FAQEER BASTI MEI THA فقیر بستی میں تھا

Faqeer Basti Mei Tha Faqeer Basti Mei Tha
<span dir='ltr' class='left text-left'>FAQEER BASTI MEI THA</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>فقیر بستی میں تھا</span>

PKR:   700/-

Author: ALI AKBAR NATIQ
Pages: 288
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-302-1
Categories: BIOGRAPHY URDU LITERATURE NOVEL

’’فقیر بستی میں تھا‘‘ پڑھتے ہوئے گمان تک نہیں ہوتا کہ ہم آزاد کو نہیں، علی اکبر ناطق کو پڑھ رہے ہیں۔ آزاد پر یہ کتاب پچھلے سو سال میں واحد کتاب ہے جو واقعی اپنے موضوع اور اسلوب کے حوالے سےپڑھنے کے قابل اور لائق تحسین ہے۔ ناطق نے مولانا محمد حسین آزاد کا قلم مستعار لے کر یہ کتاب لکھی ہے۔

احمد جاوید

علی اکبر ناطق کی ہر نئی آنے والی تحریر ان کے ادبی نابغہ ہونے پر تصدیق کی مہر ثبت کرتی جاتی ہے۔ ناول اور افسانے کی ہوش ربا اور رواں نثر کے بعد مولانا محمد حسین آزاد کے سوانحی مرقعے ’’فقیر بستی میں تھا‘‘ نے یار لوگوں کو حیران اور ناقدین و حاسدین کو پریشان کر دیا ہے۔ یہ کتاب خود ان کے نثری اسلوب کی اگلی منزل ہے۔ سچ یہ ہے کہ مولوی محمد حسین آزاد پر جتنا لکھا گیا ہے، حیرت ہوتی ہے کہ ناطق کی کتاب اس میں کیا تحقیقی اضافہ کر سکتی تھی؟ یہ بات سچ ہوتی اگر مولوی آزاد سے ناطق کی تشدیدی عقیدت اور تکبیری محبت اس راہِ پُر خار میں ناطق کی ہمراہ نہ ہوتی۔ پچھلے نو سال کی رفاقت میں ناطق صاحب کی آزادؔ سے محبت کا لفظی و عملی مظاہرہ جو میرے تجربے میں رہا ہے وہ کئی حوالوں سے ناقابلِ یقین ہے، لہٰذا مولوی آزاد لاہور میں جہاں جہاں قیام پذیر رہے۔ ان علاقوں میں عملاً ناطق نے اپنے عشق کے پاپوش گِھسائے ہیں۔ میں اس داستان کا ذاتی گواہ ہوں۔
دہلی سے جنوب کی طرف روانگی کے باب میں ناطق نے بہت نادر تفصیلات سے بات بنائی ہے۔ اوّل تو یہ مواد عام دسترس میں نہیں اور جنوب کے بارے میں ہماری معلومات انتہائی سرسری ہیں۔ دوم ناطق نے عملی طور پر مولوی صاحب کو جنوب کی وادیوں اور کوہساروں میں جس طور سے پابہ جولاں دکھایا ہے، اُس پر خامۂ ناطق کے قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔ لاہور چونکہ ایک حوالے سے ناطق بھائی کا اپنا شہر بھی ہے لہٰذا کتاب کے اس حصے کی بحث اور تحقیق نہایت باریک ہو چلی ہے۔ بات، گلی کوچوں، کٹڑوں، مسکنوں، باغوں، نہروں، سواریوں، مسجدوں، امام باڑوں، حوضوں اور کتابوں کے شوق سے ہوتی ہوئی ان نادیدہ درختوں، راہداریوں اور ان میں اٹھتی بیٹھتی گرد تک جا پہنچتی ہے جن کے مولوی صاحب شاہد رہے۔ لاہور کے مساکن والے ابواب میں تفصیلات اتنی واضح اور اسلوب اتنا سہل و دل نشیں ہے کہ اگر کوئی میرے جیسا سادہ آدمی نقشے کی بجائے یہ کتاب لے کر پُرانے لاہور میں جا نکلے تو وہ بنگلہ ایوب شاہ (آہ اب وہ مرحوم ہو چلا) اور اکبری منڈی کے آثار پا سکتا ہے۔ ویسے بھی قاعدے ہوتے ہی الٹنے کے لیے ہیں، نقشہ نہیں کتاب سہی!
اس کتاب کے بلند ترین مقامات وہ ہیں جن میں فاضل مصنف مختلف متکلمین کا رُوپ دھار لیتا ہے۔ جیسا کہ اکبری منڈی والے مکان کی روداد اور مولانا کے جنازہ کے قصے کو بیان کرنے والے متکلم! ان حصوں میں قاری حقیقتاً بھول ہی جاتا ہے کہ وہ سوانحی کتاب پڑھ رہا ہے ۔
آخری باب یعنی مولوی صاحب کی موت، نہایت رنج افزوں ہے۔ واللہ ناطق صاحب کی محبت اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ آزاد کی موت کو ایک فرد کی موت نہ رہنے دیتے بلکہ ایک عرصۂ تہذیب کے مٹنے کی داستان بنا دیتے اور یہی انھوں نے کیا۔ موت کی ٹریجیڈی کیا ہی بھر پور ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

ارسلان احمد راٹھور

ایک اور آبِ حیات:

1880ء میں شمس العلماء مولوی محمد حسین آزاد نے شاعروں اور ادیبوں کے قصے لکھ کر انہیں شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں جگہ دلائی۔ اب تقریباً ایک سو چالیس برس بعد معروف ادیب اور شاعر علی اکبر ناطق نے اپنے معجز اثر قلم سے آزاد کی داستان لکھ کر گویا ان کے عہد کو ہمارے لیے ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ بظاہر فکشن کے اسلوب میں لکھی گئی یہ تحقیقی کاوش عہدِآزاد کی الف لیلیٰ ہے۔ یہ محمد حسین آزاد کی ہی داستانِ حیات نہیں بلکہ کئی بلند مرتبہ شاعروں اور شہروں کا احوال بھی ہے۔ مصنف اور محقق، جن کا اصلاً یہ یونیورسٹی کے زمانے کا مقالہ ہے، برسوں کی عرق ریزی کے بعد مزید نکھر کر موجودہ صورت میں سامنے آیا ہے۔یہ کتاب نما مقالہ (یا بصورت دیگر) جہاں آزاد کی بابت چند نئے حقائق سامنے لاتا ہے، مثلاً ڈاکٹر لائٹنر کا ان سے عناد،آ زاد کے وسط ایشیا کے دورے کے اصل وجوہ اور ان کے جذب و دیوانگی کا بھید و کیفیات وغیرہ۔ وہیں پر یہ تحریر میرؔ، غالبؔ، ذوق اور دیگر شعرا کے خصائل اور کمالات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ شروع کے ابواب میں دہلی کے اجڑنے بسنے کا احوال انتہائی دلنشیں پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ لکھنؤ، علی گڑھ، لدھیانہ وغیرہ سے ہوتے ہوئے لاہور کی داستان، دراز تر بھی ہے اور لذیذ بھی۔ ایران و افغانستان کا تذکرہ بھی ذکرِ آ زاد کے ضمن میں برمحل ہے۔ آزاؔد اِس کتاب کے مرکزی موضوع ہیں۔ آزاؔد کیسے اس شہر میں آئے، بسے، علمی تدریسی تصنیفی سرگرمیوں کا بیان تو ہے ہی... لاہور شہر کے اندرون بیرون بڑھنے پھیلنے کے حوالے سے بھی مصنف کی معلومات کافی ہیں۔ درحقیقت اپنے موضوع سے مصنف کی شیفتگی پرانی اور گہری، ایک عمر پر محیط ہے اور ایک لحاظ سے اس کی اپنی سوانح عمری پر روشنی ڈالتی ہے۔ آ زاد کے جنازے اور تدفین کا احوال بھی خاصے کی چیز ہے۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ جیسے عظیم ناول کے خالق نے ’’فقیر بستی میں تھا‘‘ کی صورت ہمیں حیاتِ آزاد پر ایک بے مثل کتاب سے نوازا ہے۔ کتاب کے ابواب اور ذیلی ابواب کے نام بیشتر میرؔ بےدماغ کے مصرعوں سے مستعار ہیں جو لطف مطالعہ کو دوچند کر دیتے ہیں۔ حقیقت تو حقیقت اور اس پر علی اکبر ناطق کا افسانوی انداز... اسد اللہ خان قیامت ہے۔ میری عاجزانہ رائے میں اُردو زبان میں ایسا اسلوب زندہ ادیبوں میں شاید صرف تارڑ صاحب کا ہے لیکن ناطق نے نہ صرف اس کو نئی رفعتوں سے ہمکنار کرایا ہے بلکہ اس میں ہزاروں وولٹ کی بجلی اضافی بھر دی ہے۔ بظاہر یہ ایک حتمی بیان (Sweeping Statement) لگےگا لیکن میرے خیال میں ناطق جیسی زوردار اور مؤثر نثر لکھنے والا کسی اور زبان میں ہو تو ہو کم از کم اُردو میں نہیں ہے۔

کاشف منظور

RELATED BOOKS