Kacha Chatha | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

KACHA CHATHA کچا چٹھا (آپ بیتی شوکت تھانوی)

Inside the book
KACHA CHATHA

PKR:   700/- 525/-

Author: SHAUKAT THANVI
Pages: 376
Year: 2018
ISBN: 978-969-662-120-1
Categories: HUMOUR AUTOBIOGRAPHY
Publisher: Book Corner

سچ بولنا دُنیا میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ تمام دُنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھتے جائیے۔ مصیبت میں آ پ ان ہی کو مبتلا پائیں گے جو سچ بولنے والے گزرے ہیں۔ قانون ان ہی کے خون کا پیاسا ہوجاتا ہے۔ جھوٹ بولتے رہیے ،دھوکے دیتے رہیے، بے ایمانیاں کیے جائیے۔ مگر سب کومطمئن رکھیے کہ آپ نے یہ کچھ نہیں کیا ہے۔ سب مطمئن رہیں گے۔ زندگی بھر کی ایمانداری کے بعد ایک بے ایمانی کر لیجیے، مقدمہ چل جائے گا، سزا ہوجائے گی۔ چور چوری کر کے بھاگ جاتا ہے اور شاہ بنا پھرتا ہے۔ ساہوکار کے حساب میں ذرا سی غلطی ہوجاتی ہے، خیانت میں پکڑا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پیش کر دیں۔ اب یہ کہنے والا کوئی بھی نہ ہوگا کہ خدا نے اس کو سچ بولنے کی توفیق عطا کی۔ کوئی کہے گا،’’سن لیا آپ نے یہ جو آپ کے شوکت تھانوی ہیں، اعلیٰ درجہ کے جواری واقع ہوئے ہیں۔‘‘کسی طرف سے آواز بلند ہوگی،’’بدمعاشیوں کے سوا اورکچھ کیا ہی نہیں۔‘‘کوئی صاحب فرمائیں گے،’’بے حیائی اور ڈھٹائی ملاحظہ ہوکہ کس صفائی سے اپنا اعمال نامہ پیش کیا ہے۔‘‘ اور بیوی اپنے پھولے ہوئے رُخ روشن پر اپنے آنسوئوں کا انتظار کرتے ہوئے ایک ٹھڈی سانس لے کر کہیں گی، ’’واری قسمت شکر ہے خداوند تیرا۔‘‘ بیوی بہت زیادہ تو خیر خوش نہیں ہیں۔ اس لیے جو کچھ ان کے علم میں ہے، اسی کو وہ بدنصیبی کے لیے کافی سمجھتی ہیں۔ مگر ان کا شوہر یہ سچ نہ بولتا تو وہ اپنے کو اتنا ہی بدنصیب سمجھتی رہتیں اور اب تو ان بےچاری کی بدبختیوں کاکوئی ٹھکانہ ہی نہ رہے گا۔ اس لیے کہ ان کے شوہر میں اور تو سب عیب تھے ہی، یہ کمبخت تو چور کے علاوہ سینہ زور بھی نکلا۔ بے شرمی کی حد کردی، سب کچھ لکھ کر چھاپ دیا کہ بیوی جلتی ہو تو جی کھول کر جلو۔ تم ہمارا کر ہی کیا سکتی ہو۔ ہم نے جو کچھ کیا خُوب ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ یہ کیا، یہ کیا اور یہ کیا۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تمام موٹے موٹے واقعات سامنے آجائیں چھپانے اور دبانے کی کوشش محض ان واقعات کے سلسلہ میں کی گئی ہے جن سے ہمارے علاوہ کسی اور کو کسی قسم کانقصان پہنچ سکتا تھا۔ ہم نے تو خیر اوکھلی میں سرڈال ہی دیا ہے مگر گیہوں کے ساتھ گھُن کیوں پسیں۔ لہٰذا اس قسم کے واقعات اگر بیان بھی کیے ہیں تو فریق ثانی کا نام لیے بغیر ظاہر کیے ہیں اس لیے کہ روشنی میں ہم خود آنا چاہتے ہیں کسی اور کی لغزشوں پر روشنی ڈالنا مقصودنہیں۔ پھر بھی اگر کسی کو اس کتاب کی اشاعت کے بعد ہم سے کوئی شکایت پیدا ہو تو ہم نہایت شرافت کے ساتھ معذرت خواہ ہونے کی پوری کوشش کریں گے۔

شوکت تھانوی

USER RATINGS

RATE THIS BOOKS

Tell others what you think

RELATED BOOKS