Kamari Wala | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

KAMARI WALA کماری والا

Inside the book
KAMARI WALA
Inside the book

PKR:   1,200/- 900/-

Author: ALI AKBAR NATIQ
Pages: 640
Categories: NOVEL
Publisher: Book Corner
★★★★★
★★★★★

ناطق کے لیے اب یہ حکم لگانا مشکل ہے کہ اُن کی اگلی منزل کہاں تک جائے گی کہ ہربار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے تمام کام میں تازگی ہے، روایت اور تاریخ کا شعور حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ جس طرح اُن کا شعر اور پھر فکشن میں کام ہے۔ اِس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نگار بھی ہیں اور ناولسٹ بھی۔ اُن کےفکشن میں پنجاب کی سرزمین میں غیرمعمولی دلچسپی اُن کے بیان میں غیرمعمولی مہارت کا ثبوت دیتی ہے۔ ناطق کی نثر سے مکالمہ اور بیانیہ کے نامانوس گوشوں پر اُن کی قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ناطق کے فکشن کا قاری خود انسان اور فطرت کے پیچیدہ رشتوں، انسان اور انسان کے درمیان محبت اور آویزش کے نکات سے بہرہ اندوز ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ علی اکبر ناطق سے اُردو ادب جتنی بھی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کرے، نامناسب نہ ہو گا۔ اِن کا سفر بہت طویل ہے، راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں۔
شمس الرحمٰن فاروقی

علی اکبر ناطق کا فکشن حقیقت اور کہانی کے پیچیدہ پہلوؤں کو سامنے لے کر آتا ہے۔ وہ دیہات اور اُس کے کرداروں کی بازیافت کا آدمی ہے اور حقیقی طور پر سن آف سوئل ہے۔ وہ احمد ندیم قاسمی کی طرح دیہات کا رومان پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے کرداروں کو حقیقت کی زندگی عطا کرتا ہے۔
انتظار حُسین

علی اکبر ناطق ایک عجیب سا لااُبالی نوجوان ہے جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اگلے لمحے آپ کا دُشمن ہو جائے یا فوراً ہی آپ کو گلے لگا لے لیکن یہ طے ہے کہ افسانے، ناول یا شاعری میں اس کی صلاحیتیں بلاخیز ہیں۔ اس کا افسانوی مجموعہ ’’شاہ محمد کاٹانگہ‘‘ ایسا ہے کہ اُردو ادب کا ایک سراسر نیا رُوپ اس میں سواری کرتا نظر آتا ہے۔
مستنصر حُسین تارڑ

جب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خُوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قِصّہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔
فہمیدہ ریاض

علی اکبر ناطق کے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے مجھے ایسا جکڑا کہ ایک ہی نشست میں تقریباً ساڑھے چار سو صفحات کی یہ کتاب پڑھ گیا، بیچ میں کھانا وغیرہ کھایا ہو تو میں اس کی قسم نہیں دیتا۔ ناطق کے ناول نے مجھے حیران تو نہیں کیا کیونکہ وہ اپنی شاعری اور افسانہ نگاری کی دھاک پہلے ہی بٹھا چکا تھا، البتہ پریشان ضرور کیا کہ ^
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی
ظفر اقبال

’’فقیر بستی میں تھا‘‘ پڑھتے ہوئے گمان تک نہیں ہوتا کہ ہم آزاد کو نہیں، علی اکبر ناطق کو پڑھ رہے ہیں۔ آزاد پر یہ کتاب پچھلے سو سال میں واحد کتاب ہے جو واقعی اپنے موضوع اور اسلوب کے حوالے سےپڑھنے کے قابل اور لائق تحسین ہے۔ ناطق نے مولانا محمد حسین آزاد کا قلم مستعار لے کر یہ کتاب لکھی ہے۔
احمد جاوید

علی اکبر ناطق دیہی زندگی کی ایسی منظرکشی کرتے ہیں کہ پڑھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ تحریر پڑھتے جائیں، آنکھوں کے سامنے فلم چلتی جائے گی۔ ان کے پہلے ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے اُردو فکشن میں ان کے بلند مقام کا تعین کردیا ہے۔ ناطق ہمارے ہی دور کے نوجوان ہیں اس لیے ناول پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے کتنی خوبی سے انگریز سرکار کے نمائندوں کی ذہنیت، سکھ رعایا کی معاشرت اور مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ ناول کی نولکھی کوٹھی اوکاڑہ میں واقع ہے۔ اسی اوکاڑہ میں، جہاں علی اکبر ناطق نے جنم لیا۔
مبشر علی زیدی

جب ایک فن کار کمال کو پہنچتا ہے تو وہ جو فن پارہ تخلیق کرتا ہے وہ اس فن کار سے علیحدہ اپنا تشخص اختیار کر لیتا ہے۔ اس مقام پر فن کار اور فن پارہ دو لوگ ہو جاتے ہیں۔ فن پارے کے کردار آزاد ہو جاتے ہیں، ان کی بود و باش، مزاج اور شخصیت فن کار کی قید سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی بستیاں اپنے فطری ارتقا سے متنوع اور منفرد ساخت اختیار کرتی ہیں، فن پارے کا ماحول اور اس کی ثقافت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ اس منزل پر وہ فن کار کے بجائے ایک قاری، ایک ناظر، ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فن کار کرداروں کی فطرت اور مزاج کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لطیف مقامِ تخلیق تک خوش نصیب مہا فن کار ہی پہنچ پاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں تخلیق کار چھو کر مٹی کے باوے زندہ کر دے، سیاہ و سفید الفاظ میں بکھری دُنیا کو رنگین گُل و گُل زار کر دے، اوراق میں لپٹی خاموشی کو زبان دے دے اور قاری کو ایک جہانِ رنگ و بُو کے بیچ لا کھڑا کرے، اس مقام پر گاہے تخلیق کار کی ذات کا پَرتو تخلیق پر پڑتا ہے اور گاہے تخلیق کا رنگ خالقِ فن پر اُترتا ہے، البتہ گاہے گاہے، کہ یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کے تخلیق وفور کے سرکش، سر پٹکتے، اُچھلتے، چھینٹیں اُڑاتے دریا نے ’’کماری والا‘‘ کی تخلیق کے بعد ایک پُرسکون، لامتناہی، گہرے، بھید بھرے سمندر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس ناول نے اسے اُردو ادب کے ان چند اعلیٰ ادیبوں میں شامل کر دیا ہے جو مذکورہ لطیف مقامِ کمال تک جاتی راہ کے قافلے کے مسافر ہیں، وہی مقام جہاں فن پارہ فن کار کی قید سے آزاد ہو کر ضوفشاں ستارہ بن جاتا ہے۔
عرفان جاوید

USER RATINGS

RATE THIS BOOK

Tell others what you think

Reviews

I

Imran ali (Rawalpindi)


C

Chandu Awan

کمال کا ناول ہے 10 /10 special Thank ♥ Ali Akbar sir😍


R

Rashid Butt

"بڑی کہانیاں ان لوگوں پر نازل ہوتی ہیں جو انہیں سنا پائیں". گزشتہ دہائی میں اپنی شاعری، افسانوں اور ناولوں کے ذریعے اردو ادب میں منفرد مقام بنانے والے علی اکبر ناطق کہانی سنانے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔
گزشتہ سال کے اختتام پر ان کا دوسرا ناول کماری والا منظر عام پر آیا۔ اس ناول کے شائع ہوتے ہی اسے قارئین میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہیں بعض احباب اس پر تنقید کے نشتر چلاتے نظر آئے۔ کچھ نے ناشر پر اس کی بلاوجہ کی تشہیر پر انگلیاں اٹھائیں اور کچھ نے اس کی طوالت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کوئی کہانی کے پیچھے تھا تو کوئی کرداروں کے۔ کمرشلائزیشن کے اس دور میں جہاں چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی الیکٹرونک اور سوشل میڈیا سے ہم تک پہنچتی ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کتاب خاموشی سے شائع ہو اور بک شیلفس پر رکھ دی جائے یا کوئی ایک آدھا مضمون کسی اخبار میں شائع ہو جائے اور بس۔ ذرا ٹھہرئیے اور ترقی یافتہ ممالک کے ادبی منظرنامے پر نظر ڈالیئے۔ حال ہی میں بکر انٹرنیشنل انعام کی شارٹ لسٹ کا اعلان ہوا ہے۔ میں حیران ہوں چند گھنٹے بعد اس شارٹ لسٹ کی چھ میں سے چار کتابیں ریڈنگز کی ویب سائٹ پر شارٹ لسٹ کے ٹیگ کے ساتھ موجود ہیں۔ وہاں کے پبلشر اپنی کتاب کی بھرپور تشہیر کرتے ہیں۔ اور پوری دنیا تک اس کی رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔ مختلف شہروں میں لکھاریوں کے ساتھ آٹوگراف/ریڈنگ سیشن رکھے جاتے ہیں اور مختلف انعامات کے لیئے نامزدگی حاصل کرنے لیئے باقاعدہ مہم چلائی جاتے ہے۔ جب کہ یہاں ہم اسے بھی تنقید کے زاویے پر پرکھتے ہیں۔ خیر ایسے ٹرینڈز اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ ہر قاری کو اپنی پسند اور ناپسند کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن اسے دوسرے پر تھونپنا سراسر زیادتی ہے۔ زیادہ نہیں تو ہر سال بڑے انعامات جیسا کہ بکر انعام، بکر انٹرنیشنل انعام، پلتزر انعام، ڈبلن لٹریری انعام کے لیئے نامزد ہونے والے ناولوں کا ہی جائزہ لیں، ان پر آپ کو ہر بڑے اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکلز باقاعدہ آن لائن میسر آئیں گے۔ جن میں ان کے مکمل تنقیدی جائزے کے ساتھ تعریف اور تنقید موجود ہوتی ہے۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسے ناول انعام جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جنہیں نقاد مسترد کر چکے ہوتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں کسی بھی ادب پارے کی عمر اور مقام کا تعین نقاد نہیں، قارئین کرتے ہیں۔
بات طویل ہو گئی، واپس آتے ہیں "کماری والا" کی طرف۔ تین نسلوں کی کہانی سناتا یہ ناول اس دورانیے میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو قاری کے لیئے پیش کرتا ہے۔ کس طرح اس عرصے میں جہاں محبت اور انسیت کے اظہار کے طریقے بدلے، وہیں نفرت کے طریقے بھی بدل گئے۔ جہاں اس ناول میں شہروں اور دیہاتوں کے تبدیل ہوتے انفراسٹرکچر کو دکھایا گیا ہے۔ وہیں مذہبی عدم برداشت اور فرقہ واریت کو پروان چڑھتے بھی دکھایا گیا ہے۔ کس طرح نوجوانوں کو جہاد کے نام پر پرائی آگ میں دھکیلا جاتا رہا۔ بیوروکریسی کی کرپشن سے لے کر مل مالکوں اور مزدور تنظیموں کے ہاتھوں اپنے ہی ساتھیوں کا استحصال بھی یہ ناول قاری کے گوش گزار کرتا ہے۔ علی اکبر ناطق نے جس باریک بینی سے منظرنگاری اور کردارنگاری پر توجہ دی ہے، قاری کے لیئے کتاب کو مکمل کیئے بغیر ہاتھ سے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ابتداء سے لے کر نصف ناول اور اس کے بعد تک جس طرح ناول کے کردار بکھرتے ہیں اور اس کا کینوس وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، نئے کردار امڈتے آتے ہیں۔ یہ سوال جڑ پکڑتا ہے کہ یہ کردار اختتام پر کدھر جائیں گے۔ لکھاری نے تمام کرداروں اور ان کی کہانیوں کو آخر میں ایک لڑی میں بخوبی پرویا ہے۔
عدیلہ۔۔۔زینت۔۔۔شیزا۔۔۔کس طرح یہ تین عورتیں مرکزی کردار ضامن کی زندگی پر حاوی ہوتی ہیں، بلکہ یوں کہیں کہ اسے ڈرائیو کرتی ہیں، کس طرح وقت کا پہیہ ضامن کو زمانے کی دھول چٹاتا ہے اس کے لیئے اس ناول کو پڑھنا ضروری ہے۔ چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس ناول پر طویل تعارفی تحریر لکھی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بعد میں پڑھنے والے قارئین کی دلچسپی کو متاثر کر سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اتنی طوالت کے باوجود اس کتاب کی مقبولیت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر کہانی جاندار ہو تو پھر اس کا طویل یا مختصر ہونا اہمیت کھو دیتا ہے۔ نامور برطانوی ادیب فلپ پلمین نے کہیں کہا تھا "خوراک، رہائش اور رفاقت کے بعد، کہانیاں ایسی چیز ہیں جن کی ہمیں دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت ہے"۔ اس ضرورت کو خوبصورتی کے ساتھ بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے اور پہلی اشاعت کے چند ہفتے بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔


M

Muhammad Zahid Iqbal (Bahawalpur)

یہ امر تو طے شدہ ہے کہ کتاب ایک بہترین دوست ہے مگر جہاں دور جدید نے ترقی یافتہ معاشروں میں کتاب کی اہمیت کو اجاگر کیا وہاں ایک ترقی پذیر معاشرے میں ایسی محاذ آرائی کو جنم دیا ہے جہاں کتاب کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے شاید کئی عشرے درکار ہوں گے۔ ترقی یافتہ معاشرے کے قاری کے برعکس ترقی پذیر معاشرے کے قاری کو ایک اچھی کتاب ڈھونڈنے کے لیے کس محنت شاقہ سے گزرنا پڑتا ہے وہ اسی کو ہی پتہ ہوتا ہے۔
ایسے معاشرے میں اگر قاری کو گھر بیٹھے ایسے دوست(کتاب) کی رفاقت میسر آجائے تو کسی بھی نعمت سے کم نہیں۔ اللہ پاک کا احسان ہے کہ اس دور جدید کی گہما گہمی میں ایک ایسا ادارہ 'بک کارنر اور شوروم جہلم' کے نام سے موجود ہے جو نہ صرف کتابوں کی بقاءکی جنگ لڑ رہا بلکہ اس ترقی پذیر معاشرے میں ایک کامیاب جنگ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔اس ادارے کی اس جدوجہد کو اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت عطا فرمائے آمین۔


I

Ilyas Tayyab

سوپر سٹوری ہے کماری والا کی زبردست


Q

Qaisra Shafqat (Islamabad)

میں ابھی جب اپنی کل رات کی ایک پوسٹ جو “کماری والا” ناول پر لکھی اُس کو اچانک ہاتھ لگا ڈیلیٹ مار بیٹھی! میں کتاب جو پسند آجائے جب پڑھنا شروع کرتی ہوں تو بہت چاؤ اور دل سے۰۰۰۰۰پڑھتی ہوں - اور اپنی رفتار سے کلاسرہ صاحب والی رفتار مجھ میں آجائے ، حسرت ہے پر ہو نہیں سکتی-
جب میں سُست رُو کتاب ختم کرتی ہوں تو مجھ پر جو اُس کے اثرات ہوتے ہیں - کوئی کتاب تو دنوں اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے -
اور میں جو اثر وصول کرتی ہوں لوٹا دیتی ہوں-جیسے رؤف کلاسرہ کی کتاب گمنام گاؤں کا مزار ، شاہ جمال کا مجاور، زنگار و زنگار نامہ، حفیظ خان کا انواسی، ڈان بہتا رہا، اور کل جب کُماری والااختتام پذیر ہوا کےاب ہاتھ میں لئے کتاب پر ہاتھ پھیرتی رہی، گویا میں اُس کے کرداروں چُھو رہی ہوں- اس کتاب میں بھی ایک جہاں آباد ہے - بارہ کروڑ کا صوبہ پنجاب کے گاؤں اور پھر اسلام آباد کے جو خدوخال بیان ہوئے ،الامان و الحفیظ۰۰۰۰۰
پھر میں
دل کی تَسلی کے لئے اپنی کتاب “قصّہ چار نسلوں کا / میرے چند اُداس کاغذ “ لے کر پڑھنے لگی کہ کچھ ہلکا پھلکا موضوع پڑھ کر دل ودماغ کو شانت کروں-
اور اسی کشمکشِ حیات میں فجر ہوگئی - سَر جھکایا اور سجدے ادا کر کہ سوچنے لگی ، یہ رَبّ تعالی کتنے جلدی راضی ہوجاتا ہے-
ہم خواہ مخواہ ادھر اُدھر کی سختی جھیلتے ہیں - رَبّ سوہنڑا تو بس جیسے سارے حساب کتاب اپنی جگہ۰۰۰۰ ایسا ہماری طرف مائل ہوتا ہے ، ایسا باخبر ہے ایک پَل ہم انسانوں کو آنکھ سے اوجھل نہیں رکھتا ۰۰۰۰۰ ٹبہ ولی بخش کے طلال اور خانیوال کے قرئبی گاؤں کے ضامن علی اسلام آباد کے ایف سیکٹر کی شیزا اور ذیشان سب کی زندگیوں اور اُن سے متعلقہ حالات و انجام کو خوب جانتا ہے-
کیسے ٹبہ ولی بخش کے زمینداروں اور ضامن کے گاؤں کےآغواکاروں نےناول کماری والا کےاندر کی دُنیا بدل ڈالی-
علی اکبر ناطق کا قلم بہت چونکا دینے والی کہانی لکھ چکا- جو رومان و عذاب دونوں ساتھ ساتھ چلا رہی ہے!


M

Muhammad Zahir Anwar (Karachi)

ایک منفرد کہانی، اچھوتے موضوع اور مضبوط پلاٹ کا شاندار ناول،،، برسوں اپنے سحر میں جکڑے رکھے گا،، انداز بیان باکمال تو منظر کشی اور جزئیات نگاری لاجواب،،، برسوں بعد ایسا عمدہ، جاندار اور تگڑا ناول پڑھنے کو ملا،،


M

Muhammad Waseem Shahid (Quetta)

اس عمدہ ناول کی اشاعت پر جہلم بک کارنر، جناب گگن شاہد اُن کے بھائی امر شاہد صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اُنھوں نے ادب دوست لوگوں کو ایک لاجواب تحفہ عنایت کیا۔شنید میں آیا تھا کہ اِس ناول کا پہلا ایڈیشن ایک ماہ میں ختم ہوگیا تھا۔ پہلے میں اسے گپ سمجھا تھا مگر اب ناول کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔


B

Bellà Khan

علی اکبر ناطق کا ناول کماری والا کل رات ختم کیا ، لیکن جس کیفیت سے اختتام پر دو چار ہوئی وہ بس۔۔۔ ۔۔ یوں لگتا ہے کانٹوں کا سفر طے کیا لیکن درد کا کوئی اختتام نہیں ۔۔
ایک طویل ناول جس میں کئی کردار ہیں ، جس میں آپ پر تجسّس کامرض لاحق ہوجاتا ہے او آپ سپیڈ اپ ہوجاتے ہیں یوں ناول کو ختم کرنے کا عرصہ طویل سے مختصر ہوجاتا ہے ۔۔ اس ناول کے سارے کردار لٹے ہوئے کردار ہیں ، مصائب کے صحرا میں پیاسے مسافر ہیں
جتنے بھی ناول میرے ذہن میں محفوظ ہے اگر میں صحیح کہوں تو کسی ناول میں کوئی کردار ادھورا یا کسی کی کہانی ادھوری رہ جاتی ہے لیکن اس ناول میں ہر کردار کا آغاز او انجام ہے یہ ایک نہایت قابل رشک بات ہے۔ نہایت ہی سادہ الفاظ میں علی اکبر ناطق نے پوری کہانی پر کیسے گرفت ڈالا ہوا ہے بہت ہی حیران کن بات ہے اور بہت ہی شاندار ۔۔
اس ناول میں ایسے نازک موضوعات زیر بحث یے جو شاید کسی اور ناول میں ہو ، پاکستان کے سیاسی نظام ایک غم ناک اور آنکھیں کھولنے والی عکاسی ، معاشی نظام اور اس میں پروان چڑھتا بے انصاف معاشرہ ، جاگیر دارانہ نظام کی بد صورتیاں( لالچ او حرص میں اندھا ایک شخص جس کی وجہ سے کئی زندگیاں برباد ہو جاتی ہیں )تعلیمی نظام کی پسماندگی اور اس میں نا اہل لوگوں کا اشتراک، اس میں غرق ہوتے ہوئے معصوم بچے ، عورت تاریخ کی ایک لاچار مخلوق جس کی لاچارگی کا سبب ظالم معاشرتی سلوک ہے ۔
زندگی کی گہرائیوں کو بیان کرتا یہ ناول عدیلہ سے شروع ہوکر شیزا کے موت پہ ختم ہوئی ہے ،اور اس جستجو کے سفر میں ضامن کیا کچھ نہیں دیکھتا
کیسے وہ بچپن سے جوانی کے مراحل طے کرتا ہے بہت ہی خوبصورتی او عمدگی سے قلم بند کیا ہے ۔
اعلی طبقوں کی زندگی اوراس میں ناچتے پھرتے لاشعور لوگ ، کچی بستیوں کی زندگی ، ادیبوں کی زندگی ، صحافت کی دنیا ، خفیہ ادارے اور اس میں شیطان لوگ ، سیکس کا کاروبار اور اس میں انسان نما کھلونے اور ایسے کئی دوسرے معاملات کو اس ناول میں ایسے عمدگی سے بیان کیا ہے جو شعور کی تہوں تک جاکر احساس کے دروازے کھولتا ہے ۔ ایسے پہلوؤں کی نشاندھی ہے جس پر آپکی آنکھوں سے آنسو خود بخود جاری ہوجاتی ہیں۔۔
بیلا خان 🤍🤍


M

Muhammad Shehroz

Excellent story.


RELATED BOOKS