PARWAZ پرواز

Parwaz
<span dir='ltr' class='left text-left'>PARWAZ</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>پرواز</span>

PKR:   400/-

Author: FAWAD ABID
Pages: 128
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-281-9
Categories: POETRY

قدموں کے نشان


فواد عابد بیگ میرے لیے صرف ایک نوجوان افسر یا نوجوان شاعر نہ تھا۔ وہ میرے بیٹے احمد شہریار کا دلی دوست، روم میٹ (ہم کمرا) اور اکادمی والی تربیت کا ساتھی تھا۔ تمام طالب علموں کی اپنے رفیقوں، ہم مکتبوں سے دوستی بڑی لافانی دوستی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ بچپن زمانہ ہی خلوص اور سچائی کا عہد ہوتا ہے۔ اس عہد کے سارے رشتے اٹوٹ اور جاوداں ہوتے ہیںمگر جو تعلق ان نوجوانوں میں بنتا ہے جنھوں نے باہم مل کر دفاعی افواج میں سے کسی ادارے کی تربیت کے زمانے کی سختیاں جھیلی ہوں وہ ربط سب سے توانا رشتے میں ڈھل جاتا ہے۔ سختیوں کے زمانے کے ہمدرد سب سے اہم دوست ہوتے ہیں۔
احمد شہریار کے دوستوں میں تین فواد تھے۔ پہلا نام فواد علی کا ہے۔ خدا اسے عمرِ خضر سے نوازے اور سب کی مشترکہ دعائیں اور نعمتیں اُسے نصیب ہوں۔ دوسرا فواد انور تھا جو شہریار کی ٹریننگ کے زمانے میں اس کے ساتھ اکادمی آتا جاتا کہ یہ دونوں ہم شہر بھی تھے۔ سو چھٹیاں بھی ان کی اکثر مشترکہ زمانوں میں آتیں۔ یہ تو بہت ہوتا کہ چھٹیاں دونوں مل کر مناتے۔ یہ دوسرا فواد (فواد انور) شہریار کی طرح کا قد کاٹھ رکھتا تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ یہ سب لوگ والدین کے علاوہ بھی باقی دنیا کو خوبصورت لگتے تھے سو ہم قامتی اور خوش قامتی کے باعث اکادمی میں تشریف لانے والی اہم شخصیات کے استقبال کے لیے ان کا جوڑا جایا کرتا۔ مگر میرے بیٹے احمد شہریار کا رشتہ فواد عابد بیگ سے ایک اور حوالے سے تھا اور اس رشتے کی مضبوطی اپنی تھی۔ یہ رشتہ ادب دوستی اور شعر کہنے کا رشتہ تھا۔ احمد شہریار بھی فواد بیگ کے ساتھ اور اسی کی طرح شاعری کیا کرتا تھا۔ احمدشہریار نے اپنی پاسنگ آئوٹ پر مجھے فوادعابد بیگ سے ملوایا تھا۔ فوادعابد کو میری شاعری سے آگہی بھی تھی اور دلچسپی بھی۔ احمدشہریار اکادمی کے زمانے میں کئی بار میری نظم، نعت یا غزل فواد بیگ کی فرمائش پر مجھ سے لکھوا کر لے جایا کرتا تھا۔ ایک بار میں نے اپنی ایک انعام یافتہ کتاب ’’جموں و کشمیر -- ہمارا اکیسویں صدی میں داخلہ‘‘ بھی فرمائشی نظم کے ہمراہ پی اے ایف اکادمی رسالپور کی لائبریری کے لیے بھجوائی۔ نظم فواد عابد بیگ کے لیے تھی۔
ان تینوں میں ایک رشتہ اور بنا اور وہ تھا شہادت کا۔ فواد انور کو پہل نصیب ہوئی۔ وہ میانوالی میں تربیت کے دوران شہید ہوا۔ فواد عابد بیگ کا جہاز تربیتی مشن کے دوران 26اکتوبر 1992ء کو سرگودھا کے قریب برڈہٹ ہو گیا جس کے نتیجہ میں فواد عابد بیگ سی ایم ایچ راولپنڈی میں 16 نومبر 1992ء کو پرواز کر گیا۔ احمد شہریار کی میانوالی کی تربیت متاثر ہوگئی۔ تو وہ پی اے ایف میں فائٹر پائلٹ کی ٹریننگ سے ہٹا دیا گیا۔ بعد میں اسے نیول ایوی ایشن کے لیے چن لیا گیا اور وہ کراچی چلا گیا۔ 29 اکتوبر کو جنگی مشقوں کے دوران ڈیوٹی پر جاتے ہوئے اس کا Orion نامی جہاز ’’مہران‘‘ کے بیشتر عملے کے ساتھ سمندر کی چٹانوں کے نیچے تہ نشین ہو گیا۔
فواد عابد بیگ کی شاعری اس کے ہاتھ کی تحریر میں میرے سامنے ہے۔ سب سے پہلی نظم ہے جو اس نے اپنی مرحومہ والدہ کی یاد میں لکھی ہے۔ عنوان ہے ’’ماں دی یاد وچ‘‘ یہ واحد تخلیق ہے جو پنجابی میں لکھی ہوئی ملی۔ شاید ماں سے ڈائیلاگ ماں بولی ہی میں مکمل ہو سکتا ہے۔ فواد عابد بیگ کو یہ احساس بڑا توانا تھا کہ اس کی امی نے اپنے بچوں کے سہرے اور خوشیاں نہ دیکھیں اور چل بسیں۔ سو لکھا کہ :
پتراں دے سہرے ناں ویکھے
جا اگلے جہان دے تھاں ویکھے
اوہدی یاد کدوں نہیں آئی سی
اوہ میری پیاری مائی سی
(فواد عابد کے جذبے کا سچ دیکھیے۔ ماں جی سے ملنے سب سے پہلے پہنچ گیا)
فواد عابد کا بیشتر کام اردو غزل کی صورت میں ہے۔ اس کی غزل تازہ لہجے سے عبارت ہے:
میں خواب دیکھتا رہا تیرے وصال کے
کوئی چرا کے خواب کی تعبیر لے گیا
نئے ابھرتے ہوئے نوجوان کے قدموں کی چاپ اس کے اشعار میں سنائی دے سکتی ہے۔
آزمائیں گے مجھ کو لوگ مگر
میں رہوں گا وہی کہ ہوں جیسا
محبت کیسا اعتماد بخشتی ہے۔ ملاحظہ ہو:
میرے پیکر میں دیکھیے خود کو
آپ کا ہوں تو آپ سا بھی ہوں
اس اعتمادِ ذات کا تعلقِ خاطر سے بڑا قریبی رشتہ ہے۔ یہ شوخی اور خوش دلی اسی تعلق کی دین ہے:
آج کا کام کل پہ چھوڑوں گا
اور وہ اگلے سال کر لوں گا
اس نوجوان شاعر نے غزل میں کیسے کیسے لطیف اظہار کو راہ دی ملاحظہ کیجیے:
کتنے موسم گذر گئے اس کو
یاد کرنے سے بھول جانے تک
s
بس ایک لمحہ تری چاہتوں میں گذرا تھا
نہ جانے کتنے برس پھر سزا کے آئے ہیں
نوجوان شعرا کے ہاں بیان و اظہار عموماً ان کی اپنی روداد اور اپنی سرگذشت ہوتا ہے۔۔ ان کے ہاں جذبے کی شدت بھی اسی سے آتی ہے اور ندرت اور بانکپن بھی۔ اس نوجوان کی آرزو ملاحظہ کیجیے:
گل کھلے جو کبھی نہ مرجھائے
ایسا موسم جہاں پہ آنے دو
ہمارے ایک ساتھی کا کہنا ہے: ؎
وہ شکل پا نہ سکیں جن کو ٹوٹ جانا ہو
یہ اہتمام کفِ کوزہ گر میں رکھا جائے
فواد کے حسین احساس سے اپنے ایک ساتھی لکھنے والے کا مذکورہ شعر یاد آگیا۔ اب یاد آتا ہے کہ آنے والے دنوں کی کیسی پرچھائیں فواد اپنے دنوں میں دیکھتا تھا:؎
مجھے تو میرے جنوں نے کیا ہے قتل مگر
تمام شہر ترا نام لے رہا ہے کیوں
مجھے تو مل چکی ہے سزائے عشق مگر
تُو اپنے سر پہ یہ الزام لے رہا ہے کیوں
یہ ساری غزل اس حوالے سے بڑی یادگار تخلیق ہے۔
ہماری افواج خوش قسمت ہیں کہ انھیں سر سے کھیل جانے والے اور جان سے گذر جانے والے بچوں کی ایک کہکشاں ہر برس نصیب ہوتی رہتی ہے۔ جہاد اور شہادت کے لیے کشاں کشاں آنے والے نوجوانوں کے گھرانے اقبال کے لفظوں میں ’’شہدا پالنے والی دنیا‘‘ سے ہیں۔ پاکستان میں ایسے گھر تھوڑے نہیں بلکہ ہر گھر ایسا گھرانا بننا چاہتا ہے۔ جہاں سے اٹھنے والے اعتماد سے کہہ سکیں: ؎
جاں دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
مجھے اپنے بچوں احمد شہریار شہید اور عتیق احمد کے ساتھی افسروں سے باتیں کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ شہریار شہید خود کہا کرتا تھا کہ:
’’طیارہ بردار وکرنت (وکرم) کو تو میں خود ہی اُڑا جائوں گا۔‘‘
’’کیسے؟‘‘ ظاہر ہے اپنے آپ کی قربانی دے کر۔
"(Like) erstwhile diving in the Prince of Wales."
یہ بہت بڑے بڑے فیصلے ہمارے نوجوان سوچتے رہتے ہیں۔ یہی بڑے فیصلے ہمارے وہ توانا Deterrentہیں جن سے آگاہ دشمن آج بھی پھونک پھونک کر سرحد کی طرف قدم رکھتا ہے۔
فواد عابد بیگ کی خود کلامیاں ملاحظہ ہوں:
ہماری جستجو منزل پہ کیسی کرتے ہو
کہ خاک ہو گئے رستے میں ہم ٹھہر جائو
فاعلاتن مفا علن فعلن اس کا پسندیدہ وزن تھا جس میں فواد نے زیادہ تر کہا۔ اس وزن میں اس کا اپنے محبوب سے خطاب دیکھیے:؎
تیری خاطر میں مر بھی جائوں گا
میرے وعدوں پہ اعتبار تو کر
اور پھر یہ پاکیزہ دعا خداوندکریم کے حضور کہ:
تیرے رستے میں مَیں، لُٹا دوں سر
اے خدا دے دے مجھ کو بال و پر
میں نے شہریار شہید کے مرقد پر لکھوایا ہے:
سرِ خاکِ شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمد
یہی شعر فواد عابد کے جذبوں کو نذر گذارتے ہوتے اس گھرانے کو تبریک کہتا ہوں جس میں وہ
گُل کھلا، جو کبھی نہ مُرجھائے
اللہ تعالیٰ اُن کے لواحقین کی عمروںمیں برکت اور راحت کی کثرت کرے۔ ان کے لیے شہید کے کلام کو محفوظ کر لینا، چھپا ہوا دیکھ لینا بھی بڑی خوش نصیبی ہے۔

پروفیسر اِحسان اکبر
اسلام آباد

RELATED BOOKS