Nau Lakhi Kothi | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

NAU LAKHI KOTHI نولکھی کوٹھی

Inside the book
NAU LAKHI KOTHI

PKR:   999/- 749/-

Author: ALI AKBAR NATIQ
Pages: 448
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-297-0
Categories: URDU LITERATURE NOVEL
Publisher: Book Corner
★★★★★
★★★★★

علی اکبر ناطق (پیدائش: 1976ء) ایک پاکستانی ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ان کا ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ہے۔ اب تک ان کی شاعری اور افسانوں کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ علی اکبر ناطق کا خاندان 1947ء کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ ناطق یہیں 1977ء میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑا سے پاس کیا۔ اُس کے بعد معاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور راج مستری پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998ء میں کچھ عرصے کے لیے روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب اور مشرق وسطی بھی رہے۔ پاکستان واپسی کے بعد چند تعلیمی اداروں میں بطور استاد شعبہ اُردو منسلک رہے۔ کچھ عرصے بعد یونیورسٹی چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں اوکاڑہ منتقل ہوئے۔ 2009ء میں معروف ادبی جرائد نے ان کے افسانے اور نظمیں شائع کیں تو اچانک ان کی ادبی حلقوں میں شہرت ہوئی۔ 2010ء میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’بےیقین بستیوں میں‘‘ چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012ء میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’قائم دین‘‘ چھپا، جسے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا۔ ابتدا میں ایک افسانہ ’’معمار کے ہاتھ‘‘ شائع ہوا، جس کا انگریزی ترجمہ کر کے محمدحنیف نے امریکا سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’گرانٹا‘ میں بھی شائع کرایا۔ ناطق کی کچھ کتابیں انگریزی اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں شائع کر رہا ہے۔

------

ناطق کے لیے اب یہ حکم لگانا مشکل ہے کہ اُن کی اگلی منزل کہاں تک جائے گی کہ ہربار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں۔ اُن کے تمام کام میں تازگی ہے، روایت اور تاریخ کا شعور حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ جس طرح اُن کا شعر اور پھر فکشن میں کام ہے۔ اِس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، افسانہ نگار بھی ہیں اور ناولسٹ بھی۔ اُن کےفکشن میں پنجاب کی سرزمین میں غیرمعمولی دلچسپی اُن کے بیان میں غیرمعمولی مہارت کا ثبوت دیتی ہے۔ ناطق کی نثر سے مکالمہ اور بیانیہ کے نامانوس گوشوں پر اُن کی قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ناطق کے فکشن کا قاری خود انسان اور فطرت کے پیچیدہ رشتوں، انسان اور انسان کے درمیان محبت اور آویزش کے نکات سے بہرہ اندوز ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ علی اکبر ناطق سے اُردو ادب جتنی بھی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کرے، نامناسب نہ ہو گا۔ اِن کا سفر بہت طویل ہے، راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں۔

شمس الرحمٰن فاروقی

------

علی اکبر ناطق کا فکشن حقیقت اور کہانی کے پیچیدہ پہلوؤں کو سامنے لے کر آتا ہے۔ وہ دیہات اور اُس کے کرداروں کی بازیافت کا آدمی ہے اور حقیقی طور پر سن آف سوئل ہے۔ وہ احمد ندیم قاسمی کی طرح دیہات کا رومان پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے کرداروں کو حقیقت کی زندگی عطا کرتا ہے۔

انتظار حسین

------

جب علی اکبر ناطق نے فون پر مجھ سے کہا تھا، ’’اس کو جلدی پڑھنے کی کوشش کیجیے گا۔‘‘ تب میں خوب ہنسی تھی۔ لیکن ہوا تو یہی، ایک دفعہ کتاب شروع کی تو اس ابتدائی مشکل کے ختم ہونے کے بعد میں نے ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ناول کو پڑھنا شروع کیا تو آخری صفحے تک پڑھتی ہی چلی گئی۔ یہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھا قصہ تھا جس کی سچائی نے ذہن کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس نے مجھ کو اُداس اور سنجیدہ چھوڑا۔ علی اکبر کی تحریر پڑھتے ہوئے آپ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ جب آپ اس علاقے کو اپنے ندی نالوں، پیڑ پودوں، پھلوں، پھولوں، جانوروں، مکانوں اور حویلیوں، برتن بھانڈوں، سبزی ترکاریوں اور فصلوں، غلوں اور دالوں، آبادی کے مختلف حصوں، اس کے سماج کی تہہ داریوں، اس کے طبقاتی پیچ و خم اور جوڑنے والی ڈوریوں، افراد اور ان کے عمل سے نکلتا دیکھتے ہیں۔ جبکہ اس پر رومانیت کی چھوٹ بھی نہ پڑی ہو۔ یہ تحریر سوشل ریئلزم یعنی حقیقت نگاری کا ایک ایسا نادر و نایاب نمونہ ہے جسے ادب میں حالیہ مقبول اور کارآمد ٹیکنیک میجک ریئلزم کی ضرورت نہیں پڑی۔ حقیقت خود میجک میں تبدیل ہو گئی ہے جس سے بڑے بڑے سینئر ادیب سبق لے سکتے ہیں۔ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ کے بیانیے کی زبان ایک خاص انداز کی ہے جو متن کے اندر سے خود بخود پھوٹتی معلوم ہوتی ہے۔ پنجابی الفاظ اور پنجابی دیہی طریقہ اظہار سے مملو، روں دواں اور انٹیمیٹ۔ لیکن انگریز کرداروں کی عکاسی میں اور ان کی بات چیت دوہرانے میں یہ زبان اور طریقہ اظہار ناکام رہتا ہے اور غیرحقیقی لگنے لگتا ہے۔ یہ اس ناول کی واحد کمزوری ہے کہ انگریز کردار انگریز نہیں لگتے۔ میرا خیال ہے کہ کتاب کے انگریزی ترجمے میں یہ خامی تو خود بخود غائب ہو جائے گی۔ تو مبارک باد علی اکبر ناطق کو۔ جو ایک شاندار ادیب ہے۔ قابلِ احترام، قابلِ محبت اور قابلِ رشک!! جس کی وجہ سے اسے ہمارے ان گھڑ ماحول میں کچھ مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اسے علم ہونا چاہیے کہ حسد میں برائیاں کرنا بھی ایک تحسین ہے جو سر کے بل کھڑی ہوتی ہے۔

فہمیدہ ریاض

------

علی اکبر ناطق دیہی زندگی کی ایسی منظرکشی کرتے ہیں کہ پڑھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ تحریر پڑھتے جائیں، آنکھوں کے سامنے فلم چلتی جائے گی۔ ان کے پہلے ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ نے اُردو فکشن میں ان کے بلند مقام کا تعین کردیا ہے۔ ناطق ہمارے ہی دور کے نوجوان ہیں اس لیے ناول پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے کتنی خوبی سے انگریز سرکار کے نمائندوں کی ذہنیت، سکھ رعایا کی معاشرت اور مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ ناول کی نولکھی کوٹھی اوکاڑہ میں واقع ہے۔ اسی اوکاڑہ میں، جہاں علی اکبر ناطق نے جنم لیا۔

مبشر علی زیدی

USER RATINGS

RATE THIS BOOKS

Tell others what you think

Reviews

A

Azhar Arif (Karachi)


Z

Zayan Gujjar (Lahore)

بہت ہی عمدہ اور خوبصورت ناول ھے


H

Hashim Hussain (Karachi)

ایک شادی میں شرکت کے لئے یو ایس سے پاکستان کے شہر ملتان گیا وہاں ناول نولکھی کوٹھی خریدا اور پورا پڑھ ڈالا ناول خوب ہے علی اکبر ناطق اور بک کارنر جہلم مبارک باد کے مستحق ہیں


B

Bukhari Bukhari

پڑھنے کا شوق مجھے شروع سے ہی رہاوہ جس طرح کچھ لوگ کہتے ہیں نہ کہ اخبار کا تراشا بھی ہاتھ آ گیا تو اسے بھی پڑھ ڈالا تو میرا بھی تقریباً وہی حال تھا۔ٹین ایج میں خواتین ڈائجسٹ ٹائپ رسالے میرے زیر مطالعہ رہےاگرچہ اس طرح کے رسالے بہت بدنام ہیں اور ان رسائل کا مطالعہ وقت کا زیاں(خاص طور پر ماؤں کی جانب سے) سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ان رسائل سے بھی میں نے بہت کچھ سیکھا،سمجھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ ذوق بدلتا گیا خاص طور پر جب میں نے ایم فل اردو کیاتو میرا رحجان ادبی فکشن نان فکشن کی طرف زیادہ ہو گیا
نومبر 2020 میں جب میں نے اپنی فیس بک آئی ڈی بنائی تو یہاں آ کر میں ایک نئی دنیا سے متعارف ہوئی مجھے اپنے رحجان کے مطابق لوگ ملتے گئے۔پہلی بار میں بک کارنر جہلم سے متعارف ہوئی اور پھر نئے سال کی ابتدا پر انہوں نے کتابوں پر سیل کا انعقاد کیا تو میں نے بھی اس آفر سے استفادہ کیا اور کچھ کتابیں منگوائیں۔میں نے سوچا تھا کہ فیس بک پر پوسٹ لگا کر بک کارنر جہلم کا شکریہ ادا کروں گی لیکن کچھ گھریلو اور پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی
اسکے بعد فروری میں بک کارنر جہلم نے دوبارہ سیل لگائی اگرچہ اس بار جیب اجازت نہیں دے رہی تھی کتابیں خریدنے کی لیکن میں رہ نہ سکی اور میں نے چند کتابیں آرڈر کیں حسبِ معمول دو دنوں بعد آرڈر زبردست پیکنگ میں موصول ہوا ۔پا کر خوشی ہوئی
بہت شکریہ بک کارنر جہلم آپ نے میرے لیے گھر بیٹھے اتنی اچھی کتابوں تک رسائی ممکن بنائی
دیر سے شکریہ ادا کرنے پر معذرت کیونکہ " ہمیشہ دیر کر دیتا (دیتی😜) ہوں میں"یہ میری فیس بک پر پہلی پوسٹ ہے غلطیوں کےلئے بھی معذرت


RELATED BOOKS