہوتی ہے لیکن یاد رہتے ہیں، ان ہی میں سے ہمارے دوست حسنین جمال بھی ہیں جن سے ملے نہیں، لیکن ان سے تعلق رہا ہے ان کی تحریروں کے زریعے۔
ان سے تعلق جب سے ہے جب وہ "داڑھی والا" نہیں تھے، اچھی تحریروں کے اچھی کتابوں کے رسیا رہے ہیں، قبلہ واحدی صاحب کی تحریروں کو بھی بہت پسند کرتے ہیں، عقیل عباس جعفری صاحب کی بدولت ان سے رابطہ ہوا، ایک مرتبہ حسنین جمال نے اطلاع دی کہ لاہور میں ایک کتب فروش کے پاس قیسی رامپوری کے درجنوں ناولز موجود ہیں، ہمیں تو ان دنوں تلاش ہی رہتی تھی، آنا" فانا" وہ ناولز ہم تک پہنچ گئے، جب ہم نے ان سے ان کی قیمت کا پوچھا تو کہنے لگے آپ کو مل گئے بس بہت ہے قیمت ہم کو وصول ہوگئ۔
حسنین جمال کی تحریروں کے پیچھے ان کا مطالعہ چھپا ہے، کوئی بھی شخص اس وقت تک اچھا لکھ ہی نہیں سکتا جب تک اس کا اچھا مطالعہ نہ ہو، حسنین جمال کی بے ساختہ تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں، وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے اچھوتے موضوعات کو چنتے ہیں اور اپنی تحریروں کو "پاوری ہو رہی ہے" کے انداز میں قاری تک پہنچا دیتے ہیں، وہ الفاظ کے چناؤ کے لئے انتظار نہیں کرتے جو عام فہم الفاظ ہیں انہی سے گزارا کرتے ہیں، خود کو اردو دان بھی نہیں گردانتے۔
اپنی ایک تحریر جس کا عنوان ہے "بجھی ہوئی راتیں گزارنے والوں سے خطاب"
میں لکھتے ہیں " مقدس راتوں کا الہڑ پن سب سے پہلے بجلی نے چھینا تھا۔ چاندنی وہاں درشن دیتی ہے میاں جہاں ضرورت ہو، ایویں خواہ مخواہ گھروں میں نہیں جھانکتی۔ تو بجلی آئ۔ پھر دن والی روشنی راتوں کو بھی ہونے لگی، رات اپنے معصوم جلوے سمیٹ کے انجان ویرانوں کو نکل گئ۔ پھر خاندان کے بزرگوں کی جگہ ریڈیو نے لے لی۔ ریڈیو کبھی بند ہوتا تو سب نانیوں دادیوں کے ساتھ چپک جاتے۔ وہ لوگ کہانیاں سناتے ہی رات میں تھے۔ کہا جاتا تھا کہ دن میں کہانی سنو گے تو بیٹا مسافر راستہ بھول جائے گا۔ پھر سفر بھی رات اور دن کا ہوگیا۔ نہ سواریوں کو خیال نہ سفری گاڑیوں کو ڈر، کیا دن کیا رات، سفر دن رات ہونے لگا اور ریڈیو کی جگہ ٹی وی نے لے لی۔ٹی وی وہ چیز تھا جسے دیکھنے کے بعد بھی سب اسی کی باتیں کرتے تھے۔ دادیاں نانیاں بھی اسی کی ہوگئیں۔ چاند نکلتا رہا ، تارے جھلملاتے رہے، جگنو شہر کی آبادیوں سے غائب ہوتے رہے، اسٹریٹ لائٹ جلتی رہی اور رات کب آئ اور کب رخصت ہوئ کون جانتا ہے؟
غرض کہ کتاب عام موضوعات پر اتنے اچھے طریقے سے لکھی گئی ہے کہ عام موضوعات بھی خاص بن گئے ہیں۔
جہلم بک کارنر نے شایان شان طور پر شائع کیا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔


A

Ali Shafqat (Jhelum)

حسنین جمال کی قلم سے نکلے موتیوں کو ورق کی زینت بنانے پر بک کارنر شو روم جہلم کو سلام
*حسنین جمال*
نام کی طرح وجود و قلم میں بھی ایک عجیب سا جمال لئیے ہوئے ہیں
سر ورق کو دیکھنے سے اس جمال میں بندہ کھو سا جاتا ہے کہ جس جمال نے نہایت خوبصورتی سے اس *داڑھی والا* کے بارے میں میں لکھا اور اس داڑھی ولا کردار کے بارے میں سوچنے پر بندہ مجبور بھی ہوجاتا ہے اور متجسس بھی
تو پھرکیوں نہ اس تجسس کی آگ کو مزید کم کیا جائے یا بھڑکایا جائے یہ تب ہی ممکن ہو گا جب نسخہ آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہو گا


I

Irrfan Shahood (Arifwala)

صرف " داڑھی والا" منگوانے کی کوشش میں کئی اور بکس میری لائبریری کا حصہ بن چکی ہیں۔داڑھی والا بابرکت ہے۔


M

Muhammad Furqan Siddiqui (Lahore)

کمال کی تحریر ہے محترم حسنین جمال کی.


A

Ahmed Mansoor (Quetta)

بک کارنر سے پہلی بار کتاب منگوائی بہترین کوالٹی اور شاندار پیکنگ کے ساتھ آرڈر موصول ہوا بہت خوشی ہوئی ۔ شکریہ بک کارنر


S

Saniya Shakeel (Rawalpindi)

Received parcel today.
Glad to have it!
Fine quality and packaging.


U

Usama Bin Iqbal (Lahore)

Ok, time to review!
Been following Book Corner for quite long time as a silent observer. Never ordered anything as after switching to English Medium in FSc and onwards never tried any Urdu books and Book Corner mostly deals in Urdu Books. Recently, hype was building for Husnain Jamal's "Darhi Wala" I was intrigued by the title and then the reviews but the turning point came when I read the first few pages online on Book Corner's website and right away I knew that I HAD TO GET MY HANDS ON THIS BOOK. Immediately ordered the book and paid in advance. So here's the timeline of my book delivery (With advance payment):
Order Placed: Around 1:00 AM 26th May 2021
Order Confirmation and dispatch: 10:30 AM 26th May
Order received: 9:00 AM 27th May
Can you believe it? Order delivery in less than 24 hours from Jehlum to Lahore.
Let's come to the package, book was packed with EXTREMELY caution with multiple paper wraps and then a bubble wrap.
Quality of the book cover is EXTREMELY GOOD, the Best that I've ever seen in a long time. Page quality is also premium. Even their Receipt was printed on a really beautiful paper. In short, elegence in each and everything!
Overall it was a 05/05 experience from order placement to delivery to book quality. HIGHLY RECOMMENDED!!!


D

Dr. Sohail Aziz (Burewala)

"بیوٹی پارلر اور داڑھی والا "
بک کارنر شو روم جہلم اردو ادب اور ادیبوں کی ترویج و ترقی کا شاندار اور معتبر ادارہ ہے ، بلکہ میں تو اسے کتاب اور صاحب, کتاب دونوں کے لئے ایک " بیوٹی پارلر " خیال کرتا ہوں کہ جہاں فنی اور تکنیکی مہارت کی حامل ایک ماہر ٹیم کتاب کو دلہن اور صاحب, کتاب کو دولہا کی طرح سجا سنوار کر یوں پیش کرتی ہے کہ اردو ادب سے محبت کرنے والے اس
" خوبصورت جوڑے" کے عشق میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔
کتاب اور ادیب کی محبتوں اور خوشبوؤں کو ہوا کے حوالے کرکے یوں مہمیز کرتے ہیں کہ یہ ہوا ، سرحدوں کو پار کرتے اور سمندروں کو چیرتے ہوئے سارے عالم میں اردو ادب کے لاکھوں چاہنے والوں تک جا پہنچتی ہے۔
میں نے اسی خوشبو کی بدولت بہت سے نو وارد اور غیر معروف لکھاریوں کو معتبر اور معروف اہل, قلم کے عشاق میں ڈھیروں اضافہ ہوتے دیکھا ہے ۔
ان خدمات کا سہرہ یقینی طور پر میر, کارواں جناب شاہد حمید (مرحوم ) اور ان کے قابل, فخر سپوتوں گگن شاہد بھائی Gagan Shahid اور امر شاہد بھائی Amar Shahid کے سر ہے ۔
گزشتہ چند ہفتوں سے بک کارنر کے فیس بک پیج پر ایک منفرد سرورق اور قدرے عجیب نام سے مزین ایک کتاب " داڑھی والا" پر نظر پڑی تو خیال کیا کہ روسی ادب کے کسی فن پارے کا اردو ترجمہ کیا گیا ہے ۔
سوچا دو چار اور کتب کی فہرست بن جائے تو گگن بھائی سے درخواست کریں گے۔
بھلا ہو عزیزی مطاہر جمیل رامے Mutahir Jamil Ramay کا , کہ چند روز قبل "داڑھی والا " مجھے تحفہ کر گئے ۔
تصویر ، تعارف اور کچھ تبصرے پڑھنے کے بعد میں نے لکھا کہ داڑھی والا " بھائی بند " ہی لگتا ہے امید ہے رفاقتوں کا سفر طویل ہوگا اور خوب گذرے گی ۔۔۔!
میں کوئی ادیب ، لکھاری یا نقاد تو نہیں کہ خوبصورت الفاظ ، تشبیہات اور استعاروں کو استعمال کرتے ہوئے کسی کتاب یا صاحب, کتاب کے فن پر اپنی رائے کا اظہار کر سکوں مگر گزشتہ تین دھائیوں سے اردو ادب کی مختلف اصناف کا قاری ہونے کی حیثیت سے اپنے جذبات و احساسات کا ٹوٹا پھوٹا اظہار کرنے کی کبھی کبھار جسارت کر لیتا ہوں۔
"داڑھی والا" پڑھنی شروع کی تو ایسا لگا کہ اپنی ہی" آپ بیتی" پڑھنا شروع کر دی ہے ۔ روزمرہ زندگی میں پیش آنے والی وہ تمام وارداتیں ، اپنی ہی لگیں ۔
حسنین جمال Husnain Jamal نے وہ لکھ ڈالا جو لکھا نہیں جاتا صرف بولا جاتا ہے اور ایسے لکھا ، جیسے لکھا نہیں جاتا ۔
اس نے تیرھویں صدی عیسوی میں ، وسط ایشیائی چراگاہوں میں جنم لینے والی" لشکری زبان " کے ساتھ اسی علاقے کے ایک مشہور فاتح والا وہ سلوک کیا ہے جو اس فاتح نے " اہل, بغداد" کے ساتھ کیا تھا۔ یہ تو بھلا ہو حسنین جمال کا ، کہ اس نے یہ "واردات" ایک صدی بعد ڈالی ، ورنہ اردو ادب کے "استادوں" کے ہاتھوں یقینی طور پر معتوب ٹھہرتا اور اسی پاداش میں اسے "پیالہ " پینے کی سزا دی جاتی۔
مگر عصر , حاضر میں اردو بولنے اور لکھنے میں جس تیزی سے دوسری زبانوں کی آمیزش ہو چکی ہے اس تناظر میں "داڑھی والا" کا طرز تحریر روائتی اردو ادب سے" بغاوت " کرنے کے باوجود ایک خوشگوار تائثر چھوڑ تا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔
حسنین جمال نے روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات ، معاشرتی رویوں میں تضادات اور بگاڑ کو محسوس کرتے اپنے مشاہدات کو سادہ اور عام فہم انداز میں نہائت مثبت طریقے سے بیان کیا ہے ، اور کہیں کہیں ان کے بہتر اور قابل, عمل حل کے لئے اپنی آرا بھی تجویز کی ہیں۔
کتاب پڑھتے ہوئے کئی بار اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، ایسا لگا کہ میری "داڑھی" بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے اور ایک دو بار تو آئینے کے سامنے جاکر بھی دیکھا کہ اس بڑھی داڑھی کے ساتھ میں کیسا دکھائی دے رہا ہوں مگر یہ "کمال" حسنین جمال کا ہی ہے کہ اس نے اس "داڑھی " کو حقیقت میں اپنے چہرے پر بڑھایا اور اپنی شخصیت اور شناخت کے اظہار کا ایک منفرد روپ اپنایا۔
مجھے یقین کامل ہے کہ داڑھی تو اسکی بچپن سے تھی مگر تھی "پیٹ میں" ۔۔۔۔!
حسنین جمال کے لئے ڈھیروں نیک خواہشات ۔۔۔!
کہ
ہو زور, قلم اور زیادہ
اور اس پیغام کے ساتھ اجازت کہ
" کتاب سے محبت کریں
کتاب کا لمس
آپ کی سب حسوں کو بیدار کرے گا اور آپ کو سر بلند رکھے گا "
دعا گو
ڈاکٹر سہیل عزیز
بورے والا
جون 2021


Z

Zain ul Abidin (Jhelum)

آج دن تک جتنی بھی کتابیں پڑھنا شروع کرتا ہوں، کوشش ہوتی ہیں کہ انھیں جلد سے جلد ختم کیا جائے۔ مگر یہ "داڑھی والا" واحد کتاب ہے جسے خود ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہا ہوں تاکہ اس کا ہر موضوع میری سوچ کے اندر ایک جاذبیت پیدا کر سکے۔ برسوں کی بگڑی سوچ کو اگر سدھارنے کا موقع مل ہی گیا ہے تو بھئ ذرا صحیح طریقے سے سدھاریں۔ پھر یہ بھی خدشہ رہتا ہے کہ اس کتاب کے موضوع تو میں پڑھتا جارہا ہوں، پھر ایسے موضوع کب ملے گے پڑھنے کو۔ درمیان میں جو اتنے دنوں کا گیپ پڑ جائے گا تو میں تب کیا کروں گا۔ حسنین جمال صاحب نے ایک کتاب شائع کرکے ہمیں اپنی موضوعات کی لت تو لگا دی گئی اب ہمیں کچھ عرصے بعد پھر سے طلب ہو گی۔
حسنین جمال صاحب نے معاشرے کے اُن موضوعات پر لکھ کر روح خوش کر دی جو کہیں نہ کہیں ہماری ضرورت تو تھے مگر کسی کو اس کا خیال نہیں آیا۔ ہم ترقی کی راہوں کو چیرتے چیرتے لا شعوری طور پر ان چیزوں سے مکمل طور پر غافل ہو چکے تھے۔ پھر حسنین جمال صاحب نے اپنی قلم کو ان موضوعات کی جانب موڑ کر اپنی قلم کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی حسنین جمال صاحب اور ان کی قلم کو ہمیشہ جمال بخشے۔ آمین
اس کے ساتھ ساتھ بک کارنر جہلم کا میں پہلے فین تو تھا ہی مگر اس کتاب کے بعد میں ان کا ڈائی ہارٹ فین بن گیا ہوں۔ کتاب کو ہاتھ میں تھام کر لگتا ہے جیسے کوئی خزانہ ہاتھ میں تھام لیا ہو۔ کتاب کی پرنٹنگ اچھی ہو تو تبھی پڑھنا کا مزا آتا ہے۔ اللہ تعالی اس ادارے کو بھی مزید ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین۔


M

Mumtaz Shereen (Karachi)

فیس بک پہ آج کل حسنین جمال کی کتاب" داڑھی والا" نے دھوم مچا رکھی ہے ۔ کئی دفعہ نظر سے کتاب گزری ،کبھی کسی کی وال پر تو کبھی کسی کی وال پر ۔۔ہر دفعہ ہم ایک نظر کے بعد دوسری نہیں ڈالتے کہ کہیں لالچ ہمیں بھی اس کوچہ خرید میں نہ لے جائے لیکن آخر کب تک ؟ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک کاپی ہم نے بھی آرڈر کر دی اور حیرت زدہ تب رہ گئے جب کتاب جہلم سے کراچی صرف 24 گھنٹے کے مختصر سے وقت میں پہنچ گئی ،لاجواب پیکنگ ،بے مثال سرورق کی ایک سائن کاپی آج ہمیں بھی موصول ہوگئی ۔بک کارنر سے پہلی دفعہ کتاب منگوائی۔
بہترین کوالٹی،شاندار پیکنگ ،ہر لمحہ میسیج کے زریعے آگاہ رکھنا کہ اب کتاب کہاں سے چلی اور کہاں پہنچی واقعی میں مجھے بہت متاثر کر گئی اور اب ان شاءاللہ میری تمام کتابوں کی شاپنگ book corner سے ہی ہوگی ۔بہت شکریہ بک کارنر ۔۔۔آپ سب کی کامیابی کے لیے بہت ساری دعائیں۔
کیسا انوکھا سا عنوان ہے ۔ہم نے داڑھی والے تو بہت دیکھے تھے لیکن کتاب بھی داڑھی والا ہو سکتی ہے یہ ہماری گناہگار آنکھوں نے پہلی بار دیکھا ۔
مزید اعزاز یہ کہ کتابی نسخہ مصنف کے دستخط کے ساتھ ہے تو آپ خوشی سے نہال ہی ہو اٹھتے ہیں ۔ عنوان اور سرورق بک کارنر کی خوبصورت روایت پر پورا اترتا ہے جسے انہوں نے اپنے روایتی سلیقے اور نفاست سے چھاپا ہے ۔
مصنف اور ناشر کی کامیابی کے لئے بے پناہ دعائیں ۔


ب

بشارت تنشیط (Bagh, Azad Kashmir)

بہت خوب صورت کتاب ہے میں نے کل ہی بک کارنر جہلم والوں سے یہ کتاب طلب کی تھی جو آج مجھے مل گئی، کتاب پر مفصل تبصرہ مطالعہ کرنے کے بعد ہی ممکن ہوگا سرِ دست " جمالے" کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شکر ہے کہ میرے پیسے ضائع نہیں ہوے۔


D

Dr. Mehboob Ahmed Ch (Bhimber, Azad Kashmir)

وہ آیا اور چھا گیا
جیسے گہری خاموش جھیل پہ گرنے والی ہلکی پھوار
نے ساز و آواز کی نئی فضا تخلیق کی ہو
درویشی انداز و اطوار کا روپ دھارے
یہ قلم کار ہزاروں دلوں کا حکمراں ٹہرا
اللہ تعالی جب نوازنے پر آتا ہے
تو ان دیکھے انجان بھی اپنے بن جاتے ہیں
خوب صورت لب و لہجے
دلچسپ انداز بیان اور بے ساختہ پن اپنی تحریر
میں سمو کر اس نے نئی روایات کو جنم دیا ہے
بھت عرصے بعد
کسی نئے نام کو اتنا اچھا لکھتے دیکھ کر
بھت خوشی ہوئی ہے
داڑھی والا اب اکیلا نہی
اسے بھت سے نئے قاری مل گئے ہیں
بک کارنر جہلم
نے ایک مرتبہ پھر کتاب کو نئی روح پھونکنے میں کامیابی
حاصل کی ہے
شاہد حمید مرحوم
کا لگایا ہوا یا پودا اب شجر سایہ دار بن کر
قلم کاروں کو سکون بخش رہا ہے
گگن شاہد اور امر شاہد
کو اللہ استقامت دے اور مزید کامیابی سے نوازے
اور ہاں ایک دلچسپ بات میں خوش قسمت ہوں
مجھے دستخط شدہ دو کتابیں اتفاقاً مل گئیں
شکریہ


S

Shernawaz Gul (Peshawar)

میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہر کتاب کو پڑھ پاوں لیکن وہ فیض صاحب کہتا ہے نا کہ
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
اس لئے ساری کتابیں میں پڑھ نہیں پا رہا، لیکن یہ ہے کہ کتابیں جمع ہوتی جارہی ہیں ، عمر بڑھتی جا رہی ہے اور ہر کتاب بمشکل پوری پڑھ پا رہا ہوں۔
پچھلے ماہ حسنین جمال کی کتاب کو جب بک شو روم کے پیج پر ، حسنین جمال کے آٹوگراف کے ہمراہ والی کتاب بھیجنے کا موقع دیکھا تو میں نے یہی فرمائش کی کہ مجھے 100ویں کتاب چاہیے کیونکہ پہلی کا تو ہمیشہ پبلشر کا حق بنتا ہے۔
حسنین جمال کو پہلے میں نے کبھی نہیں پڑھا، وجہ کیا ہو سکتی ہے، میرے خیال میں کہ نئے لکھنے والوں کو میں جانتا ہی نہیں، حقیقتاً میں تو پرانے ادیبوں کے بارے میں حالیہ 7-8 سالوں میں پتہ لگا۔ میں نے اس کتاب کو یہی سوچ کہ خریدا کہ بک روم کارنر والے کسی عام ادیب کی کتاب کے بارے میں نہیں پوسٹ لگا رہے یہ کوئی خاص ہی لکھنے والا ہوگا۔
کتاب ملی تو تصویر دیکھ کر مجھے حسنین جمال ، کوئی بابا ، گورو گنیش یا بابا یحییٰ سا لگا، میں نے سوچا کہ شاید یہ کوئی تصوف کے بارے میں کتاب ہو گی، لیکن یہ کیا، جب کتاب پڑھنا شروع کی تو میں نے کہا حسنین کوئی پرانا باباجی نہیں، یہ تو جوان بابا ہے جس نے زندگی کو ہر زاویے سے دیکھا ہے ، یہ بندا تو چلتا پھرتا ایک مینول ہے، جس سے زندگی کے کسی ایشو کے بارے میں پوچھو ، تو اتنا شگفتہ انداز سے سمجھائے گا کہ آپ اس مینول کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں گے ۔
میں نے جب پہلا کالم اس کتاب کا پڑھا تو دوبارہ پڑھا کیونکہ مجھے تو یہ اپنے گھر کی کہانی لگی جب بیگم کھانا پکا کے کھانا نہ کھائے، استری والے دن اس کے موڈ آف ہونے کا مطلب اسی کتاب نے سمجھایا۔ یار کیا بندہ ہے، بیگم کو دکھایا تو اس نے پڑھ کر کہا، اب آپ سمجھے میں کیا مسائل ہوتے ہیں ہم سب عورتوں کے۔
کتاب کا ہر مضمون اپنا وزن لیے ہے۔کئی جگہوں پر میں نے اس کتاب کے جن ضروری مضامین کو ضروری سمجھا ان پر مارک لگا دیا یا ان کے لائنز کو انڈر لائن کیا، کیونکہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور اپشن نہیں تھی۔
کئی مضامین تو بیگم کو پڑھنے دیئے اور خاندان کی کئی بچیوں کو پڑھنے دیا۔
یہ کتاب زندگی گزارنے کا مینول ہے اور یہ مینول کسی نصیحت کی صورت میں نہیں ایک نارمل گفتگو کے انداز میں سمجھائے یا بتائے گئے ہیں۔
میں نے اس کتاب کو ایک ہی فرصت یا ایک ہی دن میں نہیں پڑھا ، بلکہ روزانہ 8-10 مضامین پڑھ کر ان پر غور کیا۔کیونکہ ایسی کتاب کو جھٹ پٹ میں ختم کرنا نا انصافی ہو گی۔یہ اس بریانی کی طرح آپ نے کھانی ہے، کہ مزہ ختم نہ ہو ، آہستہ آہستہ پڑھتے ہوئے، مزے لے کر سوچ سمجھ کر۔ کہ اگلے دن اپ بریانی دوبارہ کھائیں تو بے دلی سے نہیں کہ بس ختم کرنی ہے بلکہ اسی طرح جس طرح پچھلے دن ذائقہ تھا۔
حسنین کے بلاگز کو پڑھنا ہوگا، کیونکہ ابھی کل کتاب ختم کی ہے اور اس مینول آف لائف کو اپنی کتابوں کی الماری کے سب سے اوپر رکھی ہے کہ اسے دوبارہ پڑھ سکوں یا اس مینول سے کسی مسئلے کا حل نکال پاؤں۔
حسنین سے وعدہ ہے کہ اسی کے انداز میں ویڈیو ریوو بھی کتاب کا دوں گا۔ وہ بھی بہت جلد۔ حسنین ،یہ وعدہ رہا آپ سے۔


B

Bint e Haleema

اچھا قاری ہمیشہ اچھی کتابوں کا متلاشی رہتا ہے۔بک کارنر والوں کا ایک قابل تحسین قدم فیس بک پہ بک کارنر فین گروپ بنا دینا ہے۔کہ جس سے اچھی اچھی کتابوں کے بارے میں نہ صرف پتا چلتا رہتا ہے بلکہ کتابوں کے موضوع کے بارے میں بھی کچھ آگاہی ہوتی رہتی ہے۔۔
عام سا فہم رکھنے والی عام سی گھریلو خاتون ہونے کے باوجود ،میں کچھ اچھا پڑھنے کی خواہشمند ضرور رہتی ہوں۔
داڑھی والا کے بارے میں گروپ میں پڑھا تو منگوا لی۔جب پڑھنا شروع کیا تو پڑھتی ہی گئی۔عام فہم سی سیدھی سادی گفت و شنید،نہ الفاظ کا گھماو نہ مطالب کا الجھاو،۔۔بارہا جگہوں پہ بے اختیار واہ نکلی کہ ارے ایسا تو میں بھی سوچ رہی ہوتی ہوں۔عام سی سوچوں کو مناسب الفاظ کا جامہ پہنانے کا ہنر جمال حسنین کو خوب آتا ہے۔
عام سی باتوں کو جنہیں ہم عام سا سمجھتے ہوے کبھی درخوداعتناء ہی نہیں سمجھتے ،انہوں نے اس پہ بھی دلچسب انداز میں نہ صرف بات کی ہے بلکہ ہمیں بھی اس بارے میں سوچنے پہ لگا دیا ہے۔
جمال حسنین کو پڑھتے ہوئے مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میں اشفاق صاحب کی زاویہ کا کوئی نیا ایڈیشن پڑھ رہی ہوں۔زاویہ میری پسندیدہ ترین کتابوں میں سرفہرست ہے۔کہ جب جب زاویہ پڑھتی ہوں ہر بار لطف آتا ہے،کبھی بوریت یا اکتاہٹ نہیں ہوتی۔اور اب مجھے ایسے لگ رہا ہےداڑھی والا بھی زاویہ کے ساتھ لگ کر بار بار پڑھی جانے والی کتابوں میں کھڑی ہو گئی ہے۔۔
اللہ پاک حسنین جمال کو دو جہان میں کامیابیاں عطا کرے۔۔آمین۔۔۔
گگن اور امر کو اللہ پاک بہت عروج عطا کرے کہ وہ بہت سے گوہر نایاب ڈھونڈ کر انکی تحریریں چھاپتے اور ہم تک پہچاتے ہیں۔۔۔
"""بنت حلیمہ""""


I

Isha Rah (Karachi)

بہت دنوں بعد ایک خواہش پوری کی ہے اپنی.. جب سے داڑھی والا پبلش ہوئی سوچ رہی ہوں منگواؤں مگر اتفاقا” delay ہوتا جا رہا تھا اور منگوانے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا بلآخر جمعہ کو میں نے یہ آڈر کی اور آج مجھے مل گئی ہے بک ملنے کے بعد وہ خوشی محسوس ہو رہی ہے جو اپنے بچپن میں سٹوری بک خرید کہ ہوا کرتی تھی 😊 جس کتاب کے اقتباسات پڑھ کر بندہ بچپن میں پہنچ جائے پوری کتاب کیسی ہوگی 🙂


Z

Zarqa Naqvi (Lahore)

Your book knocked on my door this morning, and while sitting and opening it, I have read more than half of it. As soon as this book touched my fingers, your stories enchanted me so much that there was no feeling of heat and fatigue and no feeling of boredom. It's a lot of fun to read, and you deserve a lot of praise for your unique prose style and beautiful observations.


M

Muhammad Amin Mashal (Peshawar)

‏محترم حسنین جمال کی عمدہ تصنیف "داڑھی والا" جہلم سے موصول۔ بہترین اسلوب کیساتھ زندگی میں پیش آنے والے واقعات و مشکلات بیان کئے گئے ہیں۔


R

Rizwan Ul Haq

بھائی کی کتاب داڑھی والا کے پہلے ایڈیشن کی کھڑکی توڑ کامیابی کے بعد دوسرا ایڈیشن کامیابی کے نزدیکی سیارے پہ پہنچ چکا ہے، پہلے تو بھائی نے پلاسٹک کی ساری بوتلیں لوگوں کے گھروں سے نکلوائیں،سائیکلوں سے گتے اتروا کر جی نہ بھرا تو برانڈ نیو بائیک کی سیٹ کے پلاسٹک کور اتروائے اور احباب کی تشریف کو اس گرم موسم میں آگے پیچھے سلپ ہونے اور سوختہ ہونے سے بچایا ، نئی نویلی گاڑیوں کی سیٹوں کے نئے نکور پلاسٹک کور اتروائے اور جینوئن ٹینکی ٹاپے واپس لگوائے، پٹھان سے مبلغ دو سو روپے والی رے بین عینک کے اسٹکر اتروانے بعد اب معلوم نہیں کہ بھائی نے کیا کرنا ہے،کہ جتنا بک کارنر جہلم حاضری دے رہے اور گگن اور امر بھائی بھی ان کو سرخ پوش پہ مسند نشین کرتے ہیں،
اب لگ یوں ہی رہا ہے کہ داڑھی والا کی جتنی پروموشن اور ہر دلعزیزی پائی جا رہی ہے اس کے بعد عنقریب داڑھی والا پاپڑ ، داڑھی والا املی آلو بخارے کا شربت اور داڑھی والا املی چورن بھی بازار میں پایا جائے گا، سڑک کنارے سردائی گھوٹے والے نے اگر ٹائیٹل دیکھ لیا تو داڑھی والا سردائی کے نیلے پیلے جھنڈے کے قلب میں داڑھی والا سردائی گھوٹا کا بینر آب و تاب سے چمک دکھا رہا ہو گا،اور اصل داڑھی والا گھوٹا سردائی ثابت نہ ہونے پہ ایک ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا بیانیہ بھی تحریر ہوگا۔
راہوالی کینٹ گوجرانولہ میں اصلی سلیمان کی قلفی والوں کو تو ویسے ہی اب ایک نیا داڑھی والا چاہیے کہ پہلے جس باریش بزرگ کی تصویر ہر قلفی سٹال پہ لگی ہے، اس سے روز بروز عوام الناس شکوک میں مبتلا ہو رہی ہے کہ بھلا ایک آدمی بھی اتنی تصویریں بنوا سکتا ہے، جتنی ہر قلفی سٹال پہ لگی ہوئی ہیں، یقین واثق ہے کہ وہ بے خبر بھی ٹائیٹل کو دیکھ کر فیصلہ کر لیں گے کہ اب داڑھی والا نیا رکھنا ہے اور یہی ہے وہ امام داڑھی!
بھیا ابھی تو راکٹ بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر نے کتاب کے ٹائیٹل کا جلوہ نہیں دیکھا ورنہ بس میں ڈرائیور عقبی آئینے (یاد رہے کہ عقبی آئینہ ڈرائیور کا مزاج آشنا ہوتا ہے)کو داڑھی والے کے نام سے منسوب کر دیتا اور کنڈکٹر صرف اسی کو بس میں سوار کرتا جس کے تھیلے میں داڑھی والا بمعہ اضافہ شدہ ایڈیشن ہوتا، بس کے سالانہ رنگ و روغن کے وقت رفتار پینسٹھ کلومیٹر اور روٹ ہمراہ ہے کے درمیان جہاں وقت نے ایک بار پھر دلہن بنا دیا لکھا جاتا ہے، وہاں وقت نے ایک بار پھر داڑھی والے کی بنا دیا، لکھا جاتا۔
بک کارنر والوں کو خبر ہو کہ آپ کے شہر جہلم سے روات تک چلنے والی سوزوکی وین جو بابا فضل شاہ کلیامی کی مریدنی اور اس کے ترپال کے دونوں سائیڈ پہ بابا جی کا نام لکھا ہوتا ہے، کیا معلوم کہ نئے آنے والی سوزوکیاں اب داڑھی والے کا نام با تصویر ترپال کی دونوں طرف لکھوائیں اور مریدنی باصفا کی صف داڑھی والا میں شامل ہو جائیں۔
حسنین بھائی، ابھی تو میرا جی کو خبر نہیں، ہے کوئی ہرکارہ کہ جو خبر کرے اور میرا جی اس کا انگریزی ترجمہ کرکے ملکوں ملکوں، داڑھی والا منظوم انگریزی ترجمہ بمعہ تصاویر کی برانڈ ایمبیسیڈر بن جائیں۔


N

Naila Rathore (Lahore)

خوبصورت کتاب دلکش پیکنگ
بہت شکریہ


Z

Zeenia Ali

حسنین جمال محبت ہیں ۔
وہ ہوتا ہے فیملی میں کوئی ایک كزن جو عمر میں بڑا ہوتا ہے۔ بڑوں جیسی موٹی بھاری نصیحتیں نہیں کرتا مگر ذندگی کی بہت سی باتیں ہنسی مذاق میں چائے کی چسکیاں لیتے ہوۓ یا لڈو کھیلتے ہوئے غیر محسوس انداز میں سمجھا دیتا ہے ۔حسنین جمال کا مجھ پے فرسٹ امپریشن بلکل ایسا ہی تھا جو کہ کتاب پڑھنے والے کو بھی محسوس ہوگا۔
میں ادب اور خاص طور پر تنقیدی ادب سے تقریبآ نا بلد ہوں ۔مگر اردو کمزور ہونے کی وجہ سے کچھ بھی پڑھتے وقت تین چیزیں اہم ہوتی ہیں میرے لیے ۔
1۔کیا یہ عام انسان کے متعلق ہے ؟
2۔کیا یہ روایتی بیانیے پے مبنی ہے یا حقیقت پے ؟
3۔کیا یہ سادہ فہم ہے یا محض ضحیم الفاظ کا مجموعہ ؟
اب حسنین جمال کے بلاگز پڑھتے ہوئے کافی سال ہوگئے تو ان سوالوں کے جواب تو کتاب ہاتھ میں اٹھانے سے پہلے ہی معلوم تھے ۔ مگر پڑھ کر جو لطف آیا وہ آپکو پڑھ کر ہی سمجھ آئے گا ۔
اس کتاب کے موضوع اِتنے ڈائیورس مگر باریکی سے بنے ہوئے ہیں کہ آپ چاہے 60 سال کے ہیں یا 16 کے خود کو اس میں دیکھ سکتے ہیں ۔
اگر آپ محض فیشن کے لیے بھی کتاب بینی کرتے ہیں تب بھی یہ کتاب آپکو بہت کچھ بتا اور سمجھا ہی دے گی۔


A

Alia Mehar

داڑھی والا
کچھ دن پہلے بک کارنر جہلم کے واٹس ایپ گروپ میں " داڑھی والا " کا تعارف پیش کیا گیا تھا ۔ مصروفیت کی وجہ سے لمبا چوڑا تعارف تو نہ پڑھ سکی لیکن کتاب کے ٹائٹل اور سرِ ورق نے توجہ اس قدر مبذول کی کہ ٹائٹل " داڑھی والا " ذہن میں گردش کرتا رہا ۔۔۔بس پھر کیا تھا چپکے چپکے پیچھا کرنا شروع کیا اور بلآخر داڑھی والے تک پہنچ گئے ۔
کتاب تصنع ، فلسفے ، الفاظ کے گورکھ دھندے سے بے نیاز ایک منفرد اسلوب کی حامل تجربات اور مشاہدات پہ مبنی کتاب ہے جو ہر بک شیلف کی زینت ہونی چاہیے ۔ طرزِ اسلوب بے تکلف اور عام بول چال کا ہے جو خواص کے لیے ہی نہیں عوام کے لیے بھی ہے ۔ اور یوں لگتا ہے جیسے منصف اپنے منفرد لب و لہجے کے ساتھ سامنے بیٹھا ہم سے باتیں کر رہا ہے یا دو دوست باتیں کر رہے ہوں۔ باتوں باتوں میں ہی زندگی کے ان اہم واقعات سے پردہ اٹھتا ہے جن پر کبھی نظر نہیں جاتی یا بظاہر جو غور وفکر کے قابل نہیں لگتے ۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ کتاب ماورائی دنیا کے قصے ، کہانیوں یا گہرے فلسفیانہ افکار پر نہیں بلکہ عملی زندگی کے گہرے مشاہدات اور تجربات پر مبنی بہترین کتاب ہے ۔ اور مصنف کی اسلوب کے متعلق راۓ اس بات کی عکاسی کرتی ہے :
"جو بات پڑھنے کے لیے کسی شریف آدمی کو ڈکشنری کا سہارا لینا پڑے یا اسے مصنوعی پن محسوس ہو ایسی تحریر کا مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔"
کتاب ایک نشست میں پڑھے جانے والے مختصر مگر جامع مضامین پر مشتمل ہے جو کسی طور بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔منفرد عنوان نے تو پہلے ہی ذہن میں چہل قدمی شروع کر رکھی تھی بعدازاں سوشل میڈیا پر کتاب کی شہرت دیکھی ، قارئین کے تبصرے اور کتاب سے اقتباسات پڑھے تو کتاب کے لیے رال ٹپکنے لگی اور رات کے تین بجے بک کارنر سے آڈر کردی ۔ مصنف کے تعارف میں ایک جملہ دل و دماغ پہ نقش ہو گیا ۔ لکھتے ہیں :
"کتابیں گھر میں ہوں تو برکت بس یہی ہوتی ہے۔"
ایک جگہ رات کے متعلق لکھتے ہیں :
جاگنا تو یہ ہے کہ رات کے راز جانو ، نکلو دو بجے رات کو سڑکوں پر اور دیکھو رات کی زندگی کیسی ہوتی ہے ، رات کی مخلوق کے ڈھنگ کیا ہیں۔جان آنی جانی چیز ہے اسے تو دن دہاڑے بھی زنگ کھا جاۓ گا ۔رات جیو اگر رت جگا کرنا ہے ، رات محسوس کرو اگر لمبی رات دیکھنی ہے ۔ سنسان سڑکوں پر نکلو اگر ہمت ہے ، وہاں رات ملے گی اپنے پورے جوبن پہ، اسے گلے لگاؤ،پھر جو سرخ آنکھیں لیے آؤ گے تو دعویٰ کرنے کا حق رکھو گے کہ ہاں ، ہم نے رات جاگی ہے ۔"
" تم رات کو اپنی کمائی سے نہیں خرید سکتے ۔ رات تو خود کمائی جاتی ہے ۔ تم راتیں گنوانے والے ہو، رات تو گزاری جاتی ہے ، رات تو محسوس کی جاتی ہے ۔ ورنہ رات بجھ جاتی ہے ۔"
ایک ایک سطر پڑھتے ہوۓ یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر ہم ذندہ ہیں تو ایسے گہرے مشاہدات اور تجربات سے کیوں انجان ہیں؟؟؟
خصوصی شکریہ Book Corner Showroom کا جنہوں نے زیادہ انتظار نہیں کرایا


M

Muhammad Waqas Mehmood (Quetta)

داڑھی والا کی خوشبو
اچھا لگنا بھی ایک الگ قسم کی لت ہے، کچھ لوگوں کو مٹی کی خوشبو اچھی لگی ہے، کچھ کو سیاہی کی، کچھ پیٹرول کی خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں، کچھ نیل پالش رموور سے اور کبھی کبھی پرانے عطر کی مہک رات بھر نہ صرف کمرے بلکہ روح کو بھی مہکائے رکھتی ہے.
برقی اور بصری آلات کے اس دور میں بھی جبکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ترقی کر گئے ہیں انہی میں ایک ایک الگ مہک، ایک اروما، ایک خوشبو "کتاب" کی خوشبو ہے.
اس کا ایک جلد میں مجسم ہونا، اس کے اوراق میں سے آتی ایک دلکش مساند، کتابوں کے رسیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر جناب بات آتی ہے "داڑھی والا" کی تو "سرکار حسنیں جمال" نے پڑھنے والوں کو ایک جاودانی بخشی ہے،جہاں کتاب کی جلد، اوراق میں سے آتی خوشبو نہ صرف قاری کو بلکہ اس کے دل کو بھی ساتھ ساتھ لیکر چلتی ہے.
سنا تھا کہ کتابوں سے ان کی اس حالت میں دوستی کا کچھ ہی عرصہ باقی ہے لیکن اگر ایسے لکھاری مزید لکھتے رہے تو یہ تو کتابوں سے محبت اور انس کے تجدیدی عہد کا آغاز ہوگا.
یہ داڑھی والا کا خاصہ ہے کہ بات کو روزمرہ کی گفتگو کے انداز میں ڈھال دیا ہے اور پھر بیچ بیچ میں اپنی روایتی بولی کے الفاظ بھی اس طرح شامل کیے ہیں کہ لگتا ہے قاری خود سے ہم کلام ہے.
باقی خود بھی ایک داڑھی والا ہونے کی حیثیت سے ہم بذاتِ خود ان کی بہت سی باتوں سےریلیٹ کرتے ہیں. یہ اپنی تحاریر میں زندگی بولتے ہیں جس میں بہت سے "دیجا وو" اور "نوسٹیلجیا" ایک ہی وقت میں بدن میں اور دل میں جُھرجُھری پیدا کرتے ہیں.
اللہ سبحانہ وتعالٰی ان کی زندگی، صحت، کام، فیملی اور محبتوں میں برکت رکھیں اور ہم اسی طرح ان کے ایک کے بعد ایک شاہکارسے محظوظ ہوتے رہیں.
بہت شکریہ کے ساتھ ڈھیروں دعائیں اور پھول آپکے لیے.
( بک کارنر جہلم کی تمام انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ، دعائیں اور پھول )


B

Basit Khattak (Karak)

مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں کسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن آنا اگر اس کی معیاریت کی دلیل نہیں تو پذیرائی اور پسندیدگی کی سند ضرور ہے۔ تاہم وقت کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کتاب میں ایسا کیا ہے جو لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے؟
دراصل حسنین جمال نے جو کچھ اپنی زندگی سے براہ راست کشید کیا وہی بلا تکلف اور بے ساختہ قلم بند کیا تاہم یہ محض مشاہدات و تاثرات نہیں ہیں بلکہ ہمارے سامنے کی چیزیں ہیں جسے یا تو ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور یا جن تک ہماری نگاہ کی رسائی نہیں ہو پاتی۔
جمال گفت کے نام سے روزنامہ دنیا، انڈیپنڈنٹ اردو اور ہم سب میں چھپنے والے یہ مضامین، کالمز اور بلاگز ہیں جنہیں داڑھی والا کا عنوان دے کر کتابی صورت دے دی گئی ہے۔
یہ داڑھی والا ہیں کون؟ خود لکھتے ہیں:
"گلی محلوں میں پلنے والا ایک عام لڑکا، جس نے ساری زندگی اردو میڈیم تعلیم حاصل کی۔ جسے پڑھائی کا شوق بالکل نہیں تھا لیکن کتابوں کا شوق تھا۔ کورس کے علاؤہ سب کچھ پڑھا اور ساری عمر پڑھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شوقین آدمی ہوں۔ کبوتر بازی، کیکٹس، بونسائی، ڈاک ٹکٹ، سکے، کچھوے بلیاں، انٹیکس، پرانا ترین فرنیچر، کتابیں، سبھی کچھ زندگی کے مختلف حصوں میں جمع کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے مجھے ماڈرن ملنگ کہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ غصہ سرائیکی کا، جگت پنجابی کی، ڈپلومیسی اردو کی اور پیار محبت و دیگر دفتری امور کے لیے مجھے انگریزی زبان پسند ہے"
پشاور میں پیدا ہوئے لیکن پلے بڑھے کہیں اور ۔۔ پشتو کی سمجھ نہ ہونے کا افسوس انہیں بھی ہے اور ہمیں بھی۔
'داڑھی والا' پڑھتے ہوئے ایسے مثبت پیغامات سے واسطہ پڑے گا جو کسی نہ کسی موڑ پر کہیں نہ کہیں آپ کے کام آ سکتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہو کر آپ کی زندگی بدل سکتی ہے، معیار بدل سکتا ہے۔ مثلاً یہ اقتباس پڑھ لیجیے:
"پیسے کو برا کہنے سے پیسا برا تو نہیں ہوتا بس آپ کی نسلوں سے ناراض ہو جاتا ہے۔ اپنا نقصان کر لیا، ان کا مت کریں۔ انہیں آن لائن کوئی چیز بیچنے کی ترغیب دیں، کوئی ہنر پڑھائی کے ساتھ سکھائیں، ان کے ذہن میں ڈالیں کہ میاں پندرہ سولہ سال کے ہو جاؤ تو اللہ کا نام لو اور شروع کرو کوئی کمائی کا دھندہ، پڑھائی وڑھائی ساتھ ساتھ چلتی رہے گی۔ شاید اس طرح بائیس تئیس سال کا ایک ڈگری یافتہ نوجوان خالی جیب کا بھار لیے زندگی کے لمبے سفر کی شروعات نہ کرے"
کتاب کو جس طرح سے بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے اور اس کو قاری تک پہنچایا ہے واقعی قابل داد ہے۔
'داڑھی والا' کے لیے ہم حسنین جمال کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔


R

Rana Umar (Multan)

کبھی قاری کو سامع بنتے دیکھا ہے؟ نہی دیکھا نا ؟ تو ہمیں دیکھ لو۔ کیا ہے کہ ہم نے بک کارنر والوں سے کتاب منگوائی اور انہوں نے مبلغ سات سو روپوں میں ایک عدد گرامو فون بھیج دیا ہے۔ جونہی اسے کھولتے ہیں داڑھی والا بولنا شروع ہوجاتا ہے۔ ارے بھائی حسنین جمال ، کیا کرنے چلے ہو؟ پہلے کم لسانی لفڑے ہیں اپنے ہاں جو یہ نیا دھڑا گھڑنے چلے ہو۔ چلو خیر ، اب شمس نگر ملتان کے ہو تو جو جی میں آئے کرو۔ بھائی لوگو بتائے دیتا ہوں کہ "داڑھی والا" کوئی کتاب وتاب نہی ہے ، نرا گرامو فون ہے ۔ کیونکہ حسنین جمال لکھتا نہی بولتا ہے۔ اور بولتا بھی بقول شمشیر حیدر
" اپنی موج میں ، اپنی دھن میں بولتا بہتا رہتا ہے"
کے مصداق ہے۔ جب حسنین جمال بولتا ہے تو اس کے لکھے کو بھی بس سنا ہی جاسکتا ہے ، سو ہم بھی سن رہے ہیں اور آپ بھی بک کارنر والوں سے یہ بولتا ہوا داڑھی والا منگواسکتے ہیں۔
ہم بس اب فریکیونسی ٹیون کرنے لگے ہیں تو بھائی اجازت دو، اور بک کارنر والوں کو آرڈر بھی۔
تبرک کے طور پر ایک عدید تصویر نتھی کیے دیتے ہیں کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔


S

Shokat Ali (Lahore)

روز روز سیاست پڑھنا، سیاست لکھنا، سیاست سمجھنا اک دن آپ کو بور کر دیتا ہے کہ کیا آئے روز وہی بحث ومباحثہ، وہی کردار اور وہی ان کے کارنامے۔ اب تو ان کارناموں سے بھی دل اکتا گیا ہے اور ان کرپشن کہانیوں میں بھی وہ دلچسپی نہیں رہی۔ اس لیے آج کچھ ادب کے بارے میں بات کی جائے۔ کچھ کتابوں کے بارے میں سوچا جائے اور کچھ نیا لکھا جائے۔ اب تو جہلم بک کارنر سے اک ان ڈائریکٹ سا رابطہ قائم ہو چکا ہے جو کہ اتنا پرانا تو نہیں لیکن اس مختصر سے دورانیہ میں بندہ ناچیز اس بک کارنر کے بارے کافی پڑھ چکا اور کافی جان گیا ہے۔ اخبار کی مین پیجز پڑھنے کی طرف دل نہیں جاتا کیونکہ وہاں وہی خبریں لگی ہوتی ہیں جو آپ ٹی وی پر بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس لیے اخبار میں بس اک ہی شوق ہے کالم پڑھنا۔ چند سال پہلے ایکسپریس کے کالمز پڑھتا تھا جس میں عبد القادر حسن مرحوم، جاوید چوہدری، راؤ منظر حیات، اور وسعت اللہ خان وغیرہ کے کالمز شوق سے پڑھتا تھا۔ پھر کچھ دیر بعد ہمارے علاقے میں ایکسپریس اخبار کی شاید ڈسٹری بیوشن کا مسئلہ بنا تو یہ اخبار بند ہوگیا جس کے بعد دنیا اخبار پڑھنے کا معمول بنا جو کہ ہنوز جاری ہے۔ پہلے پہل تو اس اخبار میں من نہ لگا کیونکہ جن لوگوں کو آپ روزانہ پڑھتے تھے ان کی جگہ اب نئے چہرے آگئے تھے۔ تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد آہستہ آہستہ اس اخبار میں دلچسپی بڑھنے لگی۔ دنیا اخبار کے کالمز زیادہ پسند آنے لگے۔ اس اخبار کی بدولت جن کالم نگاروں سے تعارف ہوا ان میں نمایاں نام رؤف کلاسرا، ایاز امیر، شاہد صدیقی، اظہار الحق، خورشید ندیم اور منیر بلوچ وغیرہ ہیں۔ یہاں رؤف کلاسرا کے ذریعے سے جہلم بک کارنر کے ساتھ ان ڈائریکٹ تعلق بنا۔ اسی کے ذریعے شاہد حمید (مرحوم)، گگن شاہد اور امر شاہد کے بارے سنا اور شاہد صدیقی کے جہلم بک کارنر کے متعلق کالمز نے اس بارے اور اشتیاق پیدا کیا۔ کبھی کبھار محسوس ہوتا ہے کہ جس بندے کی سادگی اور ہمت و عزم کی داستانیں یہ لوگ بیان کرتے ہیں کاش کہ اک بار ان سے ملاقات ہو جاتی۔ وہ جس نے اک آنہ لائبریری قائم کی اور پھر جب سب کچھ تباہ ہوا تو پھر بھی ہمت نہ چھوڑی اور آج ان کے جلائے ہوئے چراغ سے پاکستانی کیا باہر کے لوگ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ اب وہی لائبریری جو کبھی اک آنہ سے شروع تھی آج اک وسیع و عریض بک کارنر کا روپ دھار چکی ہے اور گگن شاہد اور امر شاہد ان کی منتظمین ہیں۔ آج تک ان دونوں سے فیس ٹو فیس کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن جب کبھی منظور ہو تو ضرور ہو گی انشاء اللہ۔ جب بھی کسی کتاب کو پڑھنے کا من کرتا آن لائن آرڈر کیا جاتا اور دو،تین دن تک وہ کتاب آپ کے گھر پہنچ جاتی۔ پچھلے دنوں بورس پاسترناک کی شہرہ آفاق تصنیف ڈاکٹر زواگو مکمل کی تو سوچا اب کونسی کتاب شروع کی جائے۔ من میں دو تین کتابیں آئیں لیکن حسنین جمال کی "داڑھی والا" کی دھوم نے کسی اور جانب متوجہ ہی نہ ہونے دیا۔ چنانچہ جہلم بک کارنر سے آن لائن آرڈر کیا اور تین دن بعد بک میرے سرہانے تھی۔ اسکو پڑھنا شروع کیا تو اسکے انداز بیاں نے مسحور کر دیا۔ ایسا معلوم ہوا کہ آپ کوئی کتاب نہیں پڑھ رہے بلکہ اپنے یاروں دوستوں کے ساتھ بیٹھے گپ شپ لگا رہے ہوں۔


M

Muztar Hashmi (Lahore)

میں حسنین جمال کا خاموش قاری ہوں ،حسنین جمال آپ کو اپنی ہر نئی تحریر سے چونکا دیتا ہے ، حسنین جمال ایک باکمال قصہ گو ، ایک من موجی انسان اور چالاک درویش ہے۔ جو اچھے برے کو سمجھتا ہے اور ان پر کھل کر بات کرتا ہے ۔
حسنین جمال ادبی دنیا کا عمرو عیار ہے . عمرو عیار کی طرح حسنین جمال کے پاس بھی ایک زنبیل ہے، جس میں الفاظ کا خزانہ ہمیشہ موجود رہتا ہے جن کو حسنین اپنی مرضی سے استمعال کرتا ہے ۔ الفاظ ہاتھ باندھے بس جی حضور جی حضور کرتے رہتے ہیں
"داڑھی والا " کتاب میں ہر صفحے پر آپ کی داڑھی والے سے ملاقات ہوگی ، وہ آپ بتائے گا کہ زندگی کو کیسے جینا چاہیے اور کیسے خراب کرنا چاہیے ۔ کتاب کا نام اگر "داڑھی والا" نہ رکھا جاتا تو "داستان جمال" بہتر تھا ۔ کتاب کا سرورق خود میں ایک شہکار ہے
حسنین بھائی کو مبارک ہو ، ایک خوبصورت کتاب لکھنے کے لیے ۔ خدا مطلق حسنین بھائی کو سلامت رکھے اور ہمیں بیسیوں ایسی کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔
کتاب کو شائع کرنا اور قاری کو پیش کرنا بک کارنر والوں پر ختم ہے ۔


A

Asif Vaid (Karachi)

پڑھانے والا کے پاس داڑھی والا پہنچ گئی۔۔۔
بک کارنر جہلم والوں کونسی چٹکی ڈالتے ہو کتابوں میں کہ بندہ ٹن ہو جاتا ہے دیکھ کر ہی۔۔۔
خوبصورت طباعت۔۔۔


A

A U Mustafa (Gujranwala)

محترم حسنین جمال کی نئی کتاب داڑھی والا موصول ہوئی بہترین کتاب ہے کتاب اپنے مزاج میں مصنف کی طرح بہت سادگی رکھتی ہے اسلوب بیان نہایت سادہ اور معتدل ہے جس کو ہر عام بندہ سمجھ سکتا ہے
معاشرتی حقائق کو بڑی سادگی سے قلمبند کیا ہے جو کہ اپنے قاری کو ایک حقیقت کے سحر میں جکڑ لیتا ہے
مضامین کی لینتھ بھی قابل تحسین ہے پوری کتاب پڑھتے ہوئے بندہ کسی جگہ پر بھی بور نہیں ہوتا
سب سے بڑی اور اہم بات یہ کہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے زاتی طور پر ایسا لگا کہ جیسے کوئی بڑا بھائی اپنی عمر کے سارے تجربات کا خلاصہ اپنے چھوٹے بھائی کو بتا رہا ہے اور اپنے تجربات کو اس کے حوالے کر رہا ہے
داڑھی والا بولتی کتاب ہے جیسے حسنین جمال اپنے دھیمے لہجے میں اپکے سامنے بیٹھ کر یہ باتیں کر رہے ہوں
مصنف کیلئے ریا سے پاک دعائیں
ہمیشہ اپنے پڑھنے والوں کیلئے اچھا لکھتے رہیں


S

Samina Zulfiqar (Dubai)

بلا شبہ خوشی اور سکون کی مجسم شکل یہی ہے ! شکریہ بک کارنر یہ خوشی فراہم کرنے کے لئے اور شکریہ حسنین جمال ، آپکے دستخط نے اس کتاب کو انمول کر دیا۔ جیتے رہیے


S

Sultan Ahmed

کتاب کی پیکنگ ایسی تھی کہ احتیاط سے کھولی کہ خراب نہ ہو جائے پیش کس ایسی کہ کتاب سازی کو فن کے درجے پر فائیض کر دیا ہے انداز تحریر ایسا ہے کہ طوالت کے باوجود وقت گذرنے گا معلوم ہی نہیں چلتا مجھے یقین ہے کہ ہر پڑھنے والا ڈارھی والے کا اسیر ہو جائے گا چاہے تو زلفوں کا بھی ہو سکتا ہے


S

Syed Misaq Ali (Islamabad)

رد کی گئی بد دعا
میری تو دلی خواہش تھی یہ" داڑھی والا " ایک گھٹیا اور انتہائی فضول قسم کی کتاب ہو....کیونکہ میری فرینڈ لسٹ میں ہر دوسرا شخص ڈراھی والا ڈراھی والا کا پہاڑا پڑھ رہا تھا ایک تو داڑھی والے مجھے ویسے بھی مجھے "گولی" لگتے ہیں... دوسری سب سے اہم اور اصل عداوت کی وجہ ہر لڑکی اس بے تکے عنوان کے نام کی کتاب کی تعریفیں ای تعریفیں.... جب شاید گگن جیسے سنجیدہ بندے نے کتاب کی اچھائی میں بیان دے دیا تو میرے غصہ پر اس رائے نے جلتی پر تیل کا کام کیا... بھئی یہ کوئی شرافت ہے ہر کوئی اس کتاب کے ہی گُن گا رہا ہے... ایک موڑ تو پر مجھے احساس ہوا یہ سب کچھ مجھے کتاب خرید کر پڑھنے کی مارکیٹنگ ہے ... پھر سمجھ آئی شاید گگن چاہے جتنا بھی سنجیدہ بندہ پیا ہووئے..... ہے تو پبلشر.... بھئی اپنی دھی کو کون کھٹا کہے گا؟
میرا اور شاید گگن کا احترام کا رشتہ ہے مجھے نہیں یاد میں نے کسی کتاب کی فرمائش کی ہو اور وہ کتاب دوسرے روز ڈاکیا لے کر میرے پاس نہ پہنچا ہو؟ لیکن اس دفعہ میرا من تھا کہ میں جہلم بک کارنر کو کال کروں اور وہ جواب دیں........ کوئی نئیں کتاب شتاب چھٹی کرو.....
میں نے پوسٹ آفس سے ہمیشہ بنا کر رکھی ہے... کبھی خطوط کے لیے حالانکہ اس طرح کے خطوط تو ہم محلے کے کسی بچے سے ادھر سے اُدھر کر لیا کرتے تھے لیکن پھر بھی.... میں نے جہلم بک کارنر پر آرڈر بُک کراتے ہی ڈاکخانے میں تھر تھلی مچا دی کہ کل میری کتاب آنی ہے.... ڈاکیے نے کہا شاہ جی یہ اطلاع ہے؟
وہ کون سا دن جس دن کتاب نہیں آتی؟
خیر پارسل موصول ہوا میں نے فٹ سے کھولا تو سارا بغض اور عداوت ہرن ہو گئے اتنا شاندار سرورق خوبصورت چھپائی وزن میں ہلکا کاغذ (مجھے بھاری بھر کم کتب زہر لگتیں ہیں)
وہ کتاب پڑھنے کے دوران کوئی کام یاد آجائے یا کسی سے بات کرنا مقصود ہو تو وہ جو کتاب میں "نشان" رکھتے ہیں؟ کیا کہتے ہیں اسے؟ وہ تین.... چار ایک کارڈ جس پر تصاویر ہیں بھئی لاجواب...... میں نے فوراً کھسیانی بلی کی طرح گگن بھائی کو میسج کیا کہ مجھے حسنین جمال کا فون نمبر ارسال کیجئے... پھر اس کھسیانی بلی نے حسنین جمال سے بات کی....
اور پھر میں نے 368÷50 روزانہ کی بنیاد پر کتاب پڑھنا شروع کی.... میرے پاس وقت نہیں ہوتا... آپ نے کبھی شوگر کے مریض کی عادات نوٹ کی ہیں؟ کہ مٹھائی کھاتے ڈنڈی مارتا ہے.... بالکل اسی طرح میں نے بھی خود اپنے اوپر لگائی ہوئی 50 صفحے روزانہ کی پابندی میں دس بارہ صفحات کی ڈنڈی مارلیتا ہوں ... اسی دوران ایک دور دراز علاقوں کا سفر پیش پڑ گیا گاڑی میں میں نے بھی حرام ہے کسی ضروری بات کا بھی جواب دینا کسی کو مناسب سمجھا ہو....
خود ہی ایک در پہ میں نے دستک دی
خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا
جون ایلیا
مجھے اوروں کا تو پتا نہیں مجھے یوں لگا جیسے میں نے داڑھی والا پڑھتے ہوئے اپنے ہی دل پر دستک دی ہے ..... حسنین نے کہیں بھی شکر ہے خود کو قلم کار ثابت نہیں کیا...... کسی نے استوار سے گلتری شکما تک سفر کیا ہے؟
اس سفر میں ہوا کی خنکی میں آپ جو سوچیں گے اگلا منظر ویسا آئے گا ........ ایک باب پڑھنے کے دوران قاری کو احساس ہوا کہ یہ موضوع رہ گیا ہے لیں جناب اگلا موضوع وہی ہو گا...... داڑھی والا میری رد کی ہوئی بدعا ہے... جیسے آپ کیکر کی پھلیوں کے اچار کا سواد تحریر میں نہیں لا سکتے بالکل درست کہتا ہوں داڑھی والا کا پڑھنے کے بعد ہی سواد آتا ہے..... سواد لو سواد
جہلم بُک کارنر کے کریڈٹ میں ایک خوبصورت سنگ میل کا اضافہ
" داڑھی والا "


A

Aysha Imran

کوئی ایسی کتاب آپ کے ہاتھ لگے، جو مروجہ بھاری بھرکم الفاظ اور گہرے فلسفے سے زیادہ ٹیبل ٹاک ہو، تو مان لیں آپ کا اچھا وقت چل رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی خوش ذوق دوست سامنے بیٹھ کرگفتگو کر رہا ہے اور اتنے لائٹ سے طریقے سے وہی گہری باتیں اٹھا رہا ہے۔
کئی جگہ میرا دل چاہا کہ کاش اس صفحے کو، اس پیراگراف کو، اس سطر کو میں ان ریڈ کروں اور پھر سے پڑھوں۔ اور یہ کتاب میں نے ایک نشست میں نہیں پڑھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مسکراتے ہوئے ایک تحریر مکمل کی اور چھوڑ دی۔ دل چاہا اسی کیفیت میں رہیں کچھ دیر۔ کوئی تحریر بھاری دل کے ساتھ مکمل کی اور کتاب رکھ دی۔ جی چاہا کہ کچھ دیر یہ گوشہ نم رہنے دیا جائے۔
جب سر حسنین نے میری فرینڈ ریکوسٹ ایکسیپٹ کی مجھے واقعتاً یقین نہیں آیا۔ بالکل ویسی بے یقینی جب کل ایک کمینٹ میں انہوں نے مجھے کہا کہ موضوع کوئی بھی نیا نہیں ہوتا، آپ تبصرہ ضرور لکھیے۔ "داڑھی والا" سے پسندیدہ اقتباسات چننا مشکل ہے، یہ ساری کی ساری کتاب ہی میری محبوبہ ہے (مشرقی محبوبہ)
________________________________________
کسی گھر میں کوئی مالی بوہڑ، پیپل، دھریک، نیم، شرینہہ یا ایسا کوئی پودا نہیں لگائے گا جو تھوڑا کم دیکھ بھال مانگتا ہو اور دیسی جم پل ہو۔ وجہ یہ ںتائی جائے گی کہ جڑیں گھر کی بنیادوں تک اتر جاتی ہیں۔ ٹھیک ہے، تو یہ جو ایروکارپس ہر گھر کی باڑ بنا ہوا ہے اس کی جڑیں کیا گہری نہیں جاتیں؟ چھوڑس مڑا، کوئی ہور گل کرنے آں۔
کیا اس گھر میں کتابوں کا کمرہ ہوگا؟ نہیں، کمروں کی تعداد جتنی کتابیں بھی نہیں ہونگی۔ کیا اس گھر میں فلم دیکھنے یا موسیقی سننے کا کوئی کمرہ ہوگا؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گرمی دماغ کو لگ گئی ہے کیا؟. کیا اس گھر میں ورزش کے لیے کوئی جگہ ہوگی؟ نہیں ہم نے آلو کے چپس کھانے ہیں اور ٹی وی دیکھنا ہے۔ پھر اس گھر کی خاص بات کیا ہے؟ دیکھیں یہ جو ڈرائنگ روم ہے اس کا فرش لکڑی کا ہے، فرنیچر اٹالین، قالین اس میں ہاتھ کا بنا ہوا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ اور ہاں چونکہ اب پکی ٹینکیاں بنانے کا فائدہ نہیں رہا تو ہم چھت پہ تین تین نیلی ٹینکیاں رکھیں گے تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ ہے نا جی پھر خاص بات!
________________________________________
تصویریں کبھی کبھی ٹائم مشین والا کام بھی کرتی ہیں۔ آپ کوئی البم دیکھتے رہے ہیں، صفحے پلٹتے جا رہے ہیں اور اچانک کسی تصویر پر آ کے سارا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ باریک سے باریک تفصیل بھی ایسے یاد آتی ہے جیسے کل کا سین ہے۔ بعض تصویریں آپ کو مجبور کردیتی ہیں کہ آپ وہاں جائیں جہاں وہ بنائی گئی تھیں مگر وہاں جا کر پتا چلتا ہے کہ وہ تو وقت تھا جو تصویر میں قید تھا، وہ تو لوگ تھے جو مجسم تھے، وہ تو ایک لمحہ تھا جو پرفیکٹ تھا۔ جب تصویر میں موجود ہر انسان مسکرا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی والی لکیریں نہیں تھیں، بال کالے تھے، گال سیبوں کی طرح تھے اور آنکھیں چمکتی تھیں۔۔۔۔۔ اب ان میں سے کچھ ہیں تو وہ ویسے نہیں ہیں اور جو ہیں ہی نہیں ان کی جگہ پر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ خالی اینٹیں؟ لکڑی کا دروازہ؟ کچا صحن؟ بیری کا درخت؟ یا زرد دیواریں؟ ۔۔ گھر واپس جب آؤ گے تم؟ کون تمہیں پہچانے گا؟ کون کہے گا تم بن ساجن, یہ نگری سنسان؟ 🖤
________________________________________
بھلے دنوں کی بات ہے،بھلی سی ایک شکل تھی
نہ یہ کہ حسنِ تام ہو، نہ دیکھنے میں عام سی
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے
کوئی بھی رت ہو اس کی چھب، فضا کا رنگ روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی
سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی
میں عشق کو امر کہوں وہ میری ضد سے چڑ گئی
میں عشق کا اسیر تھا، وہ عشق کو قفس کہے
کہ عمر بھر کے ساتھ کو وہ بدتر از ہوس کہے
میں کوئی پینٹنگ نہیں، جو اک فریم میں رہوں
وہی جو من کا میت ہو اس کے پریم میں رہوں
نہ اس کو مجھ پہ مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی
جب عہد ہی کوئی نا ہو تو کیا غمِ شکستگی
سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل دیا
وہ اپنی راہ چل پڑی، میں اپنی راہ چل دیا۔۔ (احمد فراز)
اب سین یہ ہے کہ ہمارے سامنے دو رستے ہیں ۔ ایک وہ لڑکی تھی جس نے اپنےمحبوب کے مرنے پر اس کی لاش کے ساتھ اپنے بالوں کی بنی چپلیں بھی نذرانہ کردیں، ایک یہ ہیں فراز کی ہیروئین! یہ کہتی تھیں کہ میں تصویر تھوڑی ہوں جو ایک ہی فریم میں جڑ جاؤں اور ساری عمر ایک ہی دیوار پہ ٹنگے گزار دوں۔ کورین لڑکی وہ روایتی لڑکی ہے جو رامائن کی سیتا سے لے کر آج تک ویسی ہی ستی ساوتری چلی آرہی ہے۔ فراز والی لڑکی دورِ جدید کی ہے جو قسمت سے تھوڑا پڑھ لکھ گئی ہے۔ آپ یقیناً کورین لڑکی کے ساتھ ہونگے؟ میں نہیں ہوں۔
________________________________________
داڑھی والا


L

Lubna Noreen

تذکرہ ایک بولتی کتاب کا ____
میں نے حسنین جمال کی کتاب داڑھی والا سے کچھ اقتباس شئیر کئے ۔آپ لوگوں نے پڑھے آپ کو پسند آئے لیکن یقین کیجئے اس سے کہیں زیادہ خوبصورت باتیں آپ کو اس کتاب میں پڑھنے کو ملیں گی ۔ جب تک یہ کتاب میرے زیر مطالعہ رہے گی میں اپنے پسندیدہ اقتباسات آپ کیساتھ شئیر کرتی رہوں گی ۔
میں نے بہت عرصے بعد کوئی کتاب خریدی ہے ۔ جانے کیوں کوئی خاص وجہ نہ ہونے کے باوجود بھی ایک زمانے سے کتاب سے میرا تعلق ٹوٹ چکا تھا ۔ فیس بک پر بہت سی کتابیں سامنے آتی ہیں ان پہ تبصرے بھی پڑھتی ہوں لیکن سچ کہوں تو دوکتابوں کے علاوہ کوئی اور کتاب اتنا ایکسائیٹ نہیں کرسکی کہ انہیں منگوا کے پڑھوں. یقیناً کتابیں ساری ہی اچھی ہوتی ییں کسی کتاب میں کوئی کجی نہیں اورساری ہی پڑھنی بھی چاہئیں لیکن میرا دل چاہا کہ میں Marium Majeed Dar کا افسانوی مجموعہ "سوچ زار "اور حسنین جمال کی "داڑھی والا "ضرور پڑھوں ۔ مریم سے بات بھی ہوگئی لیکن ابھی تک وہ کتاب نہیں منگواسکی لیکن یہ کتاب اس لئے منگوالی آسانی سے کہ صاحب کتاب نے لنک شئیر کررکھا تھا بس اس پہ کلک کیا، اور آرڈر بھجوادیا ۔۔۔۔دو تین کے اندر کتاب موصول ہوگئی اور جمال دوستو !
اس خوشی کا حساب کیسے ہو جب دستخط شدہ کاپی وصول کی جائے. 💖
آجکل یہی کتاب میرا اوڑھنا بچھونا ہے ۔ میرے بستر پہ میرے تکیے کیساتھ پڑی رہتی ہے ۔ اور ہر کالم پڑھنے کے بعد میرا جی چاہتا ہے کہ اس پہ کمنٹ کروں. فیس بکی محبت کی طرح فیس بکی کمنٹنگ یعنی فوری تبصرہ بھی ہم سب کی عادت ، چاہت اور نشہ ہے ۔ لیکن پھر یاد آتا ہے کہ لبنیٰ میڈم آپ پوسٹ نہیں کتاب پڑھ رہی ہیں ۔ کنٹرول ۔
مجھے یہ کتاب پسند آنے کی سب سے بڑی وجہ اس کا سادہ، آسان اور بے تکلف پیرایہ ہے۔ لگتا ہی نہیں کہ آپ کچھ پڑھ رہے ہیں حقیقتاً یہ گمان ہوتا ہے کہ مصنف آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ سے بات کررہا ہے یا کوئی قصہ سنا رہا ہے ۔ یعنی تحریر میں بے پناہ روانی اور بے تکلفی ہے ۔ اپنی علمیت کا سکہ بٹھانے کیلئے یا دانشوری جھاڑنے کیلئے کہیں بھی بھاری الفاظ، مشکل اصطلاحات اور پیچیدہ استعارات استعمال نہیں کئے گئے اور میرے نزدیک یہی اس کی خوبصورتی اور کامیابی کی وجہ ہے ۔
ایک عام پاکستانی ، میرے جیسا آپ کے جیسا اس کتاب کے ہر لفظ سے ریلیٹ کرسکتا ہے ۔ ہم سب نے ایک جیسا بچپن گزارا ہے. ایک جیسی جوانی ۔ تو ڈھونڈ لیں اس کتاب میں اپنا کھویا بچپن بھی اور موبائل فونز، سے پہلے کی چاندنی راتیں بھی ۔
اگر آپ یہ کتاب پڑھنا چاہیں تو اپنے ساتھ ایک ہائی لائیٹر ، یا رنگین پینسل ضرور رکھ لیں کیونکہ ہر دوسرے یا تیسرے صفحے پہ ایک آدھ ایسی لائن ، کوئی فقرہ یا جملہ ایسا ضرور ہوگا جو آپ کی انگلی پکڑ لے گا اور آپ کو آگے جانے نہیں دے گا ۔ میرے ساتھ تو ایسا ہی ہوا لہذا میں نے رنگین پینسل سے اس کو ہائی لائٹ کرلیا تاکہ میں آگے چلی بھی جاؤں تو پلٹ کر دوبارہ بھی جب چاہوں اس جملے سے ملاقات کرسکوں ۔اور لطف اندوز ہوسکوں ۔☺️
اگر آپ نے میرے تبصرے کے بعد یہ کتاب خریدی تو مجھے ضرور بتائیے گا تاکہ میں حسنین جمال کی اگلی کتاب پہ کوئی کنسیشن لے سکوں. 😁 ویسے میرے شئیر کردہ اقتباسات کو پڑھ کر میری ایک دوست نے تو مجھ سے کتاب مانگ لی ہے. لیکن میں صرف اسی کو دونگی پڑھنے کیلئے، آپ سب خرید کر پڑھیں. 😃 یقین کریں یہ کتاب اچھا اضافہ ثابت ہوگی آپ کی بک شیلف میں ۔


T

Tahir Mehmood Baloch

منٹو اور ممتاز مفتی کے بعد بے باک اور بے ساختہ لکھنے والے صاحب ہیں.
ان کی حالیہ کتاب #داڑھی_والا کا دوسرا ایڈیشن بھی بک کارنر جہلم والوں نے چھاپ دیا. یہ کتاب ان کی وقتہ فوقتہ تحاریر کا مجموعہ ہے. جن کی خوبصورتی ان کی سادگی اور آسانی سے سمجھ آنے والی بات اور جملے ہیں. یہ وہ جملے ہیں یہ وہ باتیں ہیں جن کو سننے کے بعد آپ فوراً کہ اٹھتے ہیں کہ ہاں یار بات تو بھائی کی ٹھیک ہے.


A

Abid Hussain Sajid

دوران سفر ڈارھی والا سے لطف اندوز ہو رہا ہوں،ہر شخص اپنے اپنے موبائل میں مصروف اور ہم اپنی کتاب میں مگن



‎سائبان راجپوت‎

2021 کے قارئین اور لکھاری
✍️ سائبان راجپوت
ایک وقت تھا کہ جب پڑھنے والا کئی سال تک ایک رائٹر کو پڑھتا رہتا اور اس کے ذہن میں اس رائٹر کا تصور بیٹھ جاتا مگر کبھی وہ اس رائٹر کو دیکھ نہیں سکتا تھا، کہیں کوئی تصویر اس رائٹر کی اسے نظر نہیں آتی تھی، اس قاری کا اپنے رائٹر سے ملاقات اور گفت و شنید تو بہت دور کی بات ہوتی تھی۔
مگر آج اکیسویں صدی ہے جناب! آج آپ ایک کتاب پڑھتے ہیں، ایک کلک پر اس کتاب کا مصنف آپ کے سامنے ہوتا ہے۔
اس مصنف کے انٹرویوز، اور اس کی زندگی پر فیچرز، رپوٹس اور تو اور یار آپ براہِ راست اس مصنف سے بات کر سکتے ہیں۔
اس کی کتاب کے بارے میں اس سے سوال کر سکتے ہیں۔
اس لکھاری کو بتا سکتے ہیں کہ آپ اس کے قلم کے دیوانے ہیں۔
خیر تو اب اصل مدعیٰ کی طرف آتے ہیں۔
کچھ دن پہلے فیس بک پر ایک کتاب کے بارے میں پڑھا۔ کتاب کا نام ایسا تھا کہ تجسس بڑھ گیا۔ دو تین دن کے بعد وہ کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔
کتاب کے بارے میں جیسا سوچا تھا، کتاب بالکل اس کے برعکس تھی۔
"داڑھی والا" کتاب کا نام دیکھ کر میں سمجھا تھا کہ یہ کسی مذہبی رہنما کی کتاب ہوگی اور کتاب میں داڑھی کے حوالے سے بحث و مباحثہ ہوگا۔ مگر نہیں بھائی! یہ داڑھی والا جسے دنیا حسنین جمال کے نام سے جانتی ہے سب سے مختلف ہے۔
کتاب جوں جوں پڑھتا گیا میں مصنف کا گرویدہ، مرید، فین، معتقد، مقلد بنتا گیا۔
کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ تقریباً زندگی کے ہر پہلو کو ایک نئے زاویے سے دکھایا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سب سے الگ اور پر کشش ہے۔
اس کتاب میں لفظوں سے نہیں کھیلا گیا بلکہ وہ زبان استعمال کی ہے جو کہ روز مرہ زندگی میں ہم استعمال کرتے ہیں۔
حسنین جمال صاحب کی ایک ایک تحریر قاری کو اپنے سحر میں جکڑتی ہے۔
ایک تحریر "کتابیں زبردستی نہ پڑھیں" میں وہ کچھ یوں لکھتے ہیں کہ"دیکھیں سیدھی سی بات ہے، کتاب آپ کس وقت پڑھتے ہیں؟ فرصت میں، جب اچھا ٹائم پاس کرنا ہوتا ہے؟ تو اس وقت بھی دماغ کی دہی بنانے پر خود کو مجبور کیوں کرتے ہیں؟ کتاب وہ ہے بھائی جو آپ سے خود کو پڑھوا لے۔ شروع کے دو تین صفحوں میں کیس سیدھا ہو جاتا ہے کہ پڑھی جائے گی یا نہیں۔ اس کے بعد چل سو چل والا معاملہ ہوتا ہے۔
قدرتی معاملہ ہے کہ ہر کسی کی پسند الگ ہوتی ہے۔ کسی کو پیار محبت والی کہانیاں پسند ہوتی ہیں، کوئی سفرنامے پڑھنا چاہتا ہے، کوئی آپ بیتیاں پڑھنے کا شوق رکھتا ہے، کسی کو جاسوسی ناول پسند ہوتے ہیں، کوئی فلسفہ پڑھتا ہے، کوئی شاعری پڑھتا ہے، کسی کو تنقید سمجھ میں آتی ہے اور کوئی فکشن پڑھنا ہی نہیں چاہتا۔
اس میں زبردستی کا فائدہ کوئی نہیں ہونا۔ اگر آپ تاریخ پڑھنا پسند نہیں کرتے اور عالم کہلانے کے شوق میں مارے باندھے پڑھ بھی لیں گے تو آپ کا فوکس واقعات پہ رہے گا، ان کی تاریخی ترتیب بھول جائے گی۔ اسی طرح ہر اس چیز کے ساتھ ہو گا جو آپ خود پہ جبر کر کے اٹھائیں گے۔ عام آدمی مشکل کتابیں پڑھنے کے لیے نہیں بنا ہوتا۔ وہ روحیں اور ہوتی ہیں جو بچپن سے ہر قابل ذکر چیز پڑھ کے جوان ہوتی ہیں، انہیں خود سے شوق ہوتا ہے مشکل پسندی کا، وہ قابل احترام ہیں لیکن ان کی نقل میں اپنے ہاتھ پیر کٹوانا اچھی بات نہیں"
ایک اور تحریر میں حسنین جمال صاحب نے الگ ہی انداز سے سوچنے پر مجبور کیا۔ "شکر کریں آپ لڑکی نہیں ہیں" کے عنوان سے اس تحریر میں وہ لکھتے ہیں کہ"کیا آپ نے کبھی شکر کیا ہے کہ آپ ایک لڑکی نہیں ہیں؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔ اردو پڑھ رہے ہیں، پاکستانی باشندے ہیں، ساری عمر ماؤں، بہنوں، کولیگز، دوستوں، بیٹیوں اور بیویوں کی زندگی دیکھتے گزار دی پھر بھی کبھی شکر نہیں کیا؟
بیالیس پینتالیس ڈگری کی گرمی پڑ رہی ہو اور آپ کو گھر کے ساتھ والی دکان سے چینی لینے جانا پڑے ، کس طرح جائیں گے ؟ وہی میلا پائجامہ یا نیکر، اوپر ٹی شرٹ، پاؤں میں ہوائی چپل اور یہ گیا بھائی۔ بہت ہو گا تو سر پہ کوئی پی کیپ پہن لیں گے ۔
ایک عام گلی محلے کی لڑکی کیسے جائے گی؟ پہلے نمبر پہ وہ سوچے گی کہ یار یہ جو کپڑے میں نے گھر میں پہنے ہوئے ہیں کیا یہ باہر پہن کے نکلا جا سکتا ہے ؟ دوسرے نمبر پہ اسے ایک لمبا چوڑا سا دوپٹہ کہیں سے ڈھونڈنا ہو گا۔ اگر وہ نہیں تو چادر ڈھونڈی جائے گی۔ اس کے بعد شدید گرمی کے عالم میں بکل مار کے وہ باہر نکلے گی۔ پہلے اسے دیکھنا ہو گا کہ وہ جو لفنگوں کا گروپ دکان کے باہر کھڑا ہوتا ہے وہ اس وقت موجود ہے یا نہیں، اچھا وہ تو موجود نہیں ہے لیکن دکان پہ اس وقت کون ہو گا؟بابا جی خود ہیں یا ان کا ہیرو نما بیٹا کھڑا ہے ۔ بابا جی ہیں تو ٹھیک ہو گیا، بیٹا کھڑا ہے تو پھر دکان پہ اس وقت جانا مناسب ہو گا جب دو تین لوگ اور بھی موجود ہوں۔ پھر وہ فیصلہ کرے گی کہ تھوڑی دیر میں دروازے پہ کھڑی ہوتی ہوں جب ایک دو بندے دکان پہ آ جائیں گے تبھی جاؤں گی۔ پانچ منٹ بغیر پنکھے یا ہوا کے وہ دروازے میں جمی رہے گی۔ سر سے پاؤں تک پسینہ بہہ جائے گا اور ایک دو گاہک دکان تک پہنچیں گے تو وہ بھی چلی جائے گی۔ آنکھیں نیچی، تیز تیز قدم، بار بار چادر لپیٹتی ہوئی وہ دکان پہ جائے گی، وہ ایک کلو چینی مانگے گی تو دونوں گاہگ مڑ کے اس کی طرف ضرور دیکھیں گے ، وہ دکان کے کسی شیلف پہ نظریں جمائے چینی تولے جانے کا انتظار کرے گی اور بالآخر یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد اسی طرح تیز تیز قدموں سے گھر آئے گی، دوپٹہ اتار کے پراں مارے گی (کبھی یہ بھی ممکن نہیں ہوتا) پنکھے کے نیچے بیٹھے گی اور ایک بار تو ضرور سوچے گی کہ کاش میں لڑکا ہوتی"
یہ ایک دو اقتباس میں نے بطور نمونے کے پیش کئے ہیں ورنہ حسنین جمال صاحب کی ہر تحریر ہی ایسی ہے کہ اسے قاری پڑھتا چلا جائے اور پڑھنے کے بعد اس کی سوچ کو ایک نیا زاویہ ملے۔
ان کی تحریروں میں سے
"اپنی ہی چیز کے استعمال سے ڈرتے لوگ"
"آپ صرف پرانا گھر نہیں چھوڑتے"
"پندرہ سال کا ہوجانے پر بیٹی کے نام ایک خط"
"پیسوں کو خوشی میں کیسے بدلیں"
"جب بسنت پولیس کے اشتہاروں میں نہیں آتی تھی"
"سالگرہ پر بیوی کے نام خط"
یہ چند وہ تحریریں جو کہ آپ کبھی فراموش نہیں کر سکتے، ان کو پڑھنے کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں کہ کتاب خریدنے کے پیسے وصول ہوگئے۔
تو میرے پیاروں! اگر آپ ان دنوں ایک اچھی کتاب پڑھنے کی تلاش میں ہیں تو پھر داڑھی والا کتاب سے اچھا آپشن اور کوئی نہیں۔
کتاب کے بعد مصنف سے فیسبک پر رابطہ کیا اور ان سے ایک انٹرویو لینے کی درخواست کی جسے حسنین جمال صاحب نے بخوشی قبول کیا اور اپنا واٹس ایپ نمبر دیا جہاں حسنین جمال صاحب سے علیک سلیک بھی ہوئی اور انٹرویو بھی لیا۔
یہ 2021 ہے کہ جہاں مجھ جیسا قاری، اتنے بڑے لکھاری تک نا صرف رسائی حاصل کرتا ہے بلکہ ایک بہترین ملاقات انٹرویو کی صورت میں بھی کرتا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ اس داڑھی والا نے اپنے دل میں گھر کرلیا ہے۔ اس کی عاجزی، انکساری، اور محبت کا لفظوں میں اظہار ممکن نہیں۔
2021 کے قارئین اور لکھاری ایسے ہی ہوتے ہیں۔
بہت شکریہ حسنین جمال صاحب نوجوان نسل کو ایک بہترین کتاب پیش کرنے کے لیے۔ اپنا قیمتی وقت دینے کے لیے اور سب میں محبت بانٹنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب فرمائے آمین
( حسنین جمال صاحب سے انٹرویو کا لنک نیچے دیا جا رہا ہے ملاحظہ فرمائیں 👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2957876041139880&id=100007525390389


M

Muhammad Hashir

حسنین جمال۔۔۔صحافیوں اور رائٹرز کی نئی پود میں سے ہیں۔۔ مختلف اخبارات اور ویب سائٹس کے لئے لکھتے رہتے ہیں۔۔ حال ہی میں ان کی کتاب داڑھی والا مارکیٹ میں آئی اور حقیقی معنوں میں تھرتھلی مچا دی۔ دوستوں کی کوئی محفل ہو ، فیس بک ہو یا انسٹاگرام آپ کو کسی نہ کسی طرح داڑھی والا کا ذکر مل ہی جائے گا۔۔۔۔۔ سوچا کبھی اس کی وجہ؟ کیا حسنین جمال کو سرخاب کے پر لگے ہیں یا یہ بندہ ۔۔۔ مشہور شخصیات کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہے؟
۔
۔
نہ جی نہ۔۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں۔ داڑھی والا ۔۔۔ وہ ڈسکس کرتا ہے جو میرے آپ کے بارے ہوتا ہے۔۔ وہ باتیں کرتا ہے جس سے ہم عام لوگوں کی طرح کسی نہ کسی طرح کنیکٹ ہوتی ہے ۔۔۔ یہ بندہ موبائل کے کور ۔۔گاڑی کی سیٹ کے پلاسٹک۔۔ عورت کے خراب موڈ کی وجوہات سے لیکر ذبردستی کتابیں نہ پڑھنے تک وہ لکھتا ہے جس سے ہم جڑتے ہیں۔۔۔ اسی ناسٹلجیا سے یہ گزرا جس سے ہم گزرے۔۔۔ تو کہیں کہیں لگتا ہے بھائی یہ مضامین تو خالص اپن واسطے ہیں۔۔۔۔ جیسے مجھ سے سن کے لکھے گئے ہیں۔۔۔ تو بھیا اپنے اور اور داڑھی والے کے درمیان اجنبیت اور تکلف کے بجائے ایک یارانہ سا محسوس ہوتا ہے۔۔ چاھے میں یہ کتاب ۔۔ اسلام آباد سے 450 کلو میٹر دور ڈیرہ اسماعیل خان بیٹھ کے ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہوں
۔
اقتباس
۔
1.."عورت کو ہر مشکل ملٹی پلائے بائے ٹین ہوکر ملتی ہے ۔مرد دنیا کا غم کھاسکتا ہے اپنے گھر کا غم اسے زیادہ تنگ نہیں کرتا ۔ عورت کیلئے اپنے آس پاس والے شدیداہم ہیں ۔دنیا بھاڑ میں چلی جاتی ہے اگر عورت کا اپنا گھرڈسٹرب ہو ۔"
۔
2...کسی گھر میں کوئی مالی بوہڑ، پیپل، دھریک، نیم، شرینہہ یا ایسا کوئی پودا نہیں لگائے گا جو تھوڑا کم دیکھ بھال مانگتا ہو اور دیسی جم پل ہو۔ وجہ یہ ںتائی جائے گی کہ جڑیں گھر کی بنیادوں تک اتر جاتی ہیں۔ ٹھیک ہے، تو یہ جو ایروکارپس ہر گھر کی باڑ بنا ہوا ہے اس کی جڑیں کیا گہری نہیں جاتیں؟ چھوڑس مڑا، کوئی ہور گل کرنے آں۔
کیا اس گھر میں کتابوں کا کمرہ ہوگا؟ نہیں، کمروں کی تعداد جتنی کتابیں بھی نہیں ہونگی۔ کیا اس گھر میں فلم دیکھنے یا موسیقی سننے کا کوئی کمرہ ہوگا؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گرمی دماغ کو لگ گئی ہے کیا؟. کیا اس گھر میں ورزش کے لیے کوئی جگہ ہوگی؟ نہیں ہم نے آلو کے چپس کھانے ہیں اور ٹی وی دیکھنا ہے۔ پھر اس گھر کی خاص بات کیا ہے؟ دیکھیں یہ جو ڈرائنگ روم ہے اس کا فرش لکڑی کا ہے، فرنیچر اٹالین، قالین اس میں ہاتھ کا بنا ہوا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ اور ہاں چونکہ اب پکی ٹینکیاں بنانے کا فائدہ نہیں رہا تو ہم چھت پہ تین تین نیلی ٹینکیاں رکھیں گے تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ ہے نا جی پھر خاص بات!


S

Saif Ullah Javed

آج ہی مکمل ہوئی۔ تحریرں بہت سادہ اور سہل ہیں ۔ اپنی ریڈنگ ہیبٹ کو رواں کرنے اور دماغ فریش کرنے کیلئے اچھا مواد ہے ۔ ورڈلی وزڈم زیادہ اور مزہبی ٹچ تھوڑا کم ۔ " تعزیت ایک مشکل کام ہے ۔ زیادہ پسند آئی ۔
خیر ککٹس کے پودے کا زکر بہت بار کیا ہے شاید بہت پسند ہے۔


S

Saad Qureshi

کچھ وقت پہلے کی بات ہے جب بک کارنر کے پیج پر پہلی دفعہ حسنین جمال کی کتاب دیکھی ذہین میں یہی خیال پیدا ہوا کہ صاحب ملنگ ٹائپ بندے لگ رہے ہیں اور تصوف کے میدان میں گھوڑا دوڑایا ہو گا .مختصر یہ کہ اگنور کیا .لیکن اس کے بعد کیا تھا آئے دن بابا جی کی فیس بک فیملی نے جینا حرام کر دیا .پھر ایک دن ہم میں بھی تجسس پیدا ہو گیا کہ دیکھے تو سہی اس کم بخت نے ایسا کیا لکھ ڈالا ہے .یہی سوچ کر گگن میاں کو کال گھڑکا دی .کتاب آئی اور پہلی تحریر سے ہی اطمینان حاصل ہو گیا کہ لوگ داڈھی والا داڈھی کیو کر رہے ہیں
حسنین جمال وہ بندا ہے جس نے معاشرے کی مجموعی سوچ کو نہ صرف بخوبی جانا بلکے اُس میں چھپی پچیدگیوں پر اپنا قلم چلایا۔اکثر اُن ٹاپکس پر لکھا جن پر نہ کبھی لکھا گیا تھا نہ کبھی لکھا جائے گا اور یہی صاحب کی تحریروں کا حُسن ہے .ہر مڈل کلاس آدمی یہی سوچتا ہے شائد یہ کتاب میرے اوپر لکھی گئی ہے اور یہی حقیقت ہے .روانی اتنی کہ پڑھنے والا بس پڑھتا ہی جائے
لیکن ایک گلہ بھی ہے .اکثر جگہ انگریزی کے ایسے خطرناک الفاظ استعمال کر ديئے ڈکشنری کا سہارا لینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا .
آخر میں میں شکریہ ادا کر


RELATED BOOKS