Sab Kuch Mumkin Hai | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

SAB KUCH MUMKIN HAI سب کچھ ممکن ہے

<span dir='ltr' class='left text-left'>SAB KUCH MUMKIN HAI</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>سب کچھ ممکن ہے</span>

PKR:   600/-

1950ء میں جب ایک بتیس سالہ ایرانی شخص نے میٹ لائف نیویارک میں لائف انشورنس سیلزکام کے لیے درخواست دی تو ڈسٹرکٹ سیلز منیجر میکس شائولاس نے کہا: ’’اوہ خُدا ! یہ توصحیح طرح سے انگلش بھی نہیں بول سکتا۔ شاید یہ ایرانی نوجوان نیو یار ک سٹی میںبجلی میٹرز پڑھنے کا کام تو کر سکے لیکن لائف انشورنس بیچنا اِس کے بس کی بات نہیں ہے۔ ‘‘میکس نے پوچھا: ’’ اب تک تم نے کون سا مستقل کام کیا ہے ؟‘ ‘’’ میں نے الاسکا میںایک لانڈری میں کام کیا ہے اور جب میں طالب علم تھا تو کچھ اور عارضی سے کام بھی کیے ہیں۔‘‘ ’’ تو اب تم لائف انشورنس کمپنی میں کیوں اپلائی کر رہے ہو جب کہ تم اِس کام کے بارے کچھ بھی نہیں جانتے ؟‘‘ میکس نے پوچھا۔ ’’آپ مجھے لائف انشورنس کے بارے میں کتابیں دیں، میں ایک ہفتے بعد آئوں گا اور آپ کے تمام سوالوں کاجواب دوں گا۔ سب کچھ ممکن ہے مسٹر میکس!‘اُس نوجوان نے اعتماد سے جواب دیا۔میکس نے پڑھنے کے لیے اُسے پانچ کتابیں دیں۔ آج میٹ لائف اپنے تمام سیلز پرسنزمیں سے اُس شخص کواپنے ٹاپ پروڈیوسر کا مقام دیتی ہے۔ اُس کے اثاثہ جات لاکھوں میں نہیںبلکہ کروڑں میں ہیں۔ اُس کا نام ہے مہدی فخر زادہ اور لوگ بہت عزت سے اُسے مہدی یا مسٹر مہدی کے نام سے پکارتے ہیں۔ میٹ لائف میں پانچ سال کام کرنے کے بعد مہدی نے 1960ء میں پہلی مرتبہ ملین ڈالرز راؤنڈ ٹیبل کا اعزاز حاصل کیا اور اُس کے بعد سے آج تک وہ اپنا یہ اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایک سال میں 27ملین (دو کروڑ ستر لاکھ) ڈالرز مالیت کی لائف پالیسیز فروخت کر کے سیل کا نیا ریکارڈ قائم کر چکا ہے، ہر سال اِس مالیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اب اُس کی نگاہیں سو کروڑ پر ہیںکیونکہ اُس کے اپنے الفاظ کے مطابق ’سب کچھ ممکن ہے!‘۔

سب کچھ ممکن ہے | EVERYTHING IS POSSIBLE
نامور ایوارڈ یافتہ سیلز ایجنٹ مہدی فخر زادہ کی ورلڈ بیسٹ سیلر کتاب
مترجم: صغیر احمد | نظرِ ثانی: سیّد اشرف حسین رضوی (سابق زونل ہیڈ)

RELATED BOOKS