Eye witnesses of History- A collection of letters addressed to Quaid-i-Azam, 1968 | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

EYE WITNESSES OF HISTORY- A COLLECTION OF LETTERS ADDRESSED TO QUAID-I-AZAM, 1968

<span dir='ltr' class='left text-left'>EYE WITNESSES OF HISTORY- A COLLECTION OF LETTERS ADDRESSED TO QUAID-I-AZAM, 1968</span> <span dir='rtl' class='right text-right'></span>

PKR:   150/-

★★★★★
★★★★★

یہ بات اکثر لوگوں کے علم میں ہے کہ مختار مسعود کے والد شیخ عطاء اللہ نے علامہ اقبال کے لکھے ہوئے مکاتیب ’’اقبال نامہ‘‘ کے عنوان سے دو جلدوں میں مرتب کیے تھے، جو قیام پاکستان سے پہلے لاہور سے شائع ہوئے تھے۔ شیخ عطاء اللہ نے ان مکاتیب کے حصول کے لیے متعدد شخصیات سے رابطہ کیا اور یوں اقبالیات کے شعبہ کو ثمرمند کیا۔
یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے جب مختار مسعود کو، جو لاہور کے کمشنر تھے، ایک ملاقاتی نے ان کے والد کا لکھا ہوا وہ خط پیش کیا، جو ربع صدی قبل مختار مسعود کے والد شیخ عطاء اللہ نے قائداعظم کو تحریر کیا تھا۔ مختار مسعود لکھتے ہیں کہ انہیں نہ صرف وہ خط یاد تھا بلکہ یہ بھی یاد تھا کہ وہ خط، خود مختار مسعود نے علی گڑھ کے یونیورسٹی پوسٹ آفس سے پوسٹ کیا تھا۔ یہ خط 19 جنوری 1943ء کو تحریر کیا گیا تھا اور اس میں شیخ عطاء اللہ نے قائداعظم سے ان کے نام لکھے گئے علامہ اقبال کے خطوط کے حصول کی درخواست کی تھی۔
مختار مسعود لکھتے ہیں کہ اس خط نے انہیں قائداعظم کے نام لکھے گئے، دوسرے اکابر کے خطوط جمع کرنے کی تحریک دی اور جلد ہی انہوں نے ایسے خطوط کو بہم بھی کر لیا۔ یہی خطوط، جنوری 1968ء میں "Eye Witnesses of History" کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔
"Eye Witnesses of History" میں قائداعظم کے نام لکھے گئے 44 خطوط اور 4ٹیلی گرام شامل ہیں جو 1931ء سے 1943ء کے دورانیہ میں تحریر کیے گئے تھے۔ ان خطوط کے لکھنے والوں میں سر آغا خان، نواب احمد سعید چھتاری، حسین شہید سہروردی، سر سکندر حیات، نواب مشتاق احمد گورمانی، میاں احمد یار دولتانہ، غلام رسول، ملک برکت علی، خواجہ حسن نظامی، نواب افتخار حسین ممدوٹ، ایم ٹی نیر، ایم کے فاروقی، سر شفاعت احمد خان، مولانا احمد سعید، چوہدری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر، محمد نواز، شیخ صادق حسن، ایس اے لطیف، کے ایچ مہر علی، رائو حامد علی خان، آر بی سپرے، جے این گن تھارپ، ڈبلیو ایچ گارڈنیر، شیخ عطاء اللہ، میاں محمد شفیع، میاں بشیر احمد، مسلم اسٹوڈنٹس لکھنؤ، جسٹی سائٹ، راجہ گوپال اچاری، ایس مظفر احمد، ہوریس آئی پول مین اور کے پی ملک ارجناڈو کے نام شامل ہیں۔
"Eye Witnesses of History" کا پہلا ایڈیشن جنوری 1968ء میں گلڈ پبلشنگ ہائوس کراچی سے شائع ہوا جبکہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن 1988ء میں انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر کلب روڈ، لاہور نے شائع کیا تھا۔

عقیل عباس جعفری

USER RATINGS

RATE THIS BOOKS

Tell others what you think

RELATED BOOKS