KARAMAZOF BRADARAAN (URDU) کرامازوف برادران

Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu) Karamazof Bradaraan (Urdu)
<span dir='ltr' class='left text-left'>KARAMAZOF BRADARAAN (URDU)</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>کرامازوف برادران</span>

PKR:   2,500/-

Author: FYODOR DOSTOEVSKY
Tag: SHAHID HAMEED
Pages: 1432
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-307-6
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL

1880ء- دسمبر میں یہ ناول ’’نقیب رُوس‘‘ رسالے کے صفحات سے نکل کر کتابی شکل میں چھپا اور اس کی دھوم مچ گئی۔
2002ء- شاہد حمید نے کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد اس عظیم ناول کو اُردو قالب میں منتقل کیا اور اسے لاہور سے شائع کروایا۔
2020ء- اس عظیم کام کو عرصہ دراز سے نایاب اور کم یاب تصور کرتے ہوئے ادارہ بک کارنر جہلم نے شاہد حمید کی اولاد رفعت مقصود(انگلینڈ)،
ڈاکٹر خالد حمید (پاکستان) اور طاہر حمید (آسٹریلیا) کی تحریری اجازت سے جدید طباعت کے ساتھ شائع کیا۔

---

کتاب: کرامازوف برادران
مصنف: فیودور دستوئیفسکی
مترجم: شاہد حمید
تزئین و زیبائش: اُم ہادیہ
سرورق: ابواِمامہ
سرورق مصور: وسیلی پیروف (رُوس)
خطاط: احمد علی بھٹہ
کتابت: نُوری نستعلیق، ثقل مجلّہ
ناشر: بک کارنر، جہلم

---

فیودور میخائل دستوئیفسکی 11 نومبر 1821ء میں ماسکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ایک ڈاکٹر تھے، لیکن گھریلو حالات خوشحال نہ تھے۔ بچپن ہی میں دستوئیفسکی کو غربت کا منہ دیکھنا پڑا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے فوجی سکول کے انجینئرنگ کے شعبے میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گیا۔ چند برسوں کے بعد دستوئیفسکی نے فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا سارا وقت تصنیف و تخلیق کے لیے وقف کرنا چاہتا تھا۔ اس کا پہلا ناول ’’بےچارے لوگ‘‘ شائع ہوا تو اس عہد کے عظیم رُوسی نقاد بیلسنکی نے اسے ’’عظیم ادیب‘‘ کا خطاب عطا کر دیا تھا۔ رُوسی نقادوں نے بدلتے ہوئے تقاضوں اور حالات کے تحت، بالخصوص انقلابِ رُوس کے بعد کے کچھ برسوں میں اس سلسلے میں کچھ نظرثانی کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے یہ خطاب چھینا نہ جا سکا۔ اس کے ناولوں نے اسے رُوسی انشاء پردازوں کا سرتاج بنا دیا تھا۔ دُنیائے اَدب کا لازوال ناول نگار اور ناول نگاری کے فن کو جِلا بخشنے والا دستوئیفسکی، سینٹ پیٹرز برگ میں 9 فروری 1881ء میں انتقال کر گیا۔ اس کی عظمت کا یہ ادنیٰ ثبوت تھا کہ اس کا جنازہ اس شان سے اُٹھا جس پر بادشاہ بھی رشک کر سکتے تھے۔ اگر دُنیائے ادب کی تقسیم مقصود ہو تو کہا جائے گا کہ ادب کے دو اَدوار ہیں، ایک دستوئیفسکی سے پہلے کا ادب اور ایک دستوئیفسکی کے بعد کا ادب۔

---

’’کرامازوف برادران‘‘(1880ء) دستوئیفسکی کا آخری ناول ہے، جسے دُنیا کے ہر نقاد نے عظیم ترین ناولوں میں شمار کیا ہے۔ ناول کا ہیرو الیوشا رُوسی قوم، رُوسی مذہب اور مذہبیت کی اعلیٰ ترین پیداوار ہے اور اسے اپنی سرزمین اور ماحول سے بہت گہرا اور سچا لگائو ہے۔ اس کی سیرت اور وہ اصول جن پر وہ تعمیر کی گئی ہے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دستوئیفسکی بغاوت، انکار اور شک کے تمام مراحل طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ گیا تھا۔ اس کا ناول وہ طوفان برپا کر دیتا ہے، جس سے پرانی دُنیا بگڑتی اور نئی دنیا بنتی ہے۔ 1958ء میں ہالی ووڈ نے اس ناول پر فلم بھی بنائی جس میں یوئل برینر نے میٹسا کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ ناول دستوئیفسکی کی موت سے کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا، لیکن اپنی اس موت سے پہلے بھی دستوئیفسکی ایک بار موت کا مزہ چکھ چکا تھا اور تجربہ اتنا انوکھا اور دُور رَس نتائج کا حامل تھا کہ اس کے اثرات دستوئیفسکی کے شاہکار ناولوں پر واضح طور سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دستوئیفسکی کو اُردو میں منتقل کرنا بطور خاص مشکل کام ہے لیکن کسی کو ہمت تو کرنی تھی۔ یہ سوچ کر مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم شاہد حمید نے اس عظیم ناول کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ انھوں نے اِس ضخیم ناول کے ترجمے پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

---

شاہد حمید اُردو کے مایہ ناز ادیب، ماہرِلسانیات اور مترجم ہیں۔ وہ 1928ء میں جالندھر کے ایک گائوں پَرجیاں کلاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول ننگل انبیا میں حاصل کی۔ 1947ء میں فسادات کے دوران میں پاکستان ہجرت کی۔ لاہور آ کر پہلے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں خواجہ منظور حسین اور ڈاکٹر محمد صادق قابلِ ذکر ہیں۔ مشہور نقاد مظفر علی سید فرسٹ ایئر سے سکستھ ایئر تک شاہد حمید کے کلاس فیلو رہے۔ تعلیم کے دوران بطورِ صحافی ’’روزنامہ آفاق‘‘ میں کام کیا۔ پھر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ ایمرسن کالج ملتان، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1988ء میں ریٹائر ہوئے۔ ادب سے دلچسپی بہت پرانی ہے، لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ تیسرے درجے کی طبع زاد تحریروں سے عالمی کلاسک کا ترجمہ زبان و ادب کی بدرجہا بہتر خدمت ہے۔ یہ سوچ کر زمانۂ طالب علمی میں ہی ڈیل کارنیگی کی ہر دل عزیز کتاب ’’پریشان ہونا چھوڑئیے، جینا سیکھیے‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا اور پھر لیوطالسطائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد اس کام کو مکمل کیا۔ اس ترجمے پر انھیں بہت داد ملی۔ انھوں نے ایڈورڈ سعید کی نہایت اہم تصنیف ’’مسئلہ فلسطین‘‘ کا ترجمہ بھی کیا۔ ایڈورڈ سعید کی پیچیدہ نثر سے انصاف کرنا مشکل تھا لیکن یہ مرحلہ بھی شاہد حمید نے کامیابی سے طے کیا۔ اس کے بعد انھوں نے جین آسٹن کے ناول ’’تکبر اور تعصب‘‘، ہیمنگوے کی ’’بوڑھا اور سمندر‘‘ اور بین الاقوامی بیسٹ سیلر ’’سوفی کی دُنیا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ دستوئیفسکی کے ناول ’’کرامازوف برادران‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کو دنیا بھر میں دستوئیفسکی کی سب سے باکمال تصنیف سمجھا گیا ہے۔ اس کی اُردو میں دستیابی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقاد شمیم حنفی نے کہا تھا، ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیرمعمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔‘‘ متاز فکشن نگار نیر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا۔ شاہد حمید نے اپنی خودنوشت ’’گئے دنوں کی مسافت‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی اور دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیرِطبع ہے۔ ان کا انتقال 29جنوری 2018ء کو ہوا اور ڈیفنس لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ شاہد حمید نے اُردو زبان کی ثروت مندی میں جو اضافہ کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

---

سرورق مصور:
وسیلی پیروف (1834ء-1882ء): 1870ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں پیروف کی مصوری نے رُوس کی عظیم ثقافت کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ 1872ء میں اس نے دستوئیفسکی کی یہ تصویر مکمل کی۔ یہ دستوئیفسکی کا ادبی کام تھا جس نے پیروف کو اس طرح متاثر کیا کہ اس نے انیسویں صدی کے رُوس کی پریشان حال سیاسی، سماجی اور روحانی فضا میں انسانی نفسیات کی گتھیاں سلجھائیں۔ اس جدید طباعت کے سرورق پر دی گئی تصویر بھی پیروف کا ہی شاہکار ہے۔

RELATED BOOKS