RAUF KLASRA | 3 BOOKS BUNDLE OFFER رؤف کلاسرا | 3 کتب بنڈل آفر

Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer Rauf Klasra | 3 Books Bundle Offer
<span dir='ltr' class='left text-left'>RAUF KLASRA | 3 BOOKS BUNDLE OFFER</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>رؤف کلاسرا | 3 کتب بنڈل آفر</span>

PKR:   2,200/- 1,650/-

📕 گمنام گاؤں کا آخری مزار
وہ تحریریں جو کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں
صفحات 360 | قیمت 700 روپے
ناشر: بک کارنر، جہلم (پاکستان)

اس کتاب میں شامل سب عام کہانیاں ہیں۔ اگر آپ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کتاب آپ کے کام کی نہیں۔ میں نے اس کتاب میں عام انسانوں کے دُکھوں اور غموں کی آواز بننے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کے سب کردار عام لوگ ہیں۔ وہ عام لوگ ہی میرے ہیروز ہیں۔ وہی میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے اپنے ماں باپ کو ایک دُور دراز گاؤں میں مشکلات اور دُکھوں میں گِھرے دیکھا۔ انہیں ساری عمر جدوجہد اور محنت کرتے دیکھا۔ انہیں تکلیفوں کا شکار دیکھا لیکن انہوں نے ایک ہی سبق سکھایا کہ سرنڈر نہیں کرنا۔ اس لیے شروع سے ہی میرے ہیرو وہی لوگ تھے۔ کسی کو بھی درد یا تکلیف میں دیکھا تو بابا اور اماں میرے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ کبھی کسی بڑے آدمی سے متاثر نہ ہوسکا، یا یوں کہہ لیں کہ ذلتوں کے مارے لوگ ہی میری انسپائریشن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا انتساب میں نے گاؤں کے کمہار چاچا میرو کے نام کیا ہے جس پر لکھی گئی ایک طویل کہانی “گمنام گاؤں کا آخری مزار” آپ کو کئی دن چین سے سونے نہیں دے گی، اگر آپ کے بدن میں واقعی دل اور آنکھ میں پانی باقی ہے۔ اس کتاب میں شامل ہر کہانی سچّی ہے۔ اپنی جگہ مکمل افسانہ ہے، ناول ہے، دُکھ ہے، انسانی المیہ ہے۔ اس کتاب کے سب کردار دُکھی لوگ ہیں اور دُکھی لوگوں کے دُکھ میں نے کہانیوں کی طرح لکھے ہیں۔ (رؤف کلاسرا)



📕 تاریک راہوں کے مسافر
بالزاک کا شاہکار ناول Eugénie Grandet کا اُردو ترجمہ
مترجم: رؤف کلاسرا
ناشر: بک کارنر، جہلم (پاکستان)
ضخامت 304 صفحات | اعلی کوالٹی آرٹ پیپر
قیمت 900 روپے

جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا، وہ میں اپنے قلم سے کروں گا۔ (بالزاک)
- - - - - - - - -
دُنیائے ادب کے عظیم فرانسیسی ناول نگار بالزاک (1799-1850ء) کی ایک عظیم تخلیق جو انقلابِ فرانس کے بعد فرانسیسی معاشرے میں ابھرنے والے نئے رحجانات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ بالزاک اس وجہ سے بھی خوش قسمت ادیب کہلا سکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں میں انقلاب کی سُرخی لیے پیدا اور جوان ہوا۔ اگر نپولین ایک عام سپاہی سے ترقی کر کے فرانس کا مالک بن سکتا ہے تو پھر ہر شخص کچھ بھی کر کے ترقی کرسکتا ہے۔ اس سوچ نے فرانسیسی معاشرے کی شکل اور رُوح بھی بدل کر رکھ دی اور اسی انقلاب نے ایک بڑی ٹریجڈی کو جنم دیا۔ ایک خوبصورت، حسین، شرمیلی اور دیہاتی دوشیزہ یوجین کے عشق لاحاصل کی داستان جسے ایک روز پیرس سے آئے اپنے لٹے پٹے کنگال کزن سے محبت ہوگئی۔ یوجین نے ایک ایسی اذیت بھری زندگی کا انتخاب کیا جو ہر عاشق کی قسمت ہوتی ہے۔ ایک لڑکی کی کہانی جو برسوں اپنے گائوں کی حویلی میں اپنے محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ ہر شخص کی کڑوی باتیں برداشت کرتی رہی۔ باپ کے طعنے سنتی رہی۔ پورا گاؤں اس کے خلاف زہر اُگل رہا تھا لیکن یوجین محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ سات برس بعد جب یہ جان لیوا انتظار ختم ہوا تو ایک ٹریجڈی یوجین کی منتظر تھی۔اس ناول میں جہاں آپ کو فرانسیسی معاشرے کے غلیظ، لالچی اور کنجوس کردار ملیں گے جن سے آپ نفرت محسوس کریں گے وہیں مادام گرینڈ، یوجین گرینڈ اور نائے نن جیسے خوبصورت کردار بھی ملیں گے جن کے لیے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں رُک سکیں گے۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ بالزاک کے اس دعوے کومان لیں گے کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا وہ میں ا پنے قلم سے کروں گا۔

------

📕بالزاک کے شاہکار ناول The Girl With the Golden Eyes کا اردو ترجمہ
کتاب: سنہری آنکھوں والی لڑکی
مصنف: ہنری ڈی بالزاک Honoré de Balzac
مترجم: رؤف کلاسرا
ناشر: بک کارنر
شاہکار ناول، بے مثال طباعت
قیمت 600 روپے

اس ناول میں بالزاک نے جس بے رحمانہ طریقے سے پیرس کا پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ اپنی جگہ کلاسیک ہے۔ پیرس کے بے رحم لوگوں کا جو نقشہ بالزاک نے کھینچا ہے اس سے آپ کو خوف آنے لگتا ہے۔ آج کے جدید دَور کا انسان لرز جاتا ہے کہ دو سو سال پہلے پیرس واقعی ایسا تھا جہاں غربت، لالچ، حسد، اس سطح پر پہنچے ہوئے تھے کہ بالزاک نے پیرس کو ایک جہنم قرار دے دیا۔ بالزاک کی ایک اور خوبی دیکھیں وہ اپنی تحریروں میں جج، جیوری یا جلّاد بننے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ ہر کردار کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود کو جیسے چاہے کہانی کے پلاٹ میں لے کر چلے۔ بعض اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ بالزاک خود ایک تماشائی کی طرح اپنی کہانی کے کرداروں کو چپ چاپ بیٹھا انجوائے کر رہا ہے۔ وہ کردار خود ہی اپنی کہانی لکھتے ہیں، خود ہی سازشیں کرتے، آپس میں لڑتے جھگڑتے یا محبّت کرتے ہیں۔ بالزاک صرف اپنے ہاتھ استعمال کرتا ہے، باقی سب کچھ کردار خود ہی کرتے ہیں۔ یہ ناول انسانی جذبات، حسد، شک، فریب اور محبّت کی کہانی ہے جس میں فرانس کے ایک امیرزادے ہنری کو ایک سنہری آنکھوں والی لڑکی ’پاکٹویا‘ سے محبّت ہو جاتی ہے لیکن درمیان میں وہی شک اور حسد، نفرت کے بیج بو دیتے ہیں اور ایک المیہ جنم لیتا ہے یہ ناول اسی ٹریجڈی کی کہانی ہے۔
(رؤف کلاسرا)

RELATED BOOKS