Darhi Wala | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

DARHI WALA داڑھی والا

Inside the book
<span dir='ltr' class='left text-left'>DARHI WALA</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>داڑھی والا</span>

PKR:   700/-

Author: HUSNAIN JAMAL
Pages: 368
Year: 2021
ISBN: 978-969-662-351-9
Categories: SHORT STORIES COLUMNS ESSAYS
Publisher: Book Corner

حسنین جمال پچھلے چند برسوں میں سامنے آنے والے اُردو کے کالم نگاروں میں سے ایک نمایاں نام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حسنین نے اتنے تواتر کے ساتھ ایسی عمدہ تحریریں لکھی ہیں، جن کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ سو فی صد یا چلیں تھوڑا محتاط تخمینہ لگاتے ہیں، پچانوے ستانوے فیصد اچھے کالم لکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ میں نے حسنین جمال کی بیشتر تحریریں پڑھی ہیں، ان کے دو تہائی سے زیادہ کالم بلاگ ایسے ہیں جن پر رشک آیا۔ یہی خیال آیا، کاش اس موضوع پر مَیں لکھ پاتا، مگر پھرسوچا کہ جس لطافت، بے ساختگی اور دلکشی سے حسنین جمال نے لکھا، وہ انھی کا خاصا ہے۔ حسنین جمال کی تحریر میں ایک خاص انداز کی ندرت اور اچھوتا پن ہے۔ ان کی نثر میں کمال درجہ بےساختگی ہے، یوں لگتا ہے جیسے مصنّف سامنے بیٹھا اپنے مخصوص چہکتے انداز میں گُل فشانی کر رہا ہو۔ حسنین نے کالم نگاری کی روایتی، پرتکلّف زمین میں نئے تجربے کیے۔ انھوں نے بلاگ اور کالم کی درمیانی دیوار گِرا کر ان کا حسین امتزاج بنایا۔ ڈکشن ان کی اپنی ہے، بہت سے ایسے الفاظ اور جملے بھی استعمال کر لیتے ہیں جو ہم عام طور پر بولا کرتے ہیں، لکھتے نہیں۔ مجھے حسنین جمال کے یہ لسانی تجربے، نت نئے موضوعات کا انتخاب، انوکھے خیالات اور پھر ان پر نہایت عمدگی سے لکھی تحریریں بہت پسند ہیں۔ ان میں سے بعض سے مجھے اختلاف ہے ، مگر جس سلیقے اور شائستگی سے حسنین نے انھیں بیان کیا، وہ متاثر کن ہے۔ خواہش تھی کہ حسنین جمال اپنی تحریروں کا مجموعہ شائع کرے کہ ان میں سے بہت سوں کے تراشے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ کتاب کی شکل میں یہ سرمایہ محفوظ ہوگیا۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ کسی بھی صاحبِ ذوق کی لائبریری کا حصّہ بن سکے۔

عامر خاکوانی

حسنین جمال کی شکل کارل مارکس سے اتنی ملتی ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ ان کو دیکھا تو لگا کہ میرے سامنے مارکس ہی بیٹھا ہے۔ خیالات بھی موصوف کے ویسے ہی انقلابی ہیں۔ تحریروں میں البتہ ٹھہرائو اور چاشنی ہے۔ زیرِنظر کتاب کے بیشتر مضامین میں نے اسی وقت پڑھ لیے تھے جب یہ ویب سائٹ پر شائع ہوئے تھے۔ ایک تحریر تو اب تک نہیں بھولتی ’’محرّم تو سب کا ہوتا تھا‘‘۔ حسنین جمال نے قلم توڑ دیا تھا۔ پڑھ کر بےساختہ فون کیا اور داد دِی۔ حسنین منکسرالمزاج ہے، شرماتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا، ’’یہ نو مضامین کی سیریز کا حصہ ہے جو محرّم کے حوالے سے مختلف موقعوں پر لکھے۔ کبھی محرّم پر لکھنے بیٹھتا ہوں تو حسنین جمال کی یہ تحریر یاد آ جاتی ہے، خدایا اس سے بہتر اب کیا لکھا جائے گا۔ یہ مجموعہ الگ سے شائع ہو گا۔‘‘ کتابوں کے سرورق پر رائے عموماً مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے مگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ حسنین جمال نوجوان لکھنے والوں میں صف اوّل کے لکھاری ہیں۔ صرف اِن سے ایک گلہ ہے کہ اپنی تحریر میں بعض اوقات غیرضروری طور پر انگریزی کے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، شاید یہ آج کے دَور کی ضرورت ہو، مگر میں اس ’کارل مارکس‘ کو یہی مشورہ دوں گا کہ اس سے اجتناب کرے اور اگر کہیں انگریزی کا لفظ لکھنے کی ضرورت ہو تو اسے یوں استعمال کرے جیسے یار لوگ بادل نخواستہ مانع حمل کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔

یاسر پیرزادہ

مجھے حسنین جمال کا مکمل قاری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ تصنع سے عاری، دو ٹوک تحریر ان کا خاصا ہے اور سب سے بڑی بات کہ انھیں اپنی بات کے ابلاغ پر مکمل عبور حاصل ہے۔ ان کی تحریر کا حُسن وہ بظاہر چھوٹے چھوٹے معاشرتی موضوعات ہیں جن کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ وہ ملتانی مٹّی سے اُبھرے ہیں اسی لیے ان کی تحریر اور گفتگو دونوں سوندھی سوندھی خوشبو سے لبریز ہیں۔

گل نو خیز اختر

حسنین جمال اُردو نثر کی تازہ امید ہیں، لفظ کا احترام کرتے ہیں اور خیال کا تعاقب، لکھتے رہے تو بہت دُور تک جائیں گے۔

وجاہت مسعود

RELATED BOOKS