ZORBA YUNANI زوربا یونانی

Zorba Yunani
<span dir='ltr' class='left text-left'>ZORBA YUNANI</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>زوربا یونانی</span>

PKR:   800/-

Author: NIKOS KAZANTZAKIS
Tag: MAKHMOOR JALANDHARI
Pages: 376
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-281-9
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS

آپ کے ہاتھوں میں اس وقت جو ناول ہے وہ دُنیا کے عظیم ترین ناولوں میں سے ہے۔ اس کے چھپتے ہی ساری دُنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا کہ ایک طویل مدت کے بعد ایسی کتاب لکھی گئی ہے جو قوموں کی زندگی اور تقدیر بدل دیتی ہے۔ اس ناول میں انسان کی نیکی اور ذہانت کے پھول ہیں۔ انسان کی بداعمالی اور شیطنت کے انگارے ہیں۔ شعلہ و گُل کے امتزاج سے یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس نے ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا ہے جس کو دوام حاصل ہو چکا ہے۔ دُنیا کی ہر زبان کے نامور ناقدوں نے اس ناول کو بے مثل اور عدیم النظیر قرار دیا ہے۔ دُنیا کی ہر زبان میں یہ ناول ترجمہ ہو چکا ہے۔ آج تک اس کی دس کروڑ جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اب اسے آپ کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ ناول جہاں ایک دلکش، دلچسپ اور لذت آفرین افسانہ ہے وہاں ایک حیات آموز درس بھی ہے۔ دراصل یہ ناول ایک ایسا طرزِ حیات ہے جس کی پیروی ہم سب کو کرنی چاہیے۔ ایک اچھی کتاب ہمارے لیے رفیقِ تنہائی ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ ہمیں زندگی گزارنے کا صحت مند شعور بھی بخشتی ہے۔ ایسا ایک ہی ناول پڑھنا ہزاروں رومانی، جاسوسی اور سطحی ناولوں سے قاری کو بے نیاز کر دیتا ہے۔ فرسودہ اور سستا ناول پڑھ کر آپ کا ذہن اور دل پراگندہ ہو جاتا ہے۔ مگر ایسا ناول پڑھ کر آپ کا ذہن و دل معطر ہو جاتا ہے۔ یہ ناول حقیقتاً بہترین تصورات کا مہکتا ہوا گلستان ہے۔

----

نیکوس کیزنزاکیس (18 فروری 1883ء - 26 اکتوبر 1957ء) کریٹ جزیرے کے شہر ہراکلیون میں پیدا ہوئے جو اُس وقت سلطنتِ عثمانیہ کے ماتحت تھا۔ وہ 1902ء میں ایتھنز آئے اور یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انھوں نے 1906ء میں آنرز کے ساتھ گریجویشن کی۔ 1907ء میں وہ پیرس چلے گئے اور وہاں فلسفے کی پڑھائی کی اور برگساں کے لیکچرز سنے۔ نیکوس کو بیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترجمہ کیے جانے والا ادیب و فلسفی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ تاہم انہیں حقیقی شہرت اس وقت ملی جب 1964ء میں معروف فلم ساز اور ہدایت کار مائیکل کاکویانس نے ان کے ناول ”زوربا دِی گریک“ پر شاندار فلم بنائی۔ دی میسج، لارنس آف عریبیہ، لااسترادا اور لائن آف دی ڈیزرٹ جیسی بہترین فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ہالی ووڈ اداکار انتھونی کوئن نے 1964ء میں فلم ”زوربا دِی گریک“ میں اداکاری کے ذریعے عالمگیر شہرت حاصل کی اور ’زوربا‘ کے کردار کو اَمر کر دیا۔ اس فلم کی کامیابی ان کے کیریئر کا ایک شاندار لمحہ تھا جس کے نتیجے میں انہیں بہترین اداکاری پر آسکر کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔ 1988ء میں نیکوس کے ایک اور ناول ”دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ“ پر بنی فلم نے انھیں ایک بار پھر بھرپور شہرت دلائی۔ نیکوس کو اپنے عظیم اور اعلیٰ ادبی کاموں پر مختلف برسوں میں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا جاتا رہا ہے۔

----

مخمور جالندھری کا اصل نام گوربخش سنگھ تھا۔ وہ ایک باکمال مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نظم نگار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز 1937ء میں ہوا۔ انہوں نے متعدد قلمی ناموں سے ”تھرلر“ ناول، ریڈیائی ڈرامے اور متفرق تحریریں لکھیں۔ کرنل رنجیت، زور آور سنگھ انھی کے قلمی نام ہیں۔ رُوسی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اُردو میں منتقل کرنے کا سب سے پہلا قدم مخمور جالندھری نے اُٹھایا۔ میخائیل شولوخوف کے ”کنوارے کھیت“ اور ”اور ڈان بہتا رہا“ انھی کے فن ترجمہ کے شاہکار ہیں۔ کنوٹ ہامسن کی ”بھوک“، میکسم گورکی کی ”دیوانہ ہے دیوانہ“ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے کئی شاہکار ناولوں کو اُردو کا پیراہن عطا کیا۔ انھوں نے ٹالسٹائی کے عظیم ناول ”جنگ اور امن“ کو بھی اُردو میں منتقل کیا تھا مگر پبلشر کی اچانک موت نے یہ ناول مسوّدوں کی بوسیدہ الماری میں دائمی طور پر مقفل کر دیا۔ امرتا پریتم کی شاعری اور ناول کو بھی اُردو قالب میں ڈھالا۔ مخمور جالندھری عمر بھر علم و ادب اور صحافت سے وابستہ رہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری 1979ء کو ہوا۔ نیکوس کیزنزاکیس کے ناول ”زوربا یونانی“ کا ترجمہ اپنی زبان، اُسلوب اور بیان کی بے پناہ طاقت کے باعث ترجمہ نگاری کی دُنیا میں ایک معیار قائم کرتا نظر آتا ہے۔

RELATED BOOKS