Mushtaq Ahmad Yusufi (Bibi Raza Khatoon) | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

MUSHTAQ AHMAD YUSUFI (BIBI RAZA KHATOON) اردو ادب کا یوسف لاثانی مشتاق احمد یوسفی

<span dir='ltr' class='left text-left'>MUSHTAQ AHMAD YUSUFI (BIBI RAZA KHATOON)</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>اردو ادب کا یوسف لاثانی مشتاق احمد یوسفی</span>

PKR:   700/- 280/-

مشتاق احمد یوسفی ہمارے دَور کے سب سے بڑے طنز و مزاح نگار ہیں ۔ان کے مزاح میں شعر و ادب کا علم کچھ اس طرح پیوست ہے، اور زبان کی وسعتوں پر انہیں اس قدر قابو ہے کہ اس کے باعث انہیں پڑھنے اور ان کے فن کا پورا لطف حاصل کر نے کے لیے ہمارا بالغ نظر اور وسیع مطالعہ کا حامل ہونا ضروری ہے۔پرانی باتوں ،خاص کر زمانۂ گزشتہ کے اشعار اور عبارات کو پُر لطف تحریف کے ساتھ پیش کرنا یوسفی کا خاص انداز ہے ۔قاری کی نظر ان پرانے حوالوں پر ہو تو وہ یوسفی کی مزاحیہ تحریف کو سمجھ سکتا ہے اور پھر وہ ان کی پہنچ اور ندرتِ خیال کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔طنز کے میدان میں اور معاشرے پر رائے زنی کے میدان میں انہوں نے جو چبھتے ہوئے جملے رقم کیے ہیں وہ کہیں کہیں شوخی کی حد کو پہنچ گئے ہیں مگر دل آزار ہرگز نہیں ہوتے ۔ان سب باتوں کے باوجود، مشتاق احمد یوسفی پر کچھ لکھنا آسان نہیں ۔ایک مشکل ان کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ان کی تحریر سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس کا معتدبہ حصّہ پڑھنا ضروری ہے ان کے صرف چند اقتباسات کے بل بوتے پر رائے زنی آسان نہیں۔مجھے خوشی ہے کہ مشتاق احمد یوسفی پر بی بی رضا خاتون کا زیرِ نظر مقالہ ’’اُردو طنز و مزاح کا یوسف ِ لاثانی ‘‘یوسفی شناسی میں ایک اہم اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مشتاق احمد یوسفی کی نثر میں صنائع اور بدائع کی کار فر مائی بھی بڑی خوبی سے دریافت کی ہے ۔میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے یہ کام کبھی نہیں ہوا تھا ۔مجموعی حیثیت سے میں اس کتاب کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔

شمس الرحمٰن فاروقی
الٰہ آباد(ہندوستان)


اب تک ہم نے حُسنِ یوسف کی مدح میں یوسفِ ثانی تو سنا تھا لیکن یوسفِ لاثانی کبھی سنانہیں تھا۔ شاید مشتاق احمد یوسفی کے مزاح کی تعریف کے لیے ان کو اُردو مزاح کا یوسف لا ثانی کہنا ہی زیادہ مناسب تھا۔ یوسفی کو خود بھی ا س بات کا علم نہ ہو گا کہ ان کے بے شمار مدّاحوں میں بی بی رضا خاتون نامی ایک ایسی ریسرچ اسکالر موجود ہے جو ان کی ہر جنبشِ قلم کی ادا شناس ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایک کم عمر لڑکی اپنے پسندیدہ مزاح نگار کے فن پر ایسی گہری نگاہ رکھتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر یوسفی کے ہر چاہنے والے کو خوشی ہو گی لیکن میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ خوشی خود یوسفی کو ہوگی کہ ان کی تحریر کی صحیح قدر داں حیدرآباد دکن میں بھی مقیم ہے جہاں وہ آج تک آئے نہیں ہیں۔ اس دستاویز کے لیے بی بی رضا خاتون کو دلی مبارکباد۔
مجتبیٰ حسین
گلبرگہ (ہندوستان)

RELATED BOOKS