Seerat Meray Hazoor Ki | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

SEERAT MERAY HAZOOR KI سیرت میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی

SEERAT MERAY HAZOOR KI

PKR:   999/- 749/-

سیرت میرے حضورﷺ کی
تبصرہ نگار: عافیہ جہانگیر

مقابلے کی تاریخ بہت نزدیک تھی اور عنوان جتنا خوبصورت تھا اتنا ہی حساس بھی۔ مجھے مقررہ تاریخ تک بیٹی کو ایک جامع مضمون سیرت النبیﷺ پر لکھوانا تھا اور میں کسی ایسی کتاب کی تلاش میں تھی جس میں نہ صرف تمام معلومات موجود ہوں بلکہ ان کے مستند ہونے میں بھی کسی قسم کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ اسی شش و پنج میں تھی کہ گویا اللہ نے میری میری مشکل کا حل مجھے عطا کر دیا اور مجھے ایک کتاب موصول ہوئی بعنوان ’’سیرت میرے حضورﷺ کی‘‘۔

میں نے انتہائی تفصیل سے مطالعہ کیا کہ اسلام سے قبل عربوں کی سیاسی، اخلاقی اور مذہبی حالت کیا تھی اور ان کی زندگیاں کیسے گزر رہی تھیں؟ پُرنور اور پُرکیف واقعات پڑھ کر ایمان تازہ اور دل محبتِ رسولﷺ سے لبریز ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے حضورنبی کریمﷺ نے اقربا کو دعوت و تبلیغ کا پہلا کھلا حکم دیا تھا۔

’’رسالت مآبﷺ اور اسلام قبول کرنے والا صحابہ کرام] کی نمازیں اور دعوتِ دین کی سرگرمیاں چپکے چپکے جاری تھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا تیسرا حکم آ گیا:

ترجمہ: ’’اور اے میرے محبوبﷺ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائو۔‘‘

اب رسالت مآبﷺ نے حضرت علی المرتضیٰt کو خاندان کے لوگوں کی دعوت کا اہتمام کرنے کو کہا۔ دعوت میں خاندان کے کل ۴۵ افراد نے شرکت کی۔ جب سب لوگ کھانا کھا چکے تو آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خاندان عبدالمطلب! میں تم سب کے لیے فلاح لے کر آیا ہوں…‘‘ (صفحہ۸۶)

سیرت طیبہﷺ کے موضوع پر لکھنے کی ذمہ داری آسان نہیں۔ نہ ہی یہ ایسا موضوع ہے جس میں مصنف کا جو دل چاہے، جیسے چاہے لکھ ڈالے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس موضوع پر مصنف جتنا چاہے عشق، جنوں اور اپنے جذبات کو الفاظ کی صورت ڈھال سکتا ہے مگر اس کی تاریخ میں اپنی مرضی سے ایک حرف کی بھی ہیر پھیر نہیں کر سکتا۔ اس لحاظ سے یہ واقعی ایک مشکل کام ہے اور نہایت ذمہ داری کا بھی، کہ عشق کا دامن بھی بھرا رہے اور ہر ممکن حد تک ایسی حد بھی پار نہ کی جائے جس میں کچھ غلط یا حوالہ جات سے ہٹ کر ہو اور بلاشبہ مصنف مرزامحمدنواز بیگ اس کاوش میں کامیابی پر سو فیصد کھرے اور پورے اُترے ہیں۔

زیرتبصرہ کتاب سیرت میرے حضورﷺ کی، انتہائی خوب صورت جامع اور آپﷺ کی حیات مبارکہ، واقعات کا تسلسل اور اہمیت حوالہ جات کا مکمل دھیان رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے۔ کتاب شروع ہوتی ہے خوب صورت آرٹ پیپر پر بنے ایک نقشے سے، جس میں سیّدابراہیمu کی حجاز میں آمد کی تمام تفصیلات دکھائی گئی ہیں۔

اس میں سب سے پہلے ہجرت حضرت ابراہیمu سے لے کر تعمیر کعبہ تک کا تمام سفر زندگی خوبصورت نقشے کی صورت واضح کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مضامین کا آغاز ترتیب دار بہت عمدگی سے ہوتے ہوئے پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا، قاری کے دل کو جکڑتا، آگے بڑھتا ہے، قدم قدم پر قاری کبھی خود کو سیّدالمرسلینﷺ خاتم النّبیینﷺ کی حیات مبارکہ کے ساتھ خود کو جُڑا ہوا محسوس کرتا اور اپنی خوش قسمتی پر فخریہ غرور کرتا ہے کہ وہ اس ہستیﷺ کی امت ہے، جس ہستیﷺ کے لیے اس پوری کائنات کو تخلیق کیا گیا۔

میں نے اس کتاب کو تقریباً ایک ڈیڑھ مہینہ بار بار پڑھا مگر میرے دل کی کیفیت بھی کم و بیش وہی تھی، جس کا ذکر غالباً مصنف نے دیباچے میں بھی کیا کہ اس موضوع پر قلم اٹھانا ہر گز آسان نہ تھا۔ میں ایک کے بعد ایک باب پڑھتی گئی اور یوں محسوس ہوتا میں اُسی دور میں ہوں جس کا ذکر باب میں ہو رہا ہے۔ اس میں ہر موضوع، ہر باب، ہر واقعہ پر سر پہلو سے اس قدر مکمل، جامع اور مستند معلومات یکجا کر دی گئی ہیں کہ مجھے محسوس ہوا اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔ نئی نسل جو صرف نصابی کتب میں ہی اسلامی یا دینی مضامین پڑھتی ہے اورر وہ بھی صرف نمبروں کی دوڑ میں اوّل آنے کی خاطر، اس نسل کی آبیاری اور بحیثیت مسلم اُمت اور بحیثیت عاشقانِ رسولﷺ ہمیں اس کتتاب کی طرف رجحان دلانا چاہیے۔ یہ لمحہ بہ لمحہ، واقعہ بہ واقعہ، ہر پہلو سے تمام انسانوں کی راہنمائی اور بھلائی کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی گزارے اور معاملات حیات کے لیے راہنمائی کرنے والی بہترین ساتھی ہے۔

اس کتاب میں مضامین لکھتے وقت زبان انتہائی سادہ مگر محبت و عشق سے پُر ہے۔ واقعات کا بیان اور ترتیب قرآن و سنت کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، نسل نو کو حقیقتوں سے روشناس کروانے اور ہمارے پیارے محبوب رسول اللہﷺ کی زندگی کے تمام پُرنور واقعات کو نہ صرف اسلامی اور دینی لحاظ سے پیش کیا، بلکہ سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی رُو سے بھی اور دیگر غیرمسلم مبلغ اور دانشوروں کے اقراری بیان اور تجربات بھی بتائے ہیں کہ کس طرح انہوں نے قرآن و سنت کے اس عالمگیر بیان کو نہ صرف مارنا بلکہ اس کی حقانیت کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔

صفحہ نمبر۹۰ پر لکھا ہے کہ

’’آج کا غیر مسلم محقق بھی اپنے تمام تر تعصب کے باوجود قرآن پاک اور حضورنبی کریمﷺ کی حقانیت کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کے ہاتھوں یہ تمام محققین کافر کی موت ہی مرے۔‘‘

اس کے علاوہ اس کتاب میں عربی حروف ابجد سے لے کر اہم واقعات کو یکجا کرنا اور پھر تمام حیات مبارکہ کا تسلسل بھی برقرار رکھنا بلاشبہ مصنف کی محبت و عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میرے ذاتی خیال میں، اس کتاب میں اسلامی طرز حیات معلوما، سوانح مبارکہﷺ اور اسلامی تاریخی واقعات کا یکجا ہونا عام انسان کے ساتھ ساتھ ان طلبا کے لیے بھی نافع ترین ہے جو پی ایچ ڈی، ایم فل یا سروس کمیشن کا امتحان دینا چاہتے ہیں۔ اس ایک کتاب میں اس مبارک موضوع پر انہیں وہ سب مل جائے گا جو اُن کی زندگیوں کو دین و دنیا دونوں طرح سے سنوارنے کے لیے کافی ہے۔

یہ لاجواب کتاب ’’ناشران بُک کارنر جہلم پاکستان‘‘ سے شائع ہوئی ہے اور اس کا ہدیہ صرف ۹۹۹روپے ہے جو کتاب کی اہمیت کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔ اسے آپ اس نمبر سے براہ براہِ راست یہ کتاب منگوا سکتے ہیں۔ 03215440882 \03235777931

کتاب کا سائز عام کتاب سے ذرا بڑا ہے تاکہ پڑھنے میں آسانی رہے اور سرورق انتہائی دیدہ زیب ہے۔ کاغذ معیاری اور درمیان میں کہیں کہیں حسب ضرورت آرٹ کلر پیپر پر تصاویر اہم مقامات اور نقشے اس کتاب کا حسن دو آتشہ کرتے ہیں۔ یہ کتاب ہر گھر کی زینت بنی چاہیے۔

(اُردو ڈائجسٹ نومبر2018ء صفحہ208)

USER RATINGS

RATE THIS BOOKS

Tell others what you think

RELATED BOOKS