Jane Eyre | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

JANE EYRE جین آئر

Inside the book
<span dir='ltr' class='left text-left'>JANE EYRE</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>جین آئر</span>

PKR:   800/-

Author: CHARLOTTE BRONTE
Translator: SAIFUDDIN HASSAM
Pages: 343
Year: 2021
ISBN: 978-969-662-360-1
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS
Publisher: Book Corner

عام طور پر ہر ناول کے واقعات ایک خاص کلائمکس کی طرف تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کلائمکس پر ناول کی دلچسپی اپنے انتہا پر پہنچی ہوتی ہے اور قاری اس میں پوری طرح ڈوبا ہوتا ہے۔ لیکن ’’جین آئر‘‘ میں محض ایک کلائمکس نہیں۔ اس میں تین واضح کلائمکس ہیں جو قاری کی توجہ اور استغراق پر پوری کمانڈ رکھتے ہیں۔ایسا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور یہ مہارت بہت کم مصنّفین کو حاصل ہوئی ہے۔ جین آئر سے پہلے شارلٹ برانٹے کا لکھا ہوا ایک مسودہ انگلستان کے ایک ممتاز پبلشر کی توجہ حاصل نہ کر سکا کیونکہ مصنفہ ایک ’گمنام‘ لڑکی تھی۔ لیکن جب ’’جین آئر‘‘ کا مسودہ اُس کے پاس پہنچا تو اگرچہ اُس نے بےدلی سے پڑھنا شروع کیا لیکن وہ اس میں اس حد تک ڈوب گیا کہ اس نے اگلے چوبیس گھنٹوں کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں اور ایک ہی نشست میں پورا ناول پڑھ ڈالا۔ نتیجۃً یہ لافانی شاہکار شائع ہوا اور شارلٹ برانٹے گمنامی سے نکل کر شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچی۔ پھر اس کا وہ ناول بھی طمطراق سے شائع ہوا جو پہلے پبلشر کو پسند نہ آیا تھا۔
- سیّد قاسم محمود

اب تک شاندار انداز میں لکھے گئے ناولوں میں سے ایک!
- سارہ واٹرز

ناول کےآخر میں ہم شارلٹ برانٹے کی قابلیت، شدتِ جذبات اور
غیر منصفانہ روّیوں پر اس کی برہمی میں ڈوب جاتے ہیں۔
- ورجینیا وُولف

فکشن کی دُنیا میں ’’جین آئر‘‘واحد اعلیٰ ترین کردار ہے۔ ذرا دیکھیے تو، اگرچہ وہ جین نام کی طرح سیدھی سادی ہے مگر اسے اپنی قدروقیمت، ذہانت اور قوتِ فیصلہ کا مکمل ادراک ہے۔ وہ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار رکھتی ہے۔ اتنی جرأت مند ہے کہ جبر اور ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی غلط کام کرنے کی بجائے وہ بیابانوں میں اکیلے چلے جانے اور موت قبول کرنے کوبھی تیار ہے۔ کیا شاندار ناول ہے ! کیاشاندار لڑکی ہے!
- سُوزن آئزک


یتیم جین کا بچپن خوش گوار نہیں ہے مگر اس کے کردار کی مضبوطی اور جرأت اسے ظالم ممانی اور سخت گیر سکول کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت دیے رکھتے ہیں۔ تاہم اس کی زندگی کا سب سے سخت مرحلہ ابھی آنا باقی ہے۔ ایک پُراسرار گھر میں گورنس کی نوکری کے بعد گھر کے مالک سے جذباتی وابستگی بالآخر جین کو مجبور کرتی ہے کہ
وہ اپنے نظریات اور جذبات میں سے کسی ایک کو قربان کر دے....کیا جین کو محبّت کی خاطر اپنے حالات
سے سمجھوتا کرلینا چاہیے؟ یا اپنے ماضی کی طرح اب بھی وہ حالات سے مقابلہ جاری رکھے؟
-ایڈیٹر

ناول نگار:
شارلٹ برانٹے (21 اپریل 1816ء - 31 مارچ 1855ء) مشہور برطانوی مصنفہ، اپنے ناول ’’جین آئر‘‘ کی وجہ سے عالمی شہرت کی حامل، برانٹے سسٹرز
میں سب سے بڑی بہن، باپ پیٹرک برانٹے پادری تھا، ماں بچپن میں ہی گزر گئی، پرورش باپ اور خالہ( الزبتھ) نے مل کر کی۔ 1824ء میں لنکاشائر کے ایک سکول میں اپنی بہنوں کے ہمراہ داخلہ لیا۔ یہی سکول بعد میں ’’جین آئر‘‘ میں مذکور ’’لوؤڈ سکول‘‘ کی بنیاد بنا۔ ایک سال بعد وبا پھیلی تو سکول چھوڑ کر واپس یارک شائر میں اپنے گاؤں ہاوَرتھ چلی آئی جہاں والد نے گھر پر ہی بچیوں کی تعلیم کا انتظام کر دیا۔ یوں برانٹے سسٹرز کے مل کر پڑھنے اور کہانیاں لکھنےکا آغاز ہوا۔ 1825ء میں دوبڑی بہنوں (ماریا اور الزبتھ) کا وبا کے باعث انتقال ہو گیا۔ وبا ختم ہوئی تو شارلٹ کو رَوہیڈ کے سکول میں بھیجا گیا جہاں کچھ عرصہ بعد اس نےبطور ٹیچر ملازمت کا آغاز کیا مگر سکول میں حفظانِ صحت کے ناقص حالات نے جلد ہی اسے سخت بیمار کر دیا اور یوں ملازمت ترک کرنی پڑی۔ بھائی برانوَل نے اپنے آرٹ کے شوق اور نشے کی لت میں برانٹے گھرانے کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا، مجبوراً شارلٹ کو ایک جگہ گورنس کا کام کرنا پڑا اور برانٹے سسٹرز کا اپنا سکول بنانے کا خواب، خواب ہی رہ گیا۔ خالہ کو جب علم ہوا تو اپنی تمام جمع پونجی اس کام کے لیے پیش کر دی۔ سکول کی خشتِ اوّل کے طور پر شارلٹ اور ایملی، فرنچ اور جرمن زبانیں سیکھنے برسلز پہنچیں۔ اس قیام کے دوران شارلٹ کو صحیح معنوں میں اپنی ذات کی شناخت کا موقع ملا جس کا نتیجہ بعد ازاں ’’جین آئر‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ وطن واپسی ہوئی، سکول کا آغاز کیا مگر چھوٹا قصبہ ہونے کے باعث سکول بند کرنا پڑا، یوں برانٹے سسٹرز کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ شارلٹ کی بہنیں چھپ کر لکھا کرتی تھیں۔ ایک روز ان کی قلمی بیاضیں شارلٹ کے ہاتھ لگ گئیں۔ جس کےبعد تینوں برانٹے سسٹرز نے اپنا شعری مجموعہ فرضی ناموں سے شائع کروایا۔ یہ شعری مجموعہ بھی سکول کی طرح ناکام ہوگیا۔ مگران بہنوں نے ہمت نہ ہاری اور ناول لکھنے کی جانب متوجہ ہوئیں۔ یوں 1847ء میں ’’جین آئر‘‘ کا ظہور ہوا جو چھپنے کے فوراً بعد زبردست مقبول ہوگیا۔ مگر اس ناول کی اشاعت کے بعد شارلٹ کی زندگی میں خوشیاں کم ہی رہیں۔ جوان بھائی برانوَل کی موت ہوئی تو تین ماہ بعد جوان بہن ایملی بھی بھائی کے پیچھے چل دی۔ اگلے سال سب سے چھوٹی بہن این بھی گزر گئی۔ شارلٹ تو بالکل تنہا رہ گئی۔ رشتوں سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر ایک سیدھے سادے شخص کےساتھ اپنی پسند کی شادی میں منسلک ہو گئی۔ کچھ ماہ بعد ناول ’’ایما‘‘ کا آغاز کیا، مگر قدرت کو اس ناول کی تکمیل منظور نہ تھی۔ شارلٹ دورانِ زچگی اپنی 39ویں سالگرہ سے تین ہفتے پہلے اس دُنیا سے رخصت ہو گئی۔ ’’جین آئر‘‘ کے علاوہ ’’شرلی‘‘،’’وِیلیٹ‘‘،’’دِی پروفیسر‘‘ اور نامکمل ناول ’’ایما‘‘ شارلٹ کی یادگاریں ہیں۔

مترجم:
سیف الدین حسّام اُردو کے ممتاز ادیب، مترجم اور دست شناس ۔ گھرانے کا تعلق لدھیانہ، مشرقی پنجاب سے جو تقسیم کے بعد جہلم آباد ہو گیا۔ 1949ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کیا۔ مالی حالات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے اور جہلم واپس لوٹ آئے۔ یہاں کچھ عرصہ والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹایا۔ چار سال تک کھیوڑہ نمک کی کان میں کام کرتے رہے، شاید اسی لیے ان کا لکھا شیریں کم اور نمکین زیادہ ہے۔ مالی آسودگی نصیب ہوئی تو پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ 1958ء میں دریائے جہلم کے پانیوں میں پاؤں لٹکا کر بی اے آنرز کی تیاری کی اور یونیورسٹی بھر میں اوّل رہے۔ ایم اے اُردو اور ایم اے انگریزی کے بعد روزگار کی خاطر بغیر کسی استاد کے شارٹ ہینڈ رائٹنگ سیکھی اور پھر سٹینوگرافی میں درجۂ کمال کو پہنچے۔ اسی دوران پامسٹری سے دلچسپی پیدا ہوئی جو رفتہ رفتہ جنون کی حد تک بڑھ گئی۔ پانچ برس تک قومی ڈائجسٹ لاہور میں دست شناسی کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے جو قارئین میں بے حد مقبول ہوئے۔ بعد ازاں یہ مضامین ’’ہتھیلی کی زبان‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ جہلم سے ’’غبار‘‘ کے نام سے ایک مختصر ادبی رسالے کا اجرا بھی کیا جو اپنے اختصار کے باوجود سیاسی، صحافتی اور ادبی اہمیت کا حامل تھا۔ ’’غبار‘‘ کے اداریے میں عموماً سیاسی یا اخلاقی مسائل کو موضوعِ تحریر بنایا کرتے۔ اُردو تراجم کے حوالے سے بھی قابلِ قدر کام کیا اور انگریزی ناولز ’’جین آئر‘‘ اور ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ کےمعیاری ترجمے کیے۔ ’’جین آئر‘‘ کے ترجمے میں عرق ریزی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس ترجمے کے دوران انھیں نظر کی عینک لگوانا پڑ گئی۔ بہت سی کتابیں بچوں کے لیے بھی لکھیں جو چھپ کر داد پاتی رہیں۔ 4 مارچ 1995ء کو دُنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔

RELATED BOOKS