Pas e Pardah | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

PAS E PARDAH پس پردہ

Inside the book
<span dir='ltr' class='left text-left'>PAS E PARDAH</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>پس پردہ</span>

PKR:   600/-

Author: ZULFIQAR AHMAD CHEEMA
Pages: 207
Year: 2021
ISBN: 978-969-662-352-6
Categories: HUMOUR
Publisher: Book Corner

ذوالفقار احمد چیمہ صاحب پاکستان کے اُن افسران میں سے ہیں جن کی بہادری، فرض شناسی اور دیانتداری قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔ وہ سول سروس کے ایک رول ماڈل ہیں۔ وہ اِتنی اُجلی شخصیت کے حامل ہیں کہ اُن کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں۔ اُن کے بارے میں بہت درست کہا گیا ہے کہ وہ پولیس سروس کے ماتھے کا جُھومر ہیں۔ ان مضامین میں چیمہ صاحب نے ایک ایسا آئینہ فراہم کیا ہے جو ہماری سیاسی اور سماجی بدعنوانیوں اور ناہمواریوں کی بھرپور عکّا سی کرتا ہے۔ اس آئینے میں دیکھتے جائیے، یہاں کی الیکشن بازی، دھونس، رِیس کی ریس، افسروں اور وزیروں کی مہمل تقریریں۔ کینسل ہوتے ہوئے تبادلے۔ پھیپھڑے آزماتے ہوئے ٹی وی اینکر.... پھلوں کے بڑے بڑے ٹوکرے .... گھریلو پیکار انگیز کریلے، دھرنے، نذرانے، ماہانے، جہالت سے لبریز کتابوں کی رونمائیاں، گریڈ گردی، نمائشی تقریبات، جعلی پیروں کی مکروہ تعویذ نویسی اور نام نہاد معزّز شہریوں کے بد نُما اور کراہت انگیز چہرے .... سبھی کچھ تو دکھائی دہے رہا ہے۔

انور مسعود

ذوالفقار احمد چیمہ کا نام قرطاس و قلم کی دُنیا میں نیا نہیں ہے۔ ایک عرصہ سے وہ قومی سطح کے پرنٹ میڈ یامیں لکھ رہے ہیں۔ اُن کے مضامین کے دو مجموعے اُردو میں اور ایک انگریزی میں شائع ہوچکے ہیں! ان کی صاف گوئی کو قوم کے ہر طبقے نے پسند کیا ہے۔ ان مضامین میں انھوں نے اپنے تجربے کو عوام کے ساتھ شیئر کیا ہے اور استعاروں کنایو ں کے بغیر، عام فہم انداز میں اس طرح شیئر کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے ساتھ ساتھ، عام لوگ بھی لطف اٹھا سکتے ہیں۔

محمد اظہار الحق

ذوالفقار چیمہ پیشے کے لحاظ سے سول سرونٹ ہیں لیکن ذوق کے اعتبار سے قلم کار۔ قانون کی حکمرانی کا معاملہ ہو تو وہ تیغ بدست ہوتے ہیں لیکن جب مزاح کی طرف آتے ہیں تو خندہ بلب اورگل بداماں نظر آتے ہیں۔ سول سروس میں یہ امتزاج انوکھی مثالوں میں سے ایک ہے۔مزاح اور مزاج کی شگفتگی ان کی شخصیت کا حصّہ ہیں۔ حِسِّ مزاح ان میں فطری ہے اور ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ ان کی نظر میں مشاہدے کی گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی،اور اسے اظہار میں ڈھالنے کا انہیں جو ملکہ اور عبور حاصل ہے، اس میں فطری جھلک نظر آتی ہے۔

ظفرحسن رضا

RELATED BOOKS