Hafiz aur Iqbal | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

HAFIZ AUR IQBAL حافظ اور اقبال

<span dir='ltr' class='left text-left'>HAFIZ AUR IQBAL</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>حافظ اور اقبال</span>

PKR:   999/-

طالب علمی کے زمانے ہی سے حافظؔ، غالبؔ اور اقبالؔ میرے چہیتے شاعر رہے ہیں۔ غالبؔ اور اقبالؔ کو میں نے جس انداز سے سمجھا اس کا اظہار مَیں ’’غالب اور آہنگِ غالب‘‘ اور ’’رُوحِ اقبال‘‘ میں کر چکا ہوں۔ عرصے سے خیال تھا کہ حافظ پر بھی کچھ لکھوں۔ گزشتہ چند برسوں میں جب ذرا فرصت ملی تو میں نے پھر سے حافظ کا مطالعہ شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ بہت سے امور میں حافظ اور اقبال میں مماثلت ہے۔ اگرچہ شروع میں اقبال نے حافظ پر تنقید کی تھی لیکن بعد میں اس نے محسوس کیا کہ اپنی مقصدیت کو مؤثر بنانے کے لیے حافظ کا پیرایہ بیان اختیار کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اس نے حافظ کے طرز و اسلوب کا شعوری طور پر تتبع کیا اور بعض اوقات جیسا کہ اس نے کہا ہے اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ حافظ کی رُوح اس میں حلول کر آئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ طرز و اسلوب میں وہ حافظ سے بہت قریب ہے۔ میں نے اس کتاب میں دونوں عارفوں کا تقابلی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ فنی اعتبار سے حافظ اور اقبال میں یہ خصوصیت مشترک ہے کہ انہوں نے عقل و وجدان کے ٹکرائو پر پوری طرح قابو پایا اور ان نفسی قوتوں کو کیمیا گری سے اپنے فن کا جز بنا دیا۔ دراصل شعور اور لاشعور انسان کی باطنی زندگی کے ایسے عناصر ہیں جنہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ممکن نہیں۔ان میں موافقت پیدا کرنے ہی میں دونوں استادوں کی عظمت مضمر ہے۔ کبھی کبھی ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسانی نفس کی یہ دونوں قوتیں ان کے یہاں آنکھ مچولی کھیل رہی ہوں اور قاری کو بھی اس کھیل میں شرکت کی دعوت دے رہی ہوں۔ عقل و وجدان اور شعور و لاشعور کی موافقت اور ہم کاری کے بغیر فنی ہیئت نہیں پیدا ہوسکتی اور فن کی ہیئت ہی فن کی وحدت ہے جو ریاضت کا ثمرہ ہے۔ اسی کی بدولت اسلوب اپنا آب و رنگ نکھارتا اور ہر قسم کے نفسی تضادوں کو اپنی وحدت میں تحلیل کر لیتا ہے۔ حافظ اور اقبال کی جمالیات کو اسی نقطہ نظر سے سمجھنا اور پرکھنا چاہیے۔

(یوسف حسین خاں)

RELATED BOOKS